envato

Saturday, December 15, 2012

story

Story of life
ایک شخص نےاپنے بچوں کے لئے دمشق کے بازارمیں ایک درھم کی ایک خوبصورت رنگین چڑیا خریدی ۔ راستے میں چڑیا نے اس شخص سے کہا ؛ اے شخص مجھ سے تجھے کوئي فائدہ نہيں پہنچے گا ہاں اگر تو مجھے آزاد کر دے تو تجھے تین نصیحتیں کروں گی اور ہر نصیحت کی اہمیت وقیمت ایک خزانے کے برابر ہے ۔ دو نصیحت تو ابھی کئے دیتی ہوں کہ جب تیرے قبضے میں ہوں اور تیسری نصیحت اس وقت کروں گی جب تو مجھے آزاد کردے گا…

اس وقت درخت کی شا...خ پر بیٹھ کر کروں گی ۔ شخص نے سوچا ایک ایسی چڑیا کی زبانی ایک درھم میں تین نصیحتیں جس نے پوری دنیا دیکھی ہے اور ہر جگہ کا جس نے مشاہدہ کیا ہے گھاٹے کا سودا نہيں ہے ۔ اس نے چڑیا کی بات مان لی اوراس سے بولا چل اپنی نصیحت بیان کر۔
چڑیا نے کہا کہ : پہلی نصیحت یہ ہے کہ اگر کوئي نعمت تیرے ہاتھ سے چلی جائے تو اس کا افسوس مت کر؛ کیونکہ اگر حقیقت میں وہ نعمت دائمی اور ہمیشہ تیرے پاس رہنے والی ہوتی تو کب
ھی ضائع نہ جاتی ۔

دوسری نصیحت یہ ہے کہ اگرکسی نے تجھ سے کوئي محال اور ناممکن باتیں کرے تو اس پر ہرگز توجہ نہ دے اور اس کو نظرانداز کر دے ۔

مرد نے جب یہ دو نصیحتیں سنیں تو اس نے اپنے وعدے کے مطابق چڑیا کو آزاد کر دیا ۔ چھوٹی چڑیا فورا اڑ گئی اور درخت کی شاخ پرجا بیٹھی ۔

اب جبکہ چڑیا اس کے قبضے سے آزاد ہوچکی تھی تو وہ شاخ پر بیٹھ کرمسکرائي ۔ مرد نے کہا کہ اے چڑیا اب تیسری نصیحت بھی کردے !

چڑیا نے کہا : کیسی نصیحت !؟

اے بیوقوف انسان ، تو نے اپنا نقصان کیا ۔ میرے پیٹ میں دو قیمتی موتیاں ہیں جن کا وزن بیس بیس مثقال ہے میں نے تجھے جھانسا دیا اور تیرے قبضے سے آ‌زاد ہو گئی اگر تجھے معلوم ہوتا کہ میرے پیٹ میں کتنے قیمتی موتی ہيں تو تو مجھے کسی بھی قیمت پرآزاد نہ کرتا ۔

اب یہ سن کر تو مرد کو بہت ہی غصہ آیا اسےغصے میں یہ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ کرے تو کیا کرے ؟ وہ مارے افسوس کے اپنا ہاتھ مل رہا تھا اور چڑیا کو برا بھلا کہے جا رہا تھا ۔ بہرحال نے مرتا نہ تو کرتا کیا

مرد نے چڑیا سے کہا خیر اب جب تو نے مجھے ان دو قیمتی موتیوں سے محروم کرہی دیا ہے تو تیسری نصیحت تو کرہی دے ۔

چڑیا بولی : اے مرد ! ہاں ! ميں نے تجھ سے کہا تھا کہ اگر نعمت تیرے ہاتھ سے چلی جائے تو اس کا غم مت کرنا لیکن میں دیکھ رہی ہوں کہ تو مجھے رہا کرنے کے بعد کف افسوس مل رہا ہے تجھے اس بات کا صدمہ ہے کہ کیوں مجھے چھوڑدیا ۔ میں نے تجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئي محال اور ناممکن بات کرے تو اس پر توجہ مت دینا لیکن تو نے تو ابھی اسی وقت یہ بات مان لی کہ میرے شکم میں چالیس مثقال کے دوموتی ہيں ۔آخرخود میرا وزن کتنا ہے جو میں چالیس مثقال وزن اپنے شکم میں لے کراڑ سکوں گی ۔ پس معلوم ہوا کہ تو ان دونصیحتوں کے بھی لائق نہيں تھا اس لئے اب تیسری نصیحت بھی تجھے نہيں کروں گی کیونکہ تو اس کی بھی قدر نہيں کرے گا ۔

