envato

Saturday, October 13, 2012

Quran Change Our Lives.... Agree?

پہاڑوں میں ایک بزرگ اپنے نوجوان پوتے کے ساتھ رہتے تھے۔وہ ھر روز صبح قرآن کی تلاوت کرتے تھے ان کا پوتا ھمیشہ ان جیسا بننے کی کوشش کرتا تھا۔

ایک دن پوتا کہنے لگا۔‘‘دادا میں بھی آپ کی طرح قران پڑھنے کی کوشش کرتا ھوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی, اور جو سمجھ آتی ھےجیسے ھی میں قرآن بند کرتا ھوں میں بھول جاتا ھوں۔ ایسے قران پڑھنے سے ھم کیا سیکھتے ہیں، مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، دادا نےخاموشی سے کوئلوں وال
ی ٹوکری ميں سے کوئلہ نکال کرانگھیٹی میں ڈالا اور جواب میں ٹوکری پوتے کو دے کر کہا "جاپہاڑ کےنیچے ندی سے مجھے پانی کی ایک ٹوکری بھر کر لا دے‘‘
لڑکے نے دادا کی بات پر عمل کیا لیکن گھر واپس پہنچنے تک تمام پانی ٹوکری میں سے بہ گیا۔ دادا مسکرایا اور کہا‘‘ "تم اس دفعہ اور زیادہ تیز قدم اٹھانااور جلدی کرنا‘‘اور اس کو واپس بھیج دیا۔

اگلی بار لڑکا بہت تیز بھاگا لیکن گھر پہنچنے تک ٹوکری پھر خالی تھی۔ پھولی ھوئی سانسوں سے اس نے دادا سے کہا کہ ٹوکری میں پانی لانا ناممکن ھے وہ بالٹی میں پانی لے آتا ھے۔داد نے کہا‘‘مجھے پانی کی بالٹی نھیں پانی کی ٹوکری چاھیئےتم ٹھیک سے کوشش نھیں کر رھے ھو‘‘اور اسے پھر سے نیچے بھیج کر دروازے میں کھڑا ھو کر دیکھنے لگا کہ وہ کتنی کوشش کرتا ھے۔
لڑکے کو پتہ تھا کہ یہ ناممکن ھے لیکن دادا کو دیکھانے کے لئے اس نے ٹوکری پانی سے بھری اور انتہائی سرعت سے واپس دوڑا-واپس پہنچنے تک ٹوکری میں سے پانی پھر بہ چکا تھا اور وہ خالی ھو چکی تھی.
لڑکے نے کہا "دیکھا دادا یہ بےسود ھے‘‘۔دادا نے کہا "ٹوکری کی طرف دیکھو‘‘لڑکے نے ٹوکری کی طرف دیکھا اور اسے پہلی بار احساس ھوا کہ ٹوکری پہلے سے مختلف تھی۔اب وہ پرانی اور گندی ٹوکری کی جگہ اندر اور باھر سے صاف ستھری ھو چکی تھی۔
دادا نے کہا‘‘بیٹا جب ھم قرآن پڑھتے ھیں چاھے ھم اس کا ایک لفظ بھی سمجھ نہ پارھے ھوں یا یاد نہ کر پا رھے ھوں پھر بھی اس کی تلاوت ھمیں اندر اور باھر سے ایسے ھی پاک صاف کر دیتی ھے۔اسی طرح اللہ تعالی ھماری زندگی بدل دیتا ھے ۔‘‘

With his young grandson in the mountains lived an old man. They used to recite the Quran every day of their grandson would always try to be like them.

Said grandson one day. 'Grandfather, I'm trying to read the Qur'an just like you but I do not understand, and who understand the close hyjysy I'm sorry I have forgotten., What we learn from studying the Qur'an , I do not use, grandfather of nykamusy kuylun Wall
The coal out of the box and put kranghyty grandchild in the car and said "I japhar kynycy river water by filling a basket by La '

Next time male ran very fast but again the basket was empty until arriving home. Defined Flower Basket breath, he told his grandfather that it is impossible to get in the water and fetch a bucket of water. Resolution said, 'I will not WATER bucket of water do not try cahyyytm well be moving cart 'and sending it down again is standing in the door and try to see how he does.

