envato

Friday, June 29, 2012

My Ideology is Islam and My Life Identity is Become Pure Muslim - Story of my life

which seemed to him as he appeared tall and achievements rbrhty floors are agreed, it was the confidence I had risen. in their inner space, a strange feeling ... it was a strange lack. this kamayar life was apparently higher, as confidence in her was broken. kahl he wanted, was not sjhayy mgrasy solution.
acquisition by the demands of conscience, despite thinking he had failed to understand, fail altogether.

Islamic values. Islam was not interested in him, not positive or negative, that Islam is a fiction of the past, a forgotten story'' and'' a monument of stones was considered. when his earsIslam is the biggest barrier to women's rights cause.

about Muslims will be radically changed, or perhaps kruaghunt'' It does not like to drink, perhaps even bother.

The research started with a senior social worker by the state and religion without any discrimination and justice for all human welfare was the appellant. After that meeting he realized that justice, humanity and universal values ​​of freedom aurahtram which are greater than other religions, Islam does utrgyb invitation. It was a great discovery, was the fact that they do not easily accept.

Abdullah also described undeniable facts and highlights the relationship of God, a comprehensive description of a book before it, a philosophy and a thinker and writer, was not in theory. he started to think that this optioncompetition from other religions and religious rights of women, so it was above all to Islam, then he's hzurakrm framyn, blessed the lives of your companions looked perfect and complete example of the Quranic instructions and the mirror showed Jamil, the other major religions and faiths,'' see'' only'' Ghazi gftarky ... and finally the moment came when he decided that he wants to relax, only Islam can be achieved by accepting. its internal bay tabyun and anxiety can be cured only by faith and not practical solutions adventures have become a Muslim.

special kind of learned from slavery and humiliation. now lbhany hearts of others never make up for hours. was now free from this slavery. aprdh Mir was still just my whole body except hands and faceI was wrong, Praise! and appellant now I am also a supporter of women's rights, which allows Muslim women to their responsibilities adakryn faith, a good Muslim to help their husbands, their children they like to train hard and follow the religion of humanity in darkness stray light into the lighthouse.

وہ امریکہ کے قلب نیویارک میں پیداہوئی۔ اس کی ابتدائی جوانی ایک امریکی لڑکی ہی کی طرح گزری۔اس کاایک ہی شوق تھاکہ امریکا کے عظیم شہر کی تفریح بھری زندگی کی جاذبیت اور دلکشی کی دوڑ میں حصہ لے اورسب سے آگے نکل جائے۔لیکن اسے لگتا تھا کہ اس کی کوشش جس قد ربڑھتی اور وہ جتنا بظاہر کامیابیوں کی منزلیں طے کرتی جاتی ،اس کی بے اعتمادی میں اسی قدراضافہ ہوتا جاتا تھا۔وہ اپنے باطن میں ایک انجانا سا خلا…ایک عجیب سی کمی محسوس کر رہی تھی۔اس کامعیار زندگی بظاہر جتنا اونچا ہو رہا تھا،اس کا اندر کا اعتماد اتنا ہی ٹوٹتا جا رہا تھا۔وہ اس کاحل چاہتی تھی ،مگراسے کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
آخر وہ اس زندگی سے تنگ سی آگئی ۔تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اس نے خود کو نشے کے حوالے کردیا،مگر اندر کی بے کلی تھی کہ بجائے کم ہونے کے بڑھتی ہی جارہی تھی۔کسی نے اسے مشورہ دیاکہ خود کو مصروف رکھ کر وہ ان سوچوں سے جان چھڑاسکتی ہے،چنانچہ وہ حقوق نسواں کی ترجمان سماجی کارکن کے طور پر فلاحی اور رفاہ عامہ کے کام کرنے لگی،اس نے بہت کم عرصے میں اس میدان میں بھی فتح کے جھنڈے گاڑدیے، اوراس کے نام کاہرطرف ڈنکا بجنے لگا،مگر …مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی … جس رفتار سے اس کی ترقی میں اضافہ اوراس کے کیریئر میں نکھار آرہا تھا،اسی سرعت سے اس کے اندر کی خود اعتمادی کا بت ریزہ ریزہ ہوتا جارہا تھا۔آخر وہ کیاچیز ہے جس کے حصول کا اس کے ضمیر کی طرف سے مطالبہ ہے،وہ بہت سوچنے کے باوجود سمجھنے میں ناکام تھی،یکسر ناکام۔

اچانک س کی زندگی میں نائن زیرو آگیا…ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کی تباہی کے بعد اس نے دیکھاکہ ہر طرف سے اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔ہندو،یہودی اورعیسائی دنیا اگر اپنی توانائیاں کسی چیز کے خلاف صرف کررہی ہے تو وہ اسلام اور اسلامی اقدار ہیں۔اسلام سے اسے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی،نہ مثبت نہ منفی،وہ اسلام کو ماضی کا ایک افسانہ،ایک بھولی بسری کہانی اور''پتھروں کے دور''کی ایک یادگار سمجھتی تھی۔جب اس کے کانوں میں ہرطرف سے یہ آوازیں گونجنے لگیں کہ اسلام عورتوں کا استحصال کرتا اور اسے گھر کی نوکرانی اورشوہر کے پاؤں کی جوتی سے زیادہ کوئی مقام نہیں دیتا،تواس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اپنی آواز بھی اس اسلام مخالف ''شوروغوغا''میں شامل کرلے،بلکہ اسے اس کی شہرت اور معاشرے میں ایک اسٹیٹس کا حامل ہونے کی وجہ سے اس بات کی باقاعدہ پیشکشیں ہونے لگیں۔اس نے پہلے تو سوچا کہ وہ بھی اس رو میں بہہ جائے ،کیوں کہ وہ عورتوں کی آزادی کی علمبردارہے اور بزعم خویش اسلام حقوق نسواں کی راہ کی سب سے بڑی دیوار ہے۔

پھر جانے کیوں …اس نے فیصلہ کیا کہ پہلے تحقیق کرلینی چاہیے۔اسے یقین تھا کہ اس کی تحقیق اس کی اسلام مخالفت میں مزید شدت کاباعث بنے گی،اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس تحقیق سے اس کی اپنی رائے اسلام اورمسلمانوں کے بارے میں یکسر بدل جائے گی،ورنہ شاید وہ ''یہ کڑواگھونٹ ''پینے کی شاید زحمت بھی گوارا نہ کرتی۔

تحقیق کی ابتدا اس نے ایک ایسے سینئر سماجی کارکن سے ملاقات کے ذریعے کی،جو بلا تفریق ملک و مذہب سارے انسانوں کے لیے انصاف اور فلاح و بہبود کا داعی تھا۔اس ملاقات کے بعد اسے احساس ہوا کہ انصاف،آزادی اوراحترام انسانیت آفاقی اقدار ہیں،جن کی دوسرے مذاہب سے بڑھ کر اسلام دعوت وترغیب دیتا ہے۔ یہ اس کے لیے ایک بڑا انکشاف تھا،جسے وہ آسانی سے قبول نہیں کرسکتی تھی۔