چڑیا یہ کہہ کرہوا فضا میں تیزی کے ساتھ اڑی اورمرد کی نظروں سے اوجھل ہوگئي

Thursday, December 13, 2012

دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے- جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے۔


ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیز کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں
وزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔

سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟

سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟

بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے ۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔اس کے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کے لئے کہا تو تمام دانشور اپنے دئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ کس نے کس کو سب سے بڑا دھوکا دیا لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہیں ہوا اور سزائے موت کے خوف سے بھیس بدل کر وہاں سے فرار ہوگیا ۔چلتے چلتے رات ہوگئی ،اسی دوران اس کو ایک کسان نظر آیا جو کھرپی سے زمین کھود رہا تھا۔ کسان نے وزیر کو پہچان لیا ،وزیر نے اس کو اپنی مشکل بتائی جسے سن کر کسان نے اس کے سوالوں کی جواب کچھ یوں دئے

دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے ۔
دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔
تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کےجواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا ،سلطنت تو تمہارے ہاتھ آئے گی۔ یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی اور اسے ہی اصطبل کا نگران بنانے کی بھی پیشکش کی۔کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا ۔وزیر نے سوچا کہ یہ تو آدھی سلطنت کا خواب دیکھ رہا ہے ۔وزیر جانے لگا تو کسان بولا کہ اگر بھاگ جاؤگے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے اور بادشاہ کے بندے تمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اور اگر پلٹو گے تو جان سے مارے جاؤگے۔یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے انکار کر دیا ۔اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ میں سے آدھا پی کر چلا گیا ۔کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لوتو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا ۔یہ سن کر وزیر تلملا گیا مگر اپنی موت اور جاسوسوں کے ڈر سے اس نے دودھ پی لیا۔وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف دیکھا اور اپنے سوال کا جواب مانگا
تو کسان نے کہا کہ
دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے
جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے۔




جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا

کہنے کو تو بادشاہ انصاف پسند اور عوام کے دکھ سکھ کو سمجھنے والا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ سے لنگڑا اور ایک آنکھ سے کانا تھا۔

ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔

اور وہ بھی اس شرط پر، کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔


سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔

اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے کانا،

اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سےبھی لنگڑا تھا۔

لیکن

اس اجتماعی انکار میں ایک مصور نے کہا: بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر۔

اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔

وہ کیسے؟؟

تصویر میں بادشاہ شکاری بندوق تھامے نشانہ باندھے ، جس کیلئے لا محالہ اُسکی ایک (کانی) آنکھ کو بند ،

اور اُسکے (لنگڑی ٹانگ والے) ایک گھٹنے کو زمیں پر ٹیک لگائے دکھایا گیا تھا۔

اور اس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویر تیار ہو گئی تھی۔

کیوں ناں ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویر بنا لیا کریں

خواہ انکے عیب کتنے ہی واضح ہی نظر آ رہے ہوا کریں!!

اور کیوں ناں جب لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں…. اُنکے عیبوں کی پردہ پوشی کر لیا کریں!!

آخر کوئی شخص بھی تو عیبوں سے خالی نہیں ہوتا!!

کیوں نہ ہم اپنی اور دوسروں کی مثبت اطراف کو اُجاگر کریں اور منفی اطراف کو چھوڑ دیں…… اپنی اور دوسروں کی خوشیوں کیلئے!!

ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث پاک کا ملخص اور مفہوم ہے کہ

(جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا)

Wednesday, December 5, 2012

کچھ باتیں پھولوں جیسی-ایک نوجوان کی شادی ہوتی ہے

کچھ باتیں پھولوں جیسی

ایک نوجوان کی شادی ہوتی ہے


وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے کہ وہ اس کے اس نئے ازدواجی سفر کے لیے برکت کی دعا کرے
جب وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے اس کا والد اُس سے ایک کاغذ اور قلم مانگتا ہے


لڑکا کہتا ہے : کیوں ابا جان ؟ اس وقت تو میرے پاس قلم اور کاغذ نہیں

باپ کہتا ہے : تو جاؤ ایک کاغذ ،قلم اور ربڑ خرید کر لاؤ

لڑکا شدید حیرانگی کے ساتھ جاتا ہے اور مطلوبہ چیزیں لیکر آجاتا ہے اور اپنے باپ کے پاس بیٹھ جاتا ہے