The boy said, "Look Grandpa, this is bysud. Grandfather said," Look at the basket 'boy looked at the basket and it was the first time realized that the basket was different. Now place the basket in old and dirty and had been clean from outside.
Grandpa said, 'Son, when we are reading the Qur'an do not understand a word of it parhy whether we are moving or can not remember reading that we are still the same pure, clean the inside and outside is. Similarly Allah He is our life will change. '

Monday, October 1, 2012

چیٹ کا انجام Must Read, Tag And Share With Others. Thanks



چیٹ کا انجام
Must Read, Tag And Share With Others. Thanks

انٹرنیٹ کے زریعے جیون ساتھی چننے والوں کے لئے ایک سبق آموزقصہ

میری زندگی کی یہ داستان ان لوگوں کے لئے عبرت انگیز بھی ہے اور اپنے اندر لمحہء فکریہ بھی رکھتی ہے جو اپنی خمار آلود جوانی کی سر مستیوں میں گم ہو کر معصیت کے بحرِ ظلمات میں بہتے ہوئے اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ بجز گناہ کے مکروہ تصور کے انہیں کچھ نظر نہیں آتا.
جہاں آج سائنس نے بے پناہ ترقی کرلی ہے وہاں اخلاق کو پامال کرنے والے زرائع اس کثرت سے سامنے آئے ہیں کہ ماضی میں انکا تصور تک محال تھا.آج انٹرنیٹ،سٹلایٹ ٹیلیویزن،موبائل فون کا استعمال عام ہے اور ان سب اشیاء تک نوجوان نسل کی پہونچ بہت آسان ہو گئی ہے. 
ماں باپ نے اپنی اولاد تک ان سب آسائشوں کی فراہمی کو بے حد آسان کر دیا ہے اور پھر مستزاد یہ کہ کسی قسم کی نگرانی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ انکی اولاد ان زرائع کا کیسا استعمال کر رہی ہے. 
نتیجہ یہ نکلتا ہے جب بات بگڑ جاتی ہے اور سر پر ہاتھ رکھ کر رونے کا وقت آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ خوابِ غفلت سے آنکھ تو کھلی مگر بہت تاخیر سے. سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آنے سے کیا فائدہ. سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے سے سانپ تو واپس آنے سے رہا.
میں نے انٹرنیٹ کے زریعے اخلاقی زوال کے بہت سے قصے پڑھے ہیں جن کا شکار ہونے والی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جنکی بربادی کی داستانیں چیٹنگ، پال ٹاکس وغیرہ جیسی ویب سائٹس سے شروع ہوکرنہ جانے پستی کی کن گھاٹیوں میں اختتام پذیر ہوتی ہیں. عموما ان چیٹنگ سائٹس پر معصوم بھیڑ کے روپ میں اپنا تعارف کرانے والے جنس پرست نوجوان سادہ اور بھولی بھالی لڑکیوں کو آہستہ آہستہ اپنے مکروفریب کے جال میں پھانس کر یکایک بھڑیے بن جاتے ہیں اور انہیں موقع ملتے ہی بیدردی سے نوچ کھسوٹ کر تباہی اوربربادی کے تاریک گڑہوں میں دھکیل دیتے ہیں جہاں اکثر اوقات ان کے لئے خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا.
میں نے ہر گز یہ نہ سوچا تھا کہ کبھی میں بھی ان قصوں کا حصہ بن جاؤنگا اور میری داستان بھی پڑھنے والوں کے لئے عبرت کا باعث بنے گی.میں ۳۵ سال کا نوجوان ہوں.دینی رجحان کا حامل ہوں اور پانچ وقت مسجد میں نماز ادا کرتا ہوں. اللہ کا خوف رکھتا ہوں اوراسکی اطاعت اور فرمانبرداری کا خواہاں رہتا ہوں. 
میں نہ ہی گانے سنتا ہوں نہ ہی ٹیوی چینلز پرفلمیں اور ڈرامے وغیرہ دیکھتا ہوں بلکہ اقراء اور مجد جیسے دینی چینلز سے دینی پروگرام دیکھتا رہتا ہوں. میں عمرِ عزیز کے پینتیسویں سال میں قدم رکھ چکا ہوں مگر تا حال کنوارہ ہوں جسکی وجہ شادی کے ہوشرباہ اخراجات اور مہرکی تگڑی رقم ہے جسکے باعث کثیر تعداد میں نوجوان شادی نہیں کر پارہے ہیں.
گزشتہ سال اللہ کے فضل و کرم سے مجھے خلیج کے ایک ملک میں ملازمت کا موقع ملا.میں ہمیشہ انٹرنیٹ پر اسلامی،ثقافتی اور اخباری ویب سائٹس دیکھا کرتا تھا اور مخرب الاخلاق اور گندی سائٹس دیکھنے سے قصدا اجتناب برتتا تھا تاکہ میرے 
اخلاق آلودہ نہ ہوجائیں.