اس نے ایک اسلامک ریسرچ سینٹر سے رابطہ کر کے قرآن مجید کا ترجمہ حاصل کیا اور اس کا مطالعہ کرنے لگی۔پہلے تو قرآن کے اسلوب و انداز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا، پھر اس کتاب میں کا ئنات، انسان اور زندگی کے بارے میں بیان کردہ ناقابل تردید حقائق نیز عبد و معبود کے رشتے پر جو روشنی ڈالی گئی ہے،ایسی جامع تفصیل اسے اس سے قبل کسی کتاب،کسی فلسفے اور کسی مفکر و مصنف کی تھیوری میں نظر نہیں آئی تھی۔وہ بے اختیار یہ سوچنے لگی کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا…اس انقلابی کتاب ہدایت نے اس کے اندر گویا ایک بھونچال سا برپا کردیا۔اس نے دیکھا کہ قرآن نے اپنی تعلیمات کا مخاطب براہ راست انسان اور اس کی روح کو بنایا ہے۔اس نے قرآن میں بیان کردہ عورت کے حقوق کا مقابلہ دوسرے ادیان و مذاہب سے کیا،تو اس میں بھی اسلام کو سب سے بڑھ کر پایا،پھر اس نے حضوراکرم ۖ کے فرامین ،آپ ۖ کے صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں کو دیکھا تو قرآنی ہدایات کا کامل و مکمل نمونہ اور عکس جمیل نظر آیا،جب کہ دوسرے ادیان و مذاہب کے ''بڑے''اسے صرف ''گفتارکے غازی''نظر آئے… اور آخرکار وہ لمحہ آگیا جب اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ جس سکون کیلئے بیتاب ہے، وہ صرف اسلام قبول کرکے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔اس کی داخلی بے تابیوں اور اضطراب کا علاج صرف ایمان سے ہوسکتا ہے اور اس کے مسائل کا حل مہم جوئی میں نہیں عملی مسلمان بننے میں ہے۔

وہ اب اسلامی زندگی سے زیادہ دیر دور بھی نہیں رہ سکتی تھی،اس نے اسلام قبول کرکے ایک مسلمان مردسے نکاح کرلیا۔ اس نے ایک برقعہ اور سر اور گردن کو ڈھکنے والا اسکارف خرید لیا ،جو ایک مسلم عورت کا شرعی لباس ہے۔سب کچھ ویسا ہی تھابس ایک چیز بدلی ہوئی تھی یعنی اس کا اندرونی اطمینان وسکون اورخود اعتمادی اور تحفظ کا احساس…گویا وہ حقیقی آزادی کی منزل سے اب ہمکنار ہوئی ہو۔ وہ اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کرتی ہے:

''میں بڑی خوش تھی کہ ان آنکھوں میں اب تعجب اور دوری کے آثار تھے ،جو پہلے مجھ کو ایسے دیکھتے تھے جیسے شکاری اپنے شکار کو اور باز ننھی چڑیا کو۔ حجاب نے میرے کندھوں کے ایک بڑے بوجھ کو ہلکا کردیا اور مجھے ایک خاص طرح کی غلامی اور ذلت سے نکال دیاتھا۔اب دوسروں کے دلوں کو لبھانے کیلئے میں گھنٹوں میک اپ نہیں کرتی تھی۔ اب میں اس غلامی سے آزاد تھی۔ابھی تک میر اپردہ یہ تھا کہ صرف ہاتھ اور چہرے کو چھوڑ کر میرا پورا جسم ڈھکا ہوتا،میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں چہرہ بھی ڈھکنا چاہتی ہوں ، اس لیے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے رب کو زیادہ راضی کرنے والا عمل ہوگا،انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی،وہ مجھے ایک دکان پر لے گئے جہاں میں نے ایک عربی برقعہ خریدا اور مکمل شرعی پردہ کرنے لگی۔آج مجھے اپنے فحش لباس کو اتار کر اورمغرب کی دلربا طرز زندگی کو چھوڑ کر اپنے خالق کی معرفت و بندگی والی ایک باوقار زندگی کو اختیار کرنے سے جو مسرت واطمینان کااحساس ہوا ہے میں اس کی کوئی مثال نہیں دے سکتی …میری وہ سہیلیاں جو میرے ساتھ حقوق نسواں کے محاظ پر مصروف کار تھیں،مجھے ڈراتی تھیں کہ اسلام قبول کرکے تم ایک عضو معطل بن کر رہ جاؤ گی،مگر یہ ان کی کم فہمی یا اسلام کے بارے میں غلط سوچ تھی،الحمدللہ!اب میں بھی عورتوں کے حقوق کی حامی و داعی ہوں،جو مسلم عورتوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی ایمانی ذمہ داریوں کو اداکریں، اپنے شوہروں کی ایک اچھا مسلمان بننے میں مدد کریں،اپنے بچوں کو اس طرح تربیت دیں کہ وہ استقامت کے ساتھ دین پر جم کر اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کیلئے مینارہ نور بن جائیں''۔




Thursday, June 21, 2012

Stories of Karachi Girls


کراچی میں اوباش لڑکوں کے کئی پڑھی لکھی اور امیر خاندانوں کی لڑکیوں سے دوستی کر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کو متعدد لڑکیوں کی جانب سے ایس درخواستین بھی موصول ہوئی ہیں ج میں متایا گیا ہے کہ ان کی فحش وڈیوز بنا کر مارکیٹ میں فروخت کی گئی ہیں۔ سٹیزن پولیس لیاسن کمیٹی اور کراچی پولیس کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں ملیر، سعودآباد ، ڈیفنس ، کلفٹن ، گلستان جوہر ، گلشن اقبال اور ناظم آباد سمیت دیگر علاقوں میں لڑکوں کے ایسے گروہ موجود ہیں جو لڑکیوں سے پلاننگ کے تحت دوستی کرنے کے بعد انہین من پسند مقامات پر بلاتے ہیں جہاں ان کو دوستی کے نام پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے
 جب کہ لڑکیوں کی ویڈیو بنا کر انہین بلیک میل کیا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکیوں کی ویڈیوز مارکیٹ میں عام کرنے کیلئے لڑکوں کے ساتھ ڈی وی ڈیزز کا کاروبار کرنے والے دکاندار ملوث ہوتے ہیں جواں عمر ، کم عمر ، بڑھی لکھی اور شریف گھرانوں کی لڑکیوں کی فحش وڈیوز کو چند ہزار روپوں کےعیوض مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ جنہیں دکاندار موبائل کلپس کی صورت میں پھیلا دیتے ہیں۔جب کہ کئی لڑکوں کے گھر والوں کو ان ہی دڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر کے بھاری رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہےکراچی پولیس کے مطابق دوستی کے نام پر لڑکیوں کی عزت اور زندگی سے کھیلنے والے ایک گروہ کو گرفتار کیا جا چکا ہے جس نے لڑکیوںکو بلیک میل اور ان کی فحش وڈیوز بنانے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوستی کے نام پر لڑکوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے والی لٹرکیاں خوف کی وجہ سے گھر والوں اور پولیس کو کچھ بھی نہیں بتاتیں جس کی وجہ سے ملزمان تک پہچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دیگر شہروں ملتاں گوجرانوالہ راولپنڈی اسلام آباد بھی ایسے ہی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن لڑکیاں رسوائی کی 
وجہ سے خاموش رہتی ہیں





زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

Monday, June 18, 2012

ماڈل گرل بننے کے شوق میں آبرو گنوا کر قاتلہ بن جانے والی لڑکی کی کہانی




ماڈل گرل بننے کے شوق میں آبرو گنوا کر قاتلہ بن جانے 

والی لڑکی کی کہانی
 




’’تزئین! تم بہت خوبصورت ہو اور ماڈلنگ کیلئے بھی آئیڈیل ہو۔ تم ماڈلنگ کیوں نہیں کرتیں؟ میں نے جب اپنے بارے میں یہ الفاظ میک اپ آرٹسٹ عینی کے منہ سے سنے تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں واقعی اتنی خوبصورت ہوں کہ ماڈل بھی بن سکتی ہوں۔ میں نے عینی سے پوچھاکہ کہیں تم میرا مذاق تو نہیں اڑارہی۔ تو عینی نے قسم کھائی کہ میں واقعی بہت خوبصورت ہوں اور مجھے ماڈل بننے کی پیشکش کی۔ ہر لڑکی کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ میں ماڈل بن کر مشہور ہوجائوں، لہذا میں نے رضامندی ظاہرکردی اور یہیں سے میرے برے دنوں کا آغاز ہوا اور اب میں ماڈل کے بجائے ایک قاتلہ بن گئی ہوں، جس نے3 افراد کا قتل کیا ہے۔ میں نے ان تین افراد کی جان لی ہے جو ماڈل بننے کی خواہش مند لڑکیوں اور لڑکوں کو نشہ آور ادویات پلاکر ان کے ساتھ زیادتی کرتے تھے اور پھر اس کی ویڈیو بناکر انہیں بلیک میل کرتے تھے۔ میں نے ان لوگوں کو مار کر مزید لڑکیوں کو بے آبرو ہونے سے بچالیا ہے اور اب چاہے مجھے سزا ہوجائے، لیکن میں نے جو کیا ہے، اس کا مجھے کوئی پچتھاوا نہیں ہے‘‘۔ تزئین عرف جیسمین ’’احوال‘‘ کو یہ سب بتانے کے بعدکچھ دیرکیلئے خاموش ہوگئی اور توقف کے بعد سر جھٹک کر کہنے لگی کہ آپ جو کچھ پوچھیں گے، اس کا میں سچا جواب دوں گی، تاکہ ماڈل بننے کی خواہشمند لڑکیاں میری کہانی سے سبق حاصل کریں اور ان درندوں کی بھینٹ نہ چڑھیں۔ تزئین عرف جیسمین نے اپنی کہانی کا آغاز کچھ اس طرح کیا: ’’ یہ 7 سے 8 ماہ پہلے کی بات ہے کہ میرا ایک سہیلی کی شادی میں ناظم آباد کے شادی ہال میں جانا ہوا۔ ہال میں میری ایک جاننے والی لڑکی نے مجھے قراۃالعین عرف عینی سے ملوایا۔ عینی نے مجھے دیکھتے ہی میری خوبصورتی کے قصیدے پڑھنا شروع کردیئے۔ اپنے حسن کی تعریف سن کر میں عینی سے دوستی کر بیٹھی۔ پھر جب عینی نے مجھے ماڈلنگ کی دنیا کے حسین خواب دکھائے اور لاکھوں روپے ملنے کی امید دلائی تو میں اس کے جال میں پھنس گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارتی ڈراموں کا گلیمر اور فلمی ہیروئنزکی پرتعیش زندگی دیکھ کر کبھی کبھار میرا بھی جی چاہتا تھا کہ کاش میں بھی کوئی مشہور ہیروئن یا ماڈل گرل ہوتی۔ لوگ میرے حسن کے دیوانے ہوتے اور میں لاکھوں میں کھیلتی اور خوب عیش والی زندگی گزارتی۔ اس کے بعد میری اور عینی کی فون پر بات چیت ہونے لگی اور ایک دن اس نے مجھے ایک اچھے ریسٹورنٹ میں اپنی کچھ خوبصورت تصویروں کے ساتھ آنے کیلئے کہا۔ میں تو جیسے اسی انتظار میں تھی۔ اس رات میں بار بار گھڑی دیکھتی رہی کہ جلدی سے صبح ہو اور میں عینی سے جاکر ملوں۔ صبح ہوئی تو میں تیار ہوکر مقررہ وقت کا شدت سے انتظار کرنے لگی۔ اس وقت میں بے حد خوش تھی، کیونکہ عینی نے مجھ سے ایک ماڈل گرل پروموٹر سے ملوانے کا وعدہ کیا تھا۔

