envato

Monday, July 9, 2012

2nd Khalifa Hazrat Umar Farooq (RA) justices - True Story Of History


Holy Prophet's uncle Abbas (RA) was found in the Mosque of Prophet's house and the house collapses into the channel was the Prophet's Mosque. Some time to drain the water would hurt worshipers. Away the caliphate of Hazrat Umar (RA) For convenience of the worshipers were akhrua water spout. the time of Hazrat Abbas (RA) were not present in the house. Hazrat Abbas (RA) was very angry when he came home. judge, he immediately approached by e Abi Ibn Ka'b (RA) Hazrat Umar (RA) that Allah's name frman issued upon your uncle has filed suit against RA to her due date for the trial court and follow. traveling Umar b Prophet Hazrat Abi bin Ka'b to the date of RA were present at home.

Hazrat Ibn ibn Ka'b (RA) within the house were involved in resolving the problems that Hazrat Umar Farooq (RA) for a very long standing and waiting outside had not. Case was presented to some of the Hazrat Umar RA Abi bin Ka'b wanted but were stopped by and said that the first plaintiff is entitled to claim.
Hazrat Abbas (RA) began the process of case stated that Mr. superb! Channel of my house from the beginning was the Prophet's Mosque, Allah's blessings after alh information traveling in the caliphate of Abu Bakr (RA) was there. But Hazrat Umar (RA) channel in my absence I have akhrua justice is provided as my loss.
Hazrat Abi bin Ka'b (RA) said: Surely you must be fair, rich Believers! You want to say in his defense? Qazi said. Hazrat Umar RA replied: Qazi Saheb, sometimes spattered with his nose to the worshipers were flying. Worshipers of the water spout in order to rest and I think it akhrua is not permitted. Ka'b Ibn Abi (RA), Hazrat Abbas (RA) that he wishes to draw attention?
Hazrat Abbas (RA) replied: Qazi Sahib is the fact that the Messenger of Allah rejected his stick that I marked on the map, I just had open house. Water spout was himself brought before the install here. Holy He ordered me to stand on your shoulders and keep water spout here because I refuse to respect you. but many insist that the Holy Prophet and I was standing on the shoulders and put it where rich water spout Believers have the akhrua.
Qazi said that the event could produce any witnesses? Hazrat Abbas (RA) immediately went out and brought to the Ansar who testified that indeed the water spout traveling Abbas ra tu hukrnsb was standing on the shoulders of the Prophet. Trial testimony eyes bent at the end of the Caliphate He was humble way. It was awesome and they fear Caesar and vernier rulers were afraid too. Hazrat Imam Abbas ahead amrfaruq RA RA said:
Hazrat Ibn Abbas (RA) said: Yes, that justice requires such a vast empire and then saw that the power to rule on the side wall to provide justice and Hazrat Abbas (RA) channel installedApologies for bad manners.

حضور اکرمؐ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا مکان نبی کریمؐ کی مسجد سے ملا ہوا تھا اور گھر کا پر نالہ مسجد نبوی میں گِرتا تھا۔ بعض دفعہ پر نالے کے پانی سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پرنالہ اکھڑوا دیا۔ اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو انہیں بہت غصہ آیا۔ انہوں نے فوراَ قاضی سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام فرماں جاری کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا نے آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اس لیے مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ہوں اور مقدمے کی پیروی کریں۔حضر ت عمر رضی اللہ عنہ مقررہ تاریخ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ہوگئے۔

حضرت ابن بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کے اندر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف تھے اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کافی دیر باہر کھڑے ہو کر انتظار کر نا پڑا۔ مقدمہ پیش ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کچھ کہنا چاہا لیکن ابی بن کعب نے انہیں روک دیا اور کہا کہ مدعی کا حق ہے کہ وہ پہلے دعوی پیش کرے۔
مقدمے کی کاروائی شروع ہوئی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بیان دیا کہ جناب عالی! میرے مکان کا نالہ شروع سے ہی مسجد نبویؐ کی طرف تھا، رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کے بعد حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی یہیں تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری عدم موجودگی میں نالہ اکھڑوا دیا مجھے انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ میرا نقصان ہوا ہے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک تمہارے ساتھ انصاف ہوگا، امیر المومنین! آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟ قاضی نے پوچھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دیا: قاضی صاحب، اس پرنالے سے بعض اوقات چھینٹیں اڑ کر نمازیوں پر پڑتی تھیں۔ نمازیوں کے آرام کی خاطر میں نے پرنالہ اکھڑوا دیا اور میرا خیال ہے یہ ناجائز نہیں ہے۔ ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: قاضی صاحب اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کردئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں میں نے ایسے ہی کیا ۔پرنالہ خود حضورؐ نے یہاں نصب کروایا تھا۔ حضورؐ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپؐ کے کندھوں پر کھڑا ہو کر یہاں پرنالہ لگاؤں میں نے آپؐ کے احترام کی وجہ سے انکار کیا۔ لیکن حضورؐ نے بہت اصرار کیا اور میں نبی کریمؐ کے کندھوں پر کھڑا ہوگیا اور یہ پرنالہ یہاں لگایا جہاں سے امیر المومنین نے 
اکھڑوا دیا۔
قاضی نے پوچھا آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے ہیں ؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باہر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواہی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضورؐ کے کندھوں پر کھڑے ہوکرنصب کیا تھا۔ مقدمے کی گواہی کے ختم ہونے بعد خلیفہ وقت نگاہیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑا تھا۔ یہ وہ حکمران تھا جس رعب اور خوف سے قیصر و کسری بھی ڈرتے تھے۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرمایا:
"اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ نالہ خود نبی کریمؐ نے یہاں لگوایا ہے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا۔ جو غلطی مجھ سے ہوئی وہ لاعلمی میں ہوئی آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کریہ نالہ وہاں لگادیں"۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والے حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے۔ پر نالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا امیر المومنین میں نے جو کچھ کیا اپنے حق کے لیے، جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا اب میں آپ سے بے ادبی کی معافی مانگتا ہوں۔

اس کے ساتھ ہی حضر عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور امیر المومنین کو اختیار دیا کہ وہ مکان گِرا کر مسجد میں شامل کر لیں تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی سے جو تکلیف ہوئی وہ بھی کم ہوجائے ۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہماری عدالتوں کو بھی حق کا فیصلہ دینے کی توفیق دے اور ایسے حکمران بھی دئے جو خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھیں۔آمین

No comments:

Post a Comment