اچانک ایک روز میری پاس ایک ایمیل آئی جو کہ اون لائن شادی کرانے والی ایک ویب سائٹ کی جانب سے تھی.میں اس کی ویب سائٹ پر گیا او ر اپنا نام رجسٹرڈ کرالیا تاکہ اپنی شادی کے لئے کوئی لڑکی تلاش کر سکوں.میرے دل میں کوئی شیطانی جذبہ نہ تھا . مقصد صادق تھا اور یہی خواہش تھی کہ اپنے لئے ایک نیک اور صالح شریکِ حیات ڈھونڈھ سکوں.
میں نے کبھی بھی مسنجر پر کسی لڑکی سے چیٹنگ نہیں کی تھی سوائے اپنے اہلِ خانہ کے اور اسکول کے دوستوں کے. کیونکہ میں جانتا تھا کہ لڑکیوں سے چیٹنگ کرنے سے اخلاق کا دیوالیہ ہو جاتا ہے اور معصیت کا راستہ کھل جاتا ہے.
اس ویب سائٹ پر خود کو رجسٹر ڈ کرنے کے ایک ماہ کے بعدمیرا تعارف ایک لڑکی سے ہوا جو میرے اقامتی شہر سے دور کسی اور عرب ملک کی باشندہ تھی. میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ وہ ایک اعلی اخلاق کی حامل اور اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والی ۲۳ سالہ دوشیزہ تھی.
ابتداء میں ہمارے درمیان ایمیل کا تبادلہ ہوا اور پھر ہم مسنجر پر چیٹ کرنے لگے اور یہیں سے شیطان نے اپنا عمل دخل بڑھا لیا وہ ہم دونوں کے درمیان تیسرا فریق بن گیا خصوصا جب ہمارے درمیان تصاویر کا تبادلہ ہو گیا.
ابتداًمیرا رویہ اسکے ساتھ نہایت محتاط تھا اور میں انتہائی سنجیدگی سے اسکے ساتھ اپنے مستقبل کے بارے میں بات چیت کرتا رہا. مجھے وہ لڑکی شادی کے لئے بے حد پسند آئی، 
اسکی عادات، اطوار کا میں قائل ہو گیا اور بالاخر ہم ایک دوسرے کے ساتھ شادی کے لئے ذہنی طور پر تیا ر ہو گئے اور ہم نے باہمی رضامندی سے ایک تاریخ طے کرلی جس دن میں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ اسکے ملک میں جاکر اسے بیاہنا تھا.
شادی کی تاریخ کا تعیین ہونے کے بعد میں ہماری مسنجر اور فون پر بات چیت کا دورانیہ کافی بڑھ گیا اور اسکے ساتھ ہیں ہماری گفتگو کے موضوعات میں بھی تبدیلی آتی گئی اور ہم رفتہ رفتہ اخلاقیات کی قیود سے باہر ہوتے گئے.
ہماری بات چیت نے معصیت کا لبادہ اوڑھ لیا اور یہ سوچ کر کہ دو ماہ بعد ہم شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے ہم نے اخلاق باختہ گفتگو کو اپنا شعار بنا لیا۔رات کے آخری پہر اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے کی بجائے میں اس لڑکی کے ساتھ غیر شائستہ اور شہوت انگیز گفتگو کرتا رہتا.
اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ میں طویل ترین مکالمات پر خرچ کرنے لگا تھا کیونکہ اس سے فو ن پرلمبی بات چیت کا اچھا خاصہ بل آتا تھا.
نہ جانے میری عقل کو کیا ہو گیا تھا. میں جو اپنے گھر ، اپنے اہل خانہ سے اتنی دور اس لئے آیا تھا کہ انکے اور اپنے معاشی حالات سنوار سکوں مگر میں بدقسمتی سے شدید غفلت کا شکار ہو گیا تھا۔ اپنے اہلِ خانہ سے مہینے میں دو بار با ت کرتا تھا مگر اس لڑکی سے روزانہ بات کئے بنا ء نہ رہ سکتا تھا. میں یہ ضرور سوچا کر تھا تھا کہ یہ میں کیا کر رہا ہوں ۔ 
میں اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ تو فضولیات پر صرف کر رہا ہوں، شادی کے لئے بچت کیسے کر پاؤں گا. دل کے کسی گوشے میں موجود جذبہء خیرروزانہ سونے سے پہلے میرا احتسا ب کرتا تھا اورمجھ سے ضرور سوال کرتا تھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو ، کس غفلت میں گرفتار ہو گئے ہو. 
اور میں اپنے ضمیر سے روزانہ یہ وعدہ کرتا تھا کہ آج کے بعد میں اس لڑکی سے معصیت بھری گفتگو سے احتراز کروں گا اور اس سے کسی بھی قسم کی غیر شائستہ اور عشقیہ مکالمات کا تبادلہ نہیں کرونگا اور اپنی گفتگو کے دوران اپنی تمام تر توجہ مستقبل کے لائحہ عمل پر مرکوز رکھونگا.
مگر رات کو اپنے آپ سے کئے ہووعدے صبح ہوتے ہوتے ذہن سے یکسر محو ہو جاتے اور میں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اخلاق کی تمام حدوں کو پار کرنے کی جستجو میں منہمک ہو جاتا، یہاں تک کہ میں اس لڑکی کے عشق کے جنون میں گردن گردن تک دھنس گیا.اسکے بغیر رہنے کے تصورسے بھی وہشت ہونے لگی.کبھی وہ ناراض ہو جاتی تو میں اسکی ناراضگی کے سبب رونے لگ جاتا. زندگی میں ہر چیز سے دلچسپی ختم ہوگئی تھی سوائے اسکی ذات کے.
اسکی شہوت انگیز چاہت میں مبتلہ ہوکر میں اپنی نمازوں سے غافل ہو گیا. کثرتِ شہوت کے سبب حالتِ جنابت میں رہنے کی وجہ سے اکثر نماز میں تاخیر ہو جاتی، یہاں تک کہ بعض اوقات نماز انتہائی سرعت کے ساتھ بغیر کسی خشوع و خضوع کے ادا کرتا کیونکہ دل اس لڑکی میں ہی اٹکا ہو ا ہوتا تھاکہ جلدی سے نماز ادا کروں او رکمپیوٹر پر جاکردوبارہ اس سے چیٹنگ شروع کروں جس نے میری روح وقلب پر قبضہ کر لیا تھا۔