جب میں ریسٹورنٹ میں پہنچی تو عینی کے ساتھ ایک 30 سالہ نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ عینی نے میرا اس شخص سے تعارف واجد مغل کے نام سے کرایا اور کہا کہ واجد مغل ایک بہت بڑا پروموٹر اور ڈائریکٹر ہے جو مجھے بہت جلد ایک مشہور ماڈل گرل بنادے گا۔ اس دوران واجد مغل نے مصافحہ کیلئے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں نے بھی جھجھکتے ہوئے ہاتھ آگے کردیا۔ میری ہچکچاہٹ کو دیکھ کر عینی نے مجھ سے کہا کہ شوبز کی دنیا میں ایسے ہی ملا جاتا ہے۔ ابھی عینی نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ واجد مغل بول پڑا کہ تزئین! آپ کو تو خدا نے خوب فرصت سے بنایا ہے۔ آپ تو پیدا ہی ماڈلنگ کیلئے ہوئی ہیں۔ یہ سن کر میں خوشی سے پھولی نہیں سمارہی تھی۔ اپنی خوبصورتی اور خوش نصیبی پر میں دل ہی دل میں نازکر رہی تھی۔ واجد مغل نے مجھ سے کہا کہ تم جو تصویریں لائی ہیں یہ ہیں تو اچھی، پر ان میں پروفیشنل ازم نہیں ہے۔ تم ایسا کرو کہ کسی وقت عینی کے ساتھ میرے آفس آجانا، میں تمہارا زبردست قسم کا فوٹو شوٹ کرا دوں گا۔ میں اگلے ہی دن عینی کے ہمراہ حاجی کمرشل کے ایک فلیٹ میں چلی گئی۔ وہاں واجد مغل نے ایک فوٹو گرافر اور میک اپ آرٹسٹ کو بلوا کر مجھے تیارکرایا اور میری مختلف پوز میں تصویریں بنوائیں۔ یوں میرا واجد مغل سے ملنا جلنا اور اس کے آفس ’’9T ڈگری پروڈکشن ہائوس‘‘ میں آنا جانا شروع ہوگیا۔ واجد مغل مجھے اور عینی کو اکثر آئس کریم برگر اور ڈنرکھلانے لے کر جاتا رہتا تھا۔ آہستہ آہستہ عینی نے مجھے سگریٹ اور وہسکی پلانا شروع کردی۔ میرے منع کرنے پر وہ کہتی تھی کہ اگر تم بولڈ اور گلیمرس نہیں بنو گی تو اس فلیڈ میں نہیں چل پائو گی۔ جب اسی طرح ایک دو ماہ گزرگئے تو میں نے واجد کو ماڈلنگ کا کام دلوانے کا کہنا شروع کردیا، جس پر وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا کہ ابھی ابھی تو آئی ہو۔ پہلے شوبزنس کے طور طریقے تو سیکھ لو۔ واجد مغل آگرہ تاج کا رہائشی تھا اور ایک دو بار اس نے مجھے اپنے گھر چلنے کا کہا تو میں نے کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر اسے ٹال دیا۔9T ڈگری پروڈکشن ہائوس میں اور بھی کئی ماڈلنگ اور ڈراموں میں کام کرنے کے شوقین لڑکیاں اور لڑکے آتے جاتے رہتے تھے، جن میں سے چند ایک کو واجد مغل نے ماڈلنگ اور ڈراموں میں کام بھی دلوایا تھا۔9T ڈگری میں ہی میری ملاقات ریحان نیازی سے ہوئی۔ ریحان نیازی کھاتے پیتے گھرانے کا ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ وہ مجھ میں کافی زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر میری ریحان سے گہری دوستی ہوگئی اور ایک دوسرے سے تنہائی میں بھی ملنے لگے۔ اس دوران میری ملاقات واجد مغل کے دوست ایڈووکیٹ فہیم الکریم سے ہوئی۔ اکثر دفتر میں ہماری ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ بھی ہوتی رہتی تھی۔ فہیم الکریم کی 9T ڈگری میں بڑی عزت تھی،کیونکہ ایک تو وہ واجد مغل کا دوست تھا اور دوسری جانب واجد کے ساتھ مل کر مختلف پروجیکٹس پر سرمایہ کاری بھی کرتا تھا۔ یوں ہی دن گزرتے گئے اور آخر کار میرے باربار اصرار پر واجد مغل نے مجھے ایک مقامی میگزین کے فیشن پیج کیلئے کام بھی دلوادیا۔ میرا پہلاکام سب کو پسند آیا، لہذا مجھے اوپر تلے دو تین اور کام بھی مل گئے، مگر میرا معاوضہ واجد مغل نے مجھے نہ دیا جو تقریباً 36 ہزار روپے بنتا تھا۔ میں جب بھی واجد مغل سے اپنے معاوضے کا تقاضہ کرتی تو وہ اور فہیم الکریم مجھے کہتے کہ ابھی کمپنی سے پے منٹ نہیں آئی ہے، جب آئے گی تو تمہیں دے دیں گے۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ واجد مغل مجھ میں دلچسپی لے رہا ہے،کیونکہ وہ مجھ سے اپنے ساتھ باہرکھانا کھانے کی ضد کرنے لگا تھا۔ ایک دو مرتبہ واجد مغل نے میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی تو میں نے اسے ڈانٹ دیا اور کہا کہ میں صرف ماڈلنگ کرنے آئی ہوں اور اس بات کا تذکرہ میں نے عینی سے بھی کیا۔ جس پر عینی نے کہا کہ یہ گلیمر کی دنیا ہے، یہاں سب چلتا ہے۔ واجد مغل نے تمہیں کام دلایا ہے تو اب ’’کمپرومائز‘‘ بھی کرو۔ جس پر میں نے عینی سے کہا کہ وہ واجد مغل کو سمجھائے، لیکن عینی نے میری بات ہنس کر ٹال دی۔

اس کے بعد میں جب بھی واجد مغل کے پاس جاتی تو وہ مجھ پر طنز کرتا کہ میڈم تو بڑی ماڈل بن گئی ہیں، شکایتیں کرتی ہیں۔ میری اور ریحان نیازی کی دوستی پر بھی واجد مغل کو اعتراض تھا۔ وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ تم ریحان سے دور رہا کرو۔ تمہیں اپنا کیرئیر بنانا ہے، جبکہ ریحان نیازی تمہیں اپنی ترقی کیلئے سیڑھی کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ یہ سن کر میں خاموش ہوجاتی تھی۔ اس کے بعد ایک دن عینی کا فون آیا کہ تم پروڈکشن ہائوس آجائو۔ میں وہاں گئی تو اس وقت آفس میں واجد مغل اور عینی موجود تھے۔ عینی میرے اور واجد مغل کیلئے شربت بناکر لائی اور خود یہ کہہ کر باہر چلی گئی کہ مجھے ایک کلائنٹ کو راستہ سمجھانا ہے۔ جب میں نے شربت پیا تو میرا سر بھاری ہونے لگا۔ اسی دوران واجد مغل نے میرا ہاتھ پکڑکر مجھے اپنی طرف کھینچا تو میں نے مزاحمت کی۔ اس کے بعد مجھے چکر سا آیا اورمیں بے ہوش ہوگئی۔ جب مجھے ہوش آیا تو کمرے میں میرے علاوہ واجد مغل اور عینی موجود تھے۔ میں نے فوراً واجد مغل سے پوچھا کہ اس نے مجھے کیا پلایا ہے تو اس نے مجھے جواب دینے کے بجائے اپنا موبائل فون میرے آگے کردیا، جس پر میرے ساتھ واجد مغل کی جانب سے کی جانے والی زیادتی کی ویڈیو چل رہی تھی۔ واجد مغل نے کہا کہ ماڈل صاحبہ، ویڈیو پسند آئی۔ جس پر میں رونے لگی اور میں نے واجد مغل کا موبائل اس کے سر پر دے مارا اور اس کا گریبان پکڑ لیا۔ میں نے واجد مغل اور عینی کو گالیاں دیں اورکہا کہ میں پولیس کو بتائوں گی تم لوگوں نے سازش کرکے میری عزت لوٹی ہے۔ یہ سن کر واجد مغل نے مجھ سے کہا کہ ہم یہ ویڈیو انٹرنیٹ اور ایم ایم ایس کے ذریعے پھیلادیں گے اور ایک ایم ایم ایس ریحان نیازی کو بھی کردیں گے۔ یہ سن کر میں خوفزدہ ہوگئی۔ واجد مغل اور عینی یہ بات جانتے تھے کہ میں ریحان نیازی میں دلچسپی لے رہی ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مالدار اور خوبصورت بھی تھا۔ میں نے واجد مغل کے سامنے ہاتھ جوڑے اورکہا کہ خدا کیلئے اس ویڈیوکو ڈیلیٹ کردو، لیکن وہ مجھے بلیک میل کرتا رہا کہ میں ابھی اسے ریحان نیازی کے موبائل میں بھیج رہا ہوں۔ پھر عینی نے مجھ سے کہا کہ تزئین! بڑی کامیابی کیلئے چھوٹی موٹی قربانیاں تو دینا پڑتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد میں پریشان رہنے لگی تو ریحان نیازی نے مجھ سے میری پریشانی کا سبب پوچھا۔ وہ میرا دوست بھی تھا اور میں اس سے پیار بھی کرتی تھی، لیکن اس کے باوجود میں نے اسے کچھ نہیں بتایا۔ اس دوران واجد مغل مجھے اپنے دفتر میں آنے والے مختلف لوگوں سے ملواتا رہا۔کسی کو وہ فنانسر ظاہر کرتا اورکسی کو ڈائریکٹر اور مجھے انہیں خوش کرنے کا کہتا اور پھر ویڈیو بنا کر مجھے بلیک میل کرتا۔ یہ سلسلہ جاری تھا اور میں تیزی سے برائی کی دلدل میں دھنستی جارہی تھی، جس کا مجھے بے حد ملال تھا۔ دوسری جانب ریحان نیازی میرے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مجھ سے مختلف سوالات کرنے لگا تھا۔ میں اس کو سب بتادینا چاہتی تھی کہ واجد مغل نے میرے ساتھ کیا کیا اور اب مجھے کس طرح استعمال کررہا ہے۔ آخر کار میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں ریحان نیازی کو ساری حقیقیت بتادوں گی اور پھر میں نے ریحان نیازی کو ساری حقیقت بتادی، جس پر ریحان غصے میں بے قابو ہوگیا۔ میں نے بڑی مشکلوں سے اسے سنبھالا اور کہا ہم مناسب موقع دیکھ کر اس سے بدلہ لے لیں گے۔ لیکن ریحان نیازی نے کہا کہ صرف بدلہ نہیں لینا، بلکہ میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا۔

