envato

Monday, September 24, 2012

Scarf and women -realty of truth

Scarf and women -realty of truth

"تم نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا تھا حیا ! کہ میں ہر وقت اسکارف کیوں پیہنتی ہوں؟"

عائشے سر جھکائے لکڑی کے ٹکڑے کا کنارہ تراشتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ "
میں تمہیں بتاؤں ‘ میرا بھی دل کرتا ہے کے میں وہ خوبصورت لباس پہنوں
جو بیوک ادا میں استنبول یا اٹلی اور اسپین کی لڑکیاں پہن کر آتی ہیں۔


بلکل جیسے ماڈلز پہنتی ہیں اور جب وہ اونچی ہیل کے ساتھ ریمپ پہ چلتی آ رہی ہوتی ہیں
تو ایک دنیا ان کو محسور ہو کر دیکھ رہی ہوتی ہے۔
میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں بھی ایسے اسمارٹ اور ٹرینڈی ڈیزائنر لباس پہن کر جب سڑک پہ چلوں تو لوگ محسور و متاثر ہو کر مجھے دیکھیں۔۔۔۔۔
لیکن---
وہ سانس لینے کو رکی، حیا بنا پلک جھپکے ، سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔
"لیکن...
پھر مجھے خیال آتا ہے۔ یہ خیال کہ ایک دن میں مر جاؤں گی،
جیسے تمہاری دوست مر گئی تھی اور میں اس مٹی میں چلی جاؤں گی،
جس کے اوپر میں چلتی ہوں۔
پھر ایک دن سورج مغرب سے نکلے گا اور زمین کا جانور زمین سے نکل کر لوگوں سے باتیں کریگا اور لال آندھی ہر سو چلے گی-
اس دن مجھے بھی سب کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔
تم نے کبھی اسٹیڈیمز دیکھے ہیں جن میں
بڑی بڑی اسکرینز نصب ہوتی ہیں؟
میں خود کو ایسے ہی اسٹیڈیم میں دیکھتی ہوں۔
میدان کے عین وسط میں کھڑے۔ اسکرین پہ میرا چہرا ہوتا ہے اور پورا میدان لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔
سب مجھے ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور میں اکیلی وہاں کھڑی ہوتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں حیا،
اگر اس وقت میرے رب نے مجھ سے پوچھ لیا کہ انا طولیہ کی عائشے گل،
اب بتاؤ تم نے کیا‘ کیا؟ یہ بال‘ یہ چہرا‘ یہ جسم‘ یہ سب تو میں نے تمہیں دیا تھا-
یہ نہ تم نے مجھ سے مانگ کر حاصل کیا تھا
اور نہ ہی اس کی قیمت ادا کی تھی۔
یہ تو میری امانت تھی۔ پھر تم نے اسے میری مرضی کے مطابق استعمال کیوں نہیں کیا؟
تم نے اس وہ کام کیوں کیئے جن کو میں نا پسند کرتا ہوں؟
تم نے ان عورتوں کا رستہ کیوں چن لیا جن سے میں ناراض تھا؟"
میں نے ان سوالوں کے بہت جواب سوچے ہیں،
مگر مجھے کوئی جواب مطمئن نہیں کرتا۔
روز صبح اسکارف لینے سے پہلے میری آنکھوں کے سامنے ان تمام حسین عورتوں کے دلکش سراپے گردش کرتے ہیں
جو ٹی وی پہ میں نے کبھی دیکھی ہوتی ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ میں بھی ان کا راستہ چن لوں،
مگر پھر مجھے وہ آخری عدالت یاد آ جاتی ہے،
تب میں سوچتی ہوں کہ اس دن میں الله کو کیا جواب دوں گی؟
میں ترازو کے ایک پلڑے اپنا وہ سراپا ڈالتی ہوں جس میں،
میں خود کو اچھی لگتی ہوں اور دوسرے میں وہ جس میں،
میں الله تعٰالی کو اچھی لگتی ہوں۔
میری پسند کا پلڑا کبھی نہیں جھکتا۔
الله کی پسند کا پلڑا کبھی نہیں اٹھتا۔
تم نے پوچھا تھا کہ میں اسکارف کیوں لیتی ہوں؟
سو میں یہ اس لیئے کرتی ہوں
کیونکہ میں الله کو ایسے اچھی لگتی ہوں۔

Wednesday, September 19, 2012

True Story Of Muhammad Ali's Life Lessons Through His Daughter's Eyes

Muhammad Ali's advice to his daughters...

The following incident took place when Muhammad Ali's daughters arrived at his home wearing clothes that were not modest. Here is the story as told by one of his daughters:

When we finally arrived, the chauffeur escorted my younger sister, Laila, and me up to my father's suite. As usual, he was hiding behind the door waiting to scare us. We exchanged man
y hugs and kisses as we could possibly give in one day.

My father took a good look at us. Then he sat me down on his lap and said something that I will never forget. He looked me straight in the eyes and said, "Hana, everything that God made valuable in the world is covered and hard to get to. Where do you find diamonds? Deep down in the ground, covered and protected. Where do you find pearls? Deep down at the bottom of the ocean, covered up and protected in a beautiful shell. Where do you find gold? Way down in the mine, covered over with layers and layers of rock. You've got to work hard to get to them."

He looked at me with serious eyes. "Your body is sacred. You're far more precious than diamonds and pearls, and you should be covered too." Source: Taken from the book: More Than A Hero: Muhammad Ali's Life Lessons Through His Daughter's Eyes