وقت اپنی مخصوص رفتار کے ساتھ آگے سرکتا رھا. مجھے اس لڑکی سے متعارف ہوئے پانچ ماہ ہوچکے تھے.مجھے اس سے جنون کی حد تک عشق ہوگیا تھا اور میں اسکے ساتھ شادی کے لئے انتہائی مخلص اور اپنے ارادہ میں مصمم تھااور اسکے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا.. 
ایک روز میں نے اسکے بھائی کو فون کیا اورتمام صورتحال اسے بتاکر اس کی بہن سے شادی کاعندیہ ظاہر کیاجسے اس نے سراہا اور اپنی موافقت کا اظہار کیا جسے میں نے اپنے لئے نیک فال قرار دیا.
مگر ایک روز سارے خواب ریزہ ریز ہ ہوگئے، شیشۂ دل کرچی کرچی ہو کر چار سو بکھر گیا، امیدوں کا تاج محل یکلخت زمین بوس ہو گیاجب اچانک اسکے اہلِ خانہ نے شادی سے صرف اس لئے انکار کر دیا کہ میں انکا ہم وطن نہیں تھا اورانکی خوبصورت اور حسین بیٹی کے مقابلے میں میرا رنگ سانولہ تھا.
میرے دل کی دنیا آباد ہونے سے پہلے ہی اجڑگئی. 
ہم دونوں کے لئے یہ ایک عظیم صدمہ تھا.مگر ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بے بس اورلاچار تھے کہ ہمارے درمیان فاصلوں کی بے کراں خلیج حائل تھی جسے عبور کرنا ہمارے بس میں نہیں تھا، لہذا ہم نے حالات کے آگے سرنگوں کرنے کا فیصلہ کر لیا.
مگریہ میری زندگی کا سخت ترین اور انتہائی تکلیف دہ فیصلہ تھا. مجھے یقین نہیں آرھا تھا کہ میرے خواب یوں چکناچور ہو جائیں گے.لیکن میں نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دے دی کہ اس میں بھی اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی اور یہ کہ اللہ کا ہر حال میں شکر واجب ہے.
میں خود کو دلاسے دیتا رہا مگر شیطان اپنی خباثت کے جال میرے ارد گرد بنتا رہا اور میرے دل میں وسوسوں کے انبار لگاتا رہاکہ تم اتنی آسانی کے ساتھ کیوں ہار مان رہے ہو، وہ لڑکی بھی تم سے شدید محبت کرتی ہے اور تمہارے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے جبکہ میں شدت کے ساتھ شیطانی خیالات کی نفی کرتا رہا کہ اس میں بھی میرے رب کی جانب سے میرے لئے کوئی بہتری اور مصلحت پوشیدہ ہے. 
ایمان اور وسوسو کی اس جنگ میں بالاخر شیطان کی جیت ہو گئی اور تین دن تک شیطان سے جھگڑنے کے بعد میں نے اس لڑکی سے دوبارہ فون پر رابطہ قائم کر لیا. وہ بھی میرے طرح حزن وملال کی کیفیت سے دوچار تھی. 
ہم نے اس امید پر اپنے تعلقات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاکہ ہم اسکے اہل خانہ کو اس رشتے پر راضی کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے کیونکہ ہم دونوں ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ ایک دوسرے کے بناہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے.