میں سمجھی کہ اس کا غصہ اس وجہ سے ہے کہ واجد مغل نے میری عزت تار تار کردی ہے، لیکن اس نے جو انکشاف کیا، وہ میرے لئے بھی چونکا دینے والا تھا۔ ریحان نیازی نے بتایا کہ وہ بھی واجد مغل اور عینی کے ہاتھوں بلیک میل ہورہا ہے اور اب تک ان کو لاکھوں روپے دے چکا ہے۔ ریحان نیازی نے بتایا کہ اس کو واجد مغل نے عینی کے ذریعے پھنسایا ہے۔ عینی، ریحان کو اپنے گھر لے گئی تھی اور وہاں اسے شراب پلائی، جس کے نتیجے میں ریحان بہک گیا اور واجد مغل نے دونوں کی قابل اعتراض حالت میں ویڈیو بنالی۔ بعدازاں وہ ریحان نیازی کو بلیک میل کرنے لگا کہ میں یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال دوں گا اور تمہارے والد کو بھی دے دوں گا۔ اسی وقت سے ریحان نیازی واجد مغل کو رقم ادا کررہا تھا۔ میں اور ریحان نیازی دونوں واجد مغل کے ڈسے ہوئے تھے، جس پر ہم نے واجد مغل اور عینی سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ واجد مغل ہمیں فہیم الکریم سے ڈراتا تھا کہ وہ وکیل ہے اور اس کے اعلیٰ افسران سے تعلقات ہیں۔ ہم نے واجد مغل، عینی اور فہیم الکریم کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا اور مناسب موقع کی تاک میں رہنے لگے۔ پھر اچانک واجد مغل نے حاجی اسٹریٹ والا دفتر چھوڑ دیا۔ وہ میرا اور ریحان کا فون بھی اٹینڈ نہیں کرتا تھا۔ میں نے عینی سے ایک دوسری ماڈل لڑکی کے ذریعے فون پر رابطہ کرکے ان کے نئے آفس کا ایڈریس حاصل کرلیا اور ایک دن اچانک میں اور ریحان نیازی، واجد مغل کے نئے دفتر جو ڈیفنس فیز 2 ایکسٹینشن میں واقع تھا، پہنچ گئے۔ ہم نے واجد مغل سے فون ریسیو نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میں شفٹنگ میں مصروفت تھا، لہذا فون اٹینڈ نہ کرسکا۔ میں نے اور ریحان نے منصوبے کے تحت ناراضگی کے بجائے دوستی کا رویہ اختیارکر کے واجد مغل اور عینی کا اعتماد حاصل کرلیا۔ واجد مغل نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ دفتر میرا اور فہیم الکریم کا مشترکہ دفتر ہے۔ میں اس میں شوبزنس کا کام کروں گا اور فہیم اپنی وکالت کا کام کیا کرے گا۔ تمہارا جب جی چاہے، یہاں آتے جاتے رہا کرو۔ واجد مغل نے مجھ سے کہا کہ تمہاری پے منٹ بھی ملنے والی ہے، لیکن میں نے اس روز پے منٹ لینے میں کوئی خاصی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اسی طرح اگلے روز بھی شام کے وقت واجد مغل کے دفتر میں جاکر گپ شپ لگا کر ہم دونوں واپس نکلے اور ایک ریسٹورینٹ میں بیٹھ کر قتل اور پیسوں کی وصولی کی پلاننگ کرنے لگے۔ میرا خیال تھا کہ واجد مغل سے ہمیں کوئی خاص رقم ملنے کی توقع نہیں ہے اور عینی تو ہے ہی ایک معمولی سی میک اپ آرٹسٹ، ہاں البتہ فہیم الکریم مالدار پارٹی ہے۔ اگر اس کو قابو کرلیا جائے تو اچھا خاصا پیسہ وصول کیا جاسکتا ہے۔ میں نے اور ریحان نیازی نے مل کر واردات کیلئے درست وقت اور طریقہ طے کیا اور ریحان نے اگلے دن پستول لانے کا کہہ کر مجھے میرے گھرکورنگی سوکواٹر پر ڈراپ کردیا۔ مجھے اپنی ذہانت اور ریحان پر پورا بھروسہ تھا کہ ہم بدلہ لینے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور پیسہ بھی مل جائے گا اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوگی۔وہ5 ستمبرکا دن تھا۔ ریحان شام 8 بجے مجھے میرے گھر سے پک کرنے آیا۔ ہم رکشہ میں بیٹھ کرڈیفنس فیز2 میں واقع واجد کے دفتر پہنچے تو عینی اور واجد کے علاوہ ایک دو اور لوگ بھی دفتر میں موجود تھے، لیکن فہیم الکریم موجود نہیں تھا۔ میں نے عینی اور واجد سے باتوں ہی باتوں میں فہیم کے آنے کی تصدیق کروالی اور مطمئن ہوکر گپ شپ کرنے لگے۔کچھ دیر بعد غالباً ساڑھے دس بجے دیگر لوگ چلے گئے اور تقریباً ساڑھے گیارہ بجے فہیم دفتر میں آگیا۔ فہیم نے آتے ہی کہا کہ مجھے اپنے کے ای ایس سی والے کیس پر بہت کام کرنا ہے اور سر میں بھی شدید درد ہے۔کوئی خدا کا بندہ اچھی سی چائے بناکر پلا دے۔ میرے لیے یہ بہترین موقع تھا، اسی لیے میں نے فوراً کہا کہ آپ سب تھکے ہوئے ہیں، میں وی آئی پی چائے بناکر آپ سب کو پلاتی ہوں۔ یہ کہہ کر میں کچن میں چائے بنانے چلی گئی، جبکہ واجد اور ریحان لیپ ٹاپ پر ماڈلز کی تصویریں دیکھنے لگے۔ فہیم اپنے کاغذات میں گم ہوگیا اور عینی صوفے پر نیم دراز ہوکر موبائل پر باتیں کرنے لگی۔ میں نے چائے میں25سے 30 نیند کی گولیاں ڈالیں، جبکہ اپنی چائے میں نے پہلے ہی الگ کرلی تھی اور ریحان چائے نہیں پیتا تھا۔ عینی، فہیم اور واجد کو چائے کے کپ پیش کرنے کے بعد میں کچن سے اپنا کپ اٹھا لائی اور عینی کے برابر میں بیٹھ کر چائے پینے لگی۔ چائے پیتے ہی عینی پر فوراً غنودگی چھا گئی، جس کا کسی نے نوٹس نہیں لیا، جبکہ فہیم نے ایک ہی گھونٹ میں پورا چائے کا کپ پی ڈالا اور صوفے پر ہی بے ہوش ہوگیا۔ لیکن جب واجد نے چائے کا گھونٹ بھرا تو کہنے لگا کہ تزئین! تم نے اتنی کڑوی چائے بنائی ہے۔

واجد کا اتنا ہی کہنا تھا کہ ریحان اور میں نے ایک ساتھ واجد پر حملہ کردیا۔ ریحان بری طرح واجد کو پیٹنے لگا۔ اسی دوران ایک کال واجد کے موبائل فون پر آئی، جسے واجد نے ریسیوکرلیا اور ریحان سے کہا کہ خدا کیلئے مجھے مت مارو۔ ریحان نے واجد سے موبائل فون چھین کر کال کاٹ دی اور ہم دونوں اس کے ہاتھ پیر باندھ کر اسے باتھ روم میں لے گئے اور اسے لاتیں اور گھونسے مارنے لگے۔ اتنے میں واجد نے اٹھنے کی کوشش کی تو میں نے اپنے پرس سے پستول نکال کر اس پر تان لی۔ ریحان نے واجد کے بال پکڑ کر اس کا منہ کموڈ پر مارا تو اس کے ناک سے خون بہنے لگا اور پھر جنون کی حالت میں ریحان نے واجد پرگولی چلادی، جبکہ ریحان کے ہاتھ سے پستول لے کر میں نے بھی ایک گولی واجد کو ماری۔ پھر ہم باتھ روم سے باہر آئے تو میں نے عینی کو مارنا شروع کردیا اور اس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ اس دوران عینی اچانک ہوش میں آگئی اور ہاتھ پائوں چلانے لگی۔ یہ دیکھ کر ریحان نے مجھے ہٹایا اور عینی کے گلے میں رسی کا پھندا ڈال کر اسے بھی اگلے جہاں پہنچا دیا۔ اس کے فہیم الکریم کی باری تھی۔ اس پر مجھے بے حد غصہ تھا، کیونکہ پیسے ہونے کے باوجود وہ مجھے میرا معاوضہ نہیں دیتا تھا۔ میں نے اور ریحان نے پہلے فہیم کے پیر باندھے اور پھر ہاتھ، کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ اگر لمبا چوڑا فہیم الکریم ہوش میں آگیا اور قابو میں نہ آیا تو گڑ بڑ ہوجائے گی۔ جب ہم فہیم کے ہاتھ پیر باندھ کر مطمئن ہوگئے تو ہم نے اس کی جامہ تلاشی لی۔ فہیم کا پرس نکال کر اس میں موجود رقم ریحان نے اپنی جیب میں ڈالی اور اس کے دونوں موبائل فون آف کردیئے۔ ہم دونوں نے فہیم کو کسی حد تک ہوش میں لانے کی کوشش کی اور اتنے میں ریحان اپنے موبائل فون میں واجد مغل اورعینی کی لاشوں کی تصویریں بناکر لے آیا۔ جب فہیم کو کچھ ہوش آیا تو ریحان نے اس سے کہا ہم نے واجد اور عینی کا کام تمام کردیا ہے۔ فہیم نے جب دونوں کی لاشوں کی تصویریں دیکھیں تو ایک دم ہوش میں آگیا اور ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگا، جس پر ریحان نے فہیم کو مارنا شروع کردیا اور کہا کہ شرافت سے تعاون کرو، ورنہ تمہاری حالت بھی ان دونوں کی طرح کردوں گا۔ فہیم نے کہا، مجھے چھوڑ دو اور جولینا ہے، لے لو۔ تو ریحان نے فہیم سے کہا کہ ہمیں 5 لاکھ کا چیک کاٹ کردو۔ فہیم نے کہا میرے اکائونٹ میں اتنی رقم نہیں ہے، لیکن تھوڑی دیر کی بحث اور مارپیٹ کے بعد فہیم نے ہمیں سرخ قلم سے 50 ہزار کا چیک بھر کر دے دیا اور ریحان کے پوچھنے پر اپنے اے ٹی ایم کا پاس ورڈ بھی بتادیا جو ریحان نے ایک کاغذ پر لکھ لیا۔ اس کے بعد ریحان نے دوبارہ فہیم کے ہاتھ پیٹھ پر باندھ دیئے اور میں نے کہا ریحان چلو نکلو، ہمارا کام ہوگیا ہے۔ تو ریحان نے کہا، تم پاگل ہو، لیکن میں نہیں۔ یہ وکیل ہے اور اس کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ ہمیں پھانسی پر لٹکادے گا۔ فہیم نے کہا میں کسی کے سامنے تمہارا نام نہیں لونگا، لیکن ریحان نہیں مانا اور اس نے ٹیبل کی دراز میں رکھی ٹیپ سے فہیم کا منہ باندھنے کی کوشش کی۔ اس دوران فہیم ہلنے جلنے کی کوشش کرتا رہا اور اسی میں وہ صوفے سمیت اوندھے منہ گرا اور صوفہ اس پر الٹ گیا۔ ریحان، فہیم پر گولی چلانے لگا تو میں نے کہا کہ یہ کھلی جگہ ہے، فائر کی آواز دور تک جائے گی تو ریحان نے میرے کہنے پر پستول کو کمبل میں لپیٹا اور فہیم کے سر پر رکھ کر گولی چلادی جس کے نتیجے میں فہیم موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس کے بعد ریحان نے واجد کی موٹرسائیکل کی چابی اٹھائی اور ہم فلیٹ کو باہر سے کنڈی لگا کر واجد کی موٹر سائیکل پر صدرآگئے۔ آتے ہوئے ہم عینی کا پرس، اس کے کپڑے، برقعہ اور فہیم کے موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ صدر پہنچ کر ہم نے فیلکن ہوٹل میں کرائے پر ایک کمرہ لیا اور دو دن تک وہاں رہے۔ ان دو دنوں میں ہم نے صدر کی مارکیٹ میں فہیم کے دونوں موبائل عینی کے شناختی کارڈ کی کاپی دے کر بیچے اور حبیب میٹروپولیٹن بینک کی صدر زیب النسا اسٹریٹ برانچ کی اے ٹی ایم اور پاکستان چوک پر واقع ایم سی بی بینک کی برانچ سے رقم نکالی اور استعمال کرتے رہے۔ جب دو دن تک ہم نے دیکھا کہیں بھی کسی بھی طرح ہمارا نام نہیں آرہا تو میں نے اپنے بھائی کو فون کر کے صدر بلوایا اور ریحان نے واجد کی موٹر سائیکل میرے بھائی کے حوالے کردی کہ اسے اپنے گھر پرکھڑی کردو اور میں اپنے بھائی کے ساتھ ہی واجد کی بائیک پر اپنے گھر آگئی۔ میرا اور ریحان کا حسب معمول فون پر رابطہ رہتا تھا اور ہم ایک دو مرتبہ کورنگی میں ملے بھی تھے۔

پھر ایک دن مجھے پولیس والوں کا فون آیا کہ آپ کے تعلقات عینی اور واجد مغل سے تھے، جن کا قتل ہوگیا ہے تو میں نے لاعلمی ظاہرکردی، لیکن جب ایسا ہی ایک فون ریحان کے پاس بھی آیا تو ہم پریشان ہوگئے اور ہم نے فورا آپس میں رابطہ کیا۔ ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمارے فون آبزرویشن پر لگے ہوئے ہیں۔ ریحان نے مجھے کہا کہ تم پریشان مت ہو، میں پولیس والوں کو سنبھال لوں گا اور بات ادھر ادھر گھمادوں گا، لیکن اچانک ایک دن پولیس میرے گھر پر آگئی اور مجھے گرفتار کرکے ڈیفنس تھانے لے جایا گیا۔ میں بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئی تھی۔ پولیس والوں نے میرا موبائل مجھے دیا اور میرا ریحان سے رابطہ کروایا، لیکن ریحان نے اپنا نمبر بند کردیا تھا۔ وہ اپنی لوکیشن صبح وشام تبدیل کررہا تھا، تاکہ ٹریس نہ ہوسکے۔ رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے میں بہت پریشان تھی۔ مجھے ڈی ایس پی ضمیر عباسی نے کہاکہ تم ریحان کو بلوا لو، ورنہ ہمارا شک تم دونوں پر پکا ہوجائے گا اور ہم تم دونوں کو دہرے قتل کی واردات میں باقاعدہ گرفتار کرلیں گے۔ تم ریحان کوکہیں ملنے کا کہہ کر بلوالو۔ ہم معمولی تفتیش کرکے تم دونوں کو چھوڑ دیں گے۔ میں اسی چکر میں آگئی اور جب ریحان کا ایک نامعلوم نمبر سے مجھے فون آیا تو میں نے اسے ملاقات کیلئے کلفٹن بلالیا۔ ریحان مجھے ملنے کیلئے آگیا اور میری ہی نشاندہی پر اسے پولیس نے گرفتار کرلیا اور یوں ریحان اور میرے الگ الگ بیانات نے ہمیں مجرم ثابت کردیا اور ہماری نشاندہی پر ہی آلہ قتل اور دیگر چیزیں برآمد کرلی گئیں‘‘۔ اپنی روداد ’’احوال‘‘ کو سنانے کے بعد تزئین کچھ دیر کیلئے خاموش ہوئی اور پھر بولی: ’’ ماڈل بننے کی شوقین لڑکیاں پرموٹرز کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ میری کہانی ان لڑکیوں کیلئے نصیحت ہے، جو ماڈل بننے کیلئے مختلف پرموٹرز کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہیں اور میری کہانی سے ان لڑکیوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے‘‘۔’’ احوال‘‘ نے ڈیفنس میں تہرے قتل کے حوالے سے کے ای ایس سی کے وکیل فہیم الکریم کے چچازاد بھائی اور مقدمہ کے مدعی جاوید حلیم ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ 6 ستمبر 2011ء کو کے ای ایس کے ایک ذمہ دار اسامہ کو فہیم الکریم ایڈووکیٹ سے کام تھا اور وہ ان کا موبائل فون نمبر بار بار ملارہے تھے، لیکن فون بند جارہا تھا۔ انہیں اس بات پر تشویش ہوئی کہ فہیم الکریم ایڈووکیٹ کبھی اپنا موبائل فون بند نہیں کرتا تھا اور آج اس کا نمبر کیوں بند ہے۔ جب انہوں نے فہیم ایڈووکیٹ کے گھر والوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی فہیم الکریم کے موبائل فون پر فون کیا، لیکن موبائل فون مسلسل بند تھا، جس پر اسامہ نے ٹریکر کمپنی سے سے فہیم الکریم کی گاڑی نمبر کی لوکیشن معلوم کی تو پتہ چلا کہ مذکورہ گاڑی ڈیفنس فیز 2 کی اسٹریٹ پر کھڑی ہے، جس پر اسامہ نے ڈیفنس پولیس سے رابطہ کیا اور انہیں تمام صورتحال بتائی۔ ’’احوال‘‘ کو ایس ایچ او ڈیفنس راجہ مشتاق نے بتایا کہ کار نمبر بتائی گئی جگہ پر کھڑی تھی، لیکن گاڑی میں یا اس کے اردگرد کوئی اور موجود نہیں تھا۔کچھ دیر ہم گاڑی کی چھان بین کرتے رہے، مگر گاڑی پرکسی حملے یا حادثے کا کوئی نشان نہیں تھا۔ گاڑی کو ہاتھ لگاتے ہی سیکورٹی الارم بھی بجنے لگا، لیکن پھر بھی کوئی گاڑی کے قریب نہیں آیا۔ میں نے قریب ہی موجود مکینک سے گاڑی کے بارے میں پوچھا تو مکینک کہنے لگا، صاحب! گاڑی کے مالک کا تو میں کچھ نہیں بتاسکتا۔ ہاں البتہ اوپر فلیٹ میں ایک نئی فیملی آئی ہے۔ بس میاں بیوی ہیں۔ ان کو اس گاڑی میں ایک آدھ بار آتے جاتے دیکھا ہے۔ یہ سنتے ہی ہم اوپر کی جانب دوڑے۔ یہ تین منزلہ بلڈنگ پلاٹ نمبر7 پر بنائی گئی ہے، جس کے عقب میں کاروں کی ریپئرنگ کی دکانیں ہیں۔ پہلے فلور پر ہم پہنچے تو دروازے پر دستک دینے پر ایک خاتون باہر آئیں اور گاڑی کے بارے میں استفسار کرنے پر انہوں نے لاعلمی کا اظہارکیا۔ جب ہم فلیٹ نمبر2 پر پہنچے تو اس کے دروازے کو باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔ اسی اثنا میں ایڈووکیٹ جاوید حلیم بھی پہنچ گئے جو وکیل فہیم الکریم کے کزن ہیں۔ ہم نے کئی بار دروازے پر دستک دی پرکوئی جواب نہ ملا تو ہم نے دروازے کو کھولا اور اندر داخل ہوگئے۔ یہ شام ساڑھے 4 بجے کا وقت تھا اور کچھ دیر پہلے شدید بارش ہوئی تھی۔ ہم فلیٹ میں داخل ہوئے تو اندر گھپ اندھیرا تھا۔ بڑی مشکل سے لائٹ جلائی تو فلیٹ کے سامنے والے کمرے میں ایک ہولناک منظر دیکھنے میں آیا۔ صوفے پر ایک لڑکی کی تشدد زدہ لاش پڑی تھی، جبکہ صوفے کے نیچے دائیں طرف ایک مردکی لاش پڑی تھی اور ملحقہ باتھ روم میں ایک اور مرد کی لاش موجود تھی۔ مقتولین خون میں لت پت تھے۔ صوفے کے ساتھ پڑی لاش کو ایڈووکیٹ جاوید حلیم نے اپنے کزن فہیم الکریم کی حیثیت سے شناخت کیا، جبکہ دوسرا مقتول مرد واجد مغل اور مقتولہ کا نام قرۃالعین عرف عینی تھا۔ یہ واقعہ چونکہ کافی سنگین نوعیت کا تھا، لہذا میں نے فوری طور پر اپنے ڈی ایس پی ضمیر عباسی، ایس پی طارق رزاق دھاریجو اور ڈی آئی جی کمانڈر شوکت کو واقعے کی اطلاع دی اور یوں اعلیٰ افسران بھی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ لاشوں کی حالت سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ گذشتہ شب یا قریباً 12 سے 14گھنٹے قبل کی کارروائی ہے اور اس قتل کے واقعے میں ایک سے زائد لوگ ملوث ہیں۔ باتھ روم میں پڑی واجد مغل نامی نوجوان کی لاش کو دیکھ کر پتہ چلتا تھا کہ مارنے سے قبل اس پر شدید قسم کا تشدد کیا گیا ہے۔ اس کے سرکو بہت قوت کے ساتھ کموڈ کے ساتھ ٹکرایا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کی دائیں آنکھ تقریباً باہر نکل چکی تھی۔ اس کی آنکھ کے قریب اور پیٹ میں 30 بور پستول کی گولیاں بھی ماری گئی تھی۔ صوفے پر پڑی عینی کی لاش پر تشدد کے آثار واضح تھے، جبکہ عینی کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا اور اس کے سینے پر ایک گولی ماری گئی تھی، جبکہ سب سے زیادہ تشدد فہیم الکریم پر کیا گیا تھا۔ فہیم الکریم کے منہ کو سرخ رنگ کے ٹیپ سے لپیٹ بندکیا گیا تھا۔ اس کے ہاتھ پشت پر بندھے تھے اور ٹانگیں رسی سے باندھی گئی تھیں۔ مقتول وکیل کے سر پر تہہ کیا ہوا کمبل رکھ کر اس کے تالو میں گولی ماری گئی تھی، جو تھوڑی کے نیچے سے آر پار ہوگئی تھی۔ مذکورہ تہرے قتل کی واردات کے بعد ہم نے مقتولین کے موبائل فون نمبروں کی مدد سے تحقیقات شروع کیں، جن میں ریحان نیازی اور تزئین کے نمبرز بھی شامل تھے۔ ملزمان نے مقتول واجد مغل سے بھی رابطہ کیا تھا، جس پر ہم نے پہلے تزئین کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیا اور اسے شک کی بنیاد پر کورنگی سے حراست میں لیا تو اس نے دوران تفتیش قتل کا اعتراف کرلیا اور پھر اس کے ذریعے ریحان نیازی کو بلا کر اسے بھی گرفتار کرکے مقتولین کے موبائل فون اور مقتولہ عینی کا پرس، برقعہ اور دیگر سامان برآمد کرلیا۔ ’’احوال‘‘ کو مقتول فہیم الکریم ایڈووکیٹ کے کزن اور مقدمے کے مدعی جاوید حلیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ فہیم الکریم کے والد عبدالکریم اور ان کے دادا بھی وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ مقتول وکیل کو لڑکین سے ہی میوزک کمپوزنگ کا شوق تھا اور اس نے اپنے کمرے میں ایک پیانو بھی خریدکر رکھا ہوا تھا، جس پر فارغ اوقات میں فہیم مختلف دھنیں بناکر اپنا شوق پورا کرلیا کرتا تھا۔ ’’احوال‘‘ کو جاوید حلیم نے بتایا کہ فیصل نامی میوزک انسٹرکٹر فہیم کا دوست تھا اور واجد مغل اسی فیصل کا کزن تھا۔2006 ء میں فہیم نے گاناتیار کیا اور واجد نے اس گانے کی ویڈیو تیار کی جو ٹی وی چینل پر بھی چلی، لیکن مقبول نہیں ہوسکی۔ جس پر فہیم نے واجد مغل کو کہا کہ تم نے میرے پیسے برباد کردیئے اور یوں دونوں الگ ہوگئے تھے، جس کے بعد واجد مغل کافی عرصہ تک غائب رہا اور دو برس قبل ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہوگیا۔ اس نے دوبارہ فہیم سے رابطہ کیا اور فہیم نے اس کی مالی مدد کی تھی۔ ایک برس قبل واجد مغل نے فہیم سے رابطہ کرکے ملاقات کی اور منت سماجت کی کہ اس کا مستقبل تباہی کے دہانے پر ہے اور اگر فہیم اس کی کچھ مدد کردے تو وہ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوسکتا ہے، جس پر فہیم نے اس کی مدد کی اور حاجی کمرشل والے دفتر میں واجد کو جگہ دے دی اور واجد نے اس میں دوبارہ اپنی شوبزنس کی سرگرمیاں شروع کردیں، چونکہ حاجی والے آفس میں بجلی کے تعطل کا بہت مسئلہ تھا تو واجد کے مشورے پر فہیم نے حاجی کمرشل والا دفتر چھوڑ