باپ : لکھو

کیا لکھوں

جو جی چاہے لکھو

نوجوان ایک جملہ لکھتا ہے

باپ کہتا ہے : اسے مٹا د و

نوجوان مٹا دیتا ہے

باپ : لکھو

بیٹا : خدارا آپ کیا چاہتے ہیں ؟

باپ کہتا ہے : لکھو

نوجوان پھر لکھتا ہے

باپ کہتا ہے : مٹا دو

لڑکا مٹا دیتا ہے

باپ پھر کہتا ہے : لکھو

نوجوان کہتا ہے : اللہ کے لیے مجھے بتائیں یہ سب کچھ کیا ہے

باپ کہتا ہے : لکھو

نوجوان لکھتا ہے

باپ کہتا ہے مٹا دو ۔ لڑکا مٹا دیتا ہے

پھر باپ اُ س کی طرف دیکھتا ہے اور اُسے تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے :

بیٹا شادی کے بعد اریزر کی ضرورت ہوتی ہے

اگر ازدواجی زندگی میں تمہارے پاس ربڑ نہیں ہو گا جس سے تم اپنی بیوی کی غلطیاں اور کوتاہیاں مٹا اور معاف کر سکو

اور اسی طرح اگر تمہاری بیوی کے پاس ایریزر نہ ہوا جس سے وہ تمہاری غلطیاں اور ناپسندیدہ باتیں مٹا سکے

اگر یہ سب کچھ نہ ہوا تو

تم اپنی ازدواجی زندگی کا صفحہ چند دنوں میں کالا کر لو گے

ایک دوسرے سے مقابلے کی بجائے مصلحت سے کام لیں ۔ شکریہ




Tuesday, December 4, 2012

Fulfilling a Promise story


Fulfilling a Promise




Ever since the beginning The girl’s family member disagree her relationship with the boy. Saying that because of family background, if she insist of being together with the boy, she’ll suffer for her whole lifetime.


Because of the pressure applied by family members, she frequently quarrel with him. The girl does love the boy, she used to ask him, “How much do you love me?” Because the boy is not good with words, he used to make her angry. With additional comment from her parents, her mood get even worse. The boy, has become her “anger releasing target”. And the boy, just silently allowed her to continuously release her anger on him. Read more after the break...


Later, the boy graduated from University. He plan to further study overseas but before he left. He proposed to the girl… ” I, don’t know how to say nice words but I do know that, I love you. If you agree, I am willing to take care of you, the whole life. About your family members, I will work hard to convince them and agree on us.”


“Marry me, will you?”, the girl agreed.


And her parents, looking at the effort shown by the boy, agreed with them. Finally, before the boy go oversea, they are engaged. The girl stay back in the hometown, step into the working society where as the boy continuing his study oversea. They maintained their relationship through telephone and letters. Although time is difficult to get through with, but both of them never give up.


One day, the girl left home for work as usual on her way to the bus stop, a car lose control and knock her down. As she awake from unconsciousness, she saw her parents and realize how seriously she got hurt and how fortunate of her, not to get killed.


Looking at her parents, with their faced got all wet by their tears, she tried to comfort them. But then, she found out that She can’t even spell out a word, she tried her best to make some voice but all she managed, was to breath without any voice. She’s mute. According to the doctor, the injury affected her brain, and that cause her to be mute for the rest of her life. Listening to her parents persuade, but can’t even reply with a single word, the girl collapsed. Throughout the days, others than crying silently, still it is crying.


Later, the girl discharged from hospital. Returning to her home, everything is still like before. Except that the phone ring, has turned into the worst nightmare of hers. Ring after ring, continuously stimulate her, stimulating her pain But she can’t tell the boy. She don’t want to be a burden to him, and wrote him a letter telling him that she no longer want to wait, the relationship between them ended, and even returned him the engagement ring. Facing the letters and telephone from the boy, all she can do, is to allow tears falling from her eyes.


Her father decided to move, after seeing the pain she is suffering. Hoping that she could forget everything and be happier into a new environment, the girl started to learn, slowly picking up sign language and start over again. Also telling herself to forget the boy.


One day, her best friend tell her that the boy’s back. He’s searching all around for her, she asked her best friend not to tell him about her and asked her to tell him to forget her. After that for more than a year there was no news of boy. One day her best friend tells her, that the boy is getting married soon, and passed the Wedding Card to her. She open the card sadly, but she found her name on the card.


The moment she want to ask her best friend, the boy appear in front of her. With an unfamiliar sign language, he told her ”I spent more than a year’s time, to force myself to learn sign language, in order to tell you, I have not forgot our promise, give me an opportunity, let me be your voice. I love you.”


Looking at the slow sign language by the boy, and the engagement ring she gave back to him, She finally smiled.




Moral: Do not be a coward and run away whenever there is a problem, remember that every problem has a solution, never ever break someone’s heart, you may not know when it will happen to you.