اللہ کی مصلحت کہ ہمارے تعلقات میں ایک تلخ موڑ اس وقت آیا جب میں نے اس سے ہر قسم کی چیٹنگ سے اجتناب برتنے کو کہا مگر میرے سختی اور نرمی سے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اس موقف پر قائم رہی کہ اسے چیٹنگ میں لطف آتا ہے.میں اسکے رویہ کی بناہ پر سخت کبیدہ خاطر تھا، 
مگر جانتا تھا کہ وہ بھی شیطان کے پنجے میں جکڑی ہوئی ہے جبکہ میںیہ چاہتا تھا کہ ہم شادی کے بعد زندگی اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری میں گزاریں.یہاں مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ میں اسے اچھے اور مناسب انداز میں سمجھاتا اور چیٹنگ سے باز رکھنے کے لئے مناسب حکمت عملی کی مظاہرہ کرتا مگر مجھ سے بہت بڑی حماقت سرزد ہوگئی کہ میں نے اس کے ساتھ انتہائی سخت اور اہانت امیزرویہ اختیار کیا
اورلفظوں کے نشتروں سے اسکی روح کو چھلنی کر دیا.میں ہر حال میں اسے چیٹنگ سے باز رکھنا چاہتا تھا اور اسکی ضد نے مجھ سے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صلب کرلی تھی اور نادانستگی میں مجھ سے ایسا رویہ سرزد ہوگیا کہ وہ مجھ سے اس طرح روٹھی کہ سارے تعلقات بیک جنبش ختم کر دئے اور شادی سے کلیتاً انکار کر دیا. میری زندگی رنج والم کا عنوان بن گئی اور میں اس اذیت ناک زندگی پر موت کو فوقیت دینے لگا.میں نے اس لڑکی کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کرلی، 
اس سے اپنے نامناسب رویہ کی معافی بھی طلب کرلی اور ہر وہ طریقہ اختیار کیا جس سے روٹھے محبوب کو منا یا جاسکتا تھا مگر اس پتھر میں دراڑ نہ پڑسکی اور میرے سارے کوششیں بے سود ثابت ہوئیں.
میری تمام ترکوششوں کے باوجود جب لڑکی کے رویہ میں رتی برابر بھی لچک پیدا نہ ہوئی اور میری زندگی میں آہوں اورآنسوؤں کے سوا جب کچھ نہ بچا تو مجھے خیال آیا کہ میری یہ حالت میرے گناہوں کا نتیجہ ہے کہ میں نے راہ حق چھوڑ کر شیطان کا معصیت بھرا راستہ چنا. 
اور یہ بات بھی واضح ہوئی کہ انسان اللہ کا بتایا ہوا سیدھا راستہ چھوڑ کر شیطان کی پرپیچ اور پرخار راہ اپناتا ہے تو وہ ایسا کر کے خود کو ہلاکتوں میں ڈالتا ہے اور میں نے بھی خود کو اپنے ہاتھوں برباد کیا. میں نے گمراہی اور ضلالت سے تائب ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور اسکا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے توبہ کی مہلت دی اور حالتِ گمراہی میں میری روح قبض نہ کی.
اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے جو کہ بندے کی سمجھ میں فوراً نہیں آتی. 

سورۃبقرۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : وعسی ان تکرھوا شیئاً وھو خیرلکم۔ وعسیٰ ان تحب شیئاً وھو شر لکم (البقرۃ ۲۱۶ ) ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو .اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو) 

میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ ہمارے درمیان اختلافات نے جنم لیااور ہمارے تعلقات کشیدہ ہوگئے. بیشک بظاہر میرے سارے خواب چکنا چور ہوگئے اوراس کے ساتھ مستقبل کے حوالے سے جو تانے بانے بنے تھے وہ سب ریت کا ڈھیر ثابت ہوئے. مگر اللہ کے راز وہی جانتا ہے. اس سلسلے میں جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا وہ مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کرنے اور، اللہ کے حضور تائب ہونے کا سبب بنا.
تائب ہو کر سب سے پہلے میں نے جو کام کیا وہ کمپوٹر سے مسنجرکو حذف کردیا، چیٹنگ سے کنارہ کشی اختیار کی اور انٹرنیٹ کے زریعے شریکِ سفر کی تلاش موقوف کردی کیونکہ یہ سلسلہ دراز ہو کر گمراہی ، 
ہلاکت اور اللہ سے دوری کا سبب بنتا ہے. میں رب کریم کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے راہ ہدایت عطا کی اور پانچ ماہ کی غفلت کے بعد ایمان کی حلاوت کا دوبارہ مزا چکھا. میں اللہ کا احسان مند ہوں کہ وہ لڑکی کسی دوسرے ملک میں مقیم تھی اگرخدانخواستہ وہ اسی ملک میں مقیم ہوتی جس میں میں رہ رہا ہوں تو نہ جانے شیطان معصیت کے کتنے گہرے گڑھے میں مجھے دھکیل دیتا.
یہ انٹرنیٹ اور چیٹنگ کے حوالے سے میری عبرت انگیز داستان ہے جس نے مجھے اللہ سے دور کردیا تھا اور تباہی اور بربادی کے دہانے پر لا چھوڑا تھا.اگر اللہ کا خاص کرم اور احسان نہ ہوتا اور اگر یہ سلسلہ دراز ہوتا جاتا تو نہ جانے میرا کیا انجام ہوتا. 
جو لوگ انٹرنیت چیٹنگ کی بھول بھلیوں میں گم ہوکر وقتی لذت اور سرور حاصل کرنے کی خاطر گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں اور اپناقیمتی وقت اور توانائیاں ضائع کرتے ہیں میری ان بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ ان سبق آموز قصوں سے نصیحت حاصل کریں جو انٹرنیٹ چیٹنگ کے
باعث اخلاقی بگاڑ کا شکار ہو کر اپنی دنیا اور آخرت کو بر باد کر دینے والوں کے تعلق سے پڑھنے کو ملتے ہیں . اگر آپ کے پاس فارغ وقت ہے اور آپ انٹرنیٹ سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں آپ کو بیشمار اسلامی اور مفید سائٹس ملیں گی جہان سے وہ آپ اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دین کا علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مفید معلومات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
اسکے علاوہ اس داستان میں ان لوگوں کے لئے بھی ایک سبق موجود ہے جو انٹرنیٹ کے زریعے شادی کرنا چاہتے ہیں.اس میں بہت دھوکے ہوتے ہیں. دوسرے کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا شخص یا خاتون جھوٹ کا سہارا لیکر اپنے متعلق غلط بیانی سے کام لیکر اور حقائق کو چھپا کر شادی کرلیتے ہیں اور جب حقیقت آشکار ہوتی ہے تو پچھتاوے اور عمر بھر آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا . 
اس کا زیادہ تر شکار لڑکیاں ہوتی ہیں.اگر آپ ایک ہی شہر میں رہتے ہیں تو سامنے والے فریق کے متعلق معلومات مہیا کر سکتے ہیں مگر سرحدوں کے پار بسنے والے کسی بھی ایسے شخص سے متعلق جس سے آپکی جان پہچان صرف انٹرنیٹ پر ہوئی ہے ، درست معلومات کا حصول مشکل ہوتا ہے اور اسی لئے اس چینل کے زریعے ہونے والی شادیاں عموما جلد ہی اپنے منطقی انجام یعنی طلاق پر منتج ہوتی ہیں ، الا ماشاء اللہ.
لہذا اس بات سے بھی بچنا چاہیے اور شادی بیاہ کے لئے مروجہ اصولوں کو بروئے کار لانا چاہئے، خصوصا لڑکیوں کو اس قسم کے جال سے بچنا چاہئے اور اپنے ماں باپ کی مرضی اور رضا کے مطابق شادی کرنی چاہئے. 
دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں .بظاہر جو چیز دور سے خوشنما لگتی ہے ، قریب سے اسکا بھداپن اور بدنمائی واضح ہوجاتی ہے. وقتی خوشی اور مسرت کے بجائے انسان کو دائمی خوشیوں اور مسرتوں کی تمنا اور دعا کرنی چاہئے اور اسکے لئے کوششیں بھی کرنی چاہئے.سراب کے پیچھے بھاگ کر اپنا وقت، توانائیاں اور دین و ایمان تباہ کرنے کی بجائے حقیقتوں کے سامنے رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کے شر اور دھوکوں سے بچنا چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہمرکاب بنیں اور پرسکون زندگی میسر آئے.
اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھ سمیت سارے بہن بھائیوں کو دین کا صحیح علم اور فہم عطا کرے اور وہ اپنے فارغ اوقات کو مثبت انداز میں صرف کریں اور انٹر نیٹ کے منفی استعمال سے بچیں اور دوسروں کو بچنے کی تلقین کریں اور انکی اسلامی سائٹس کی جانب راہنمائی کریں۔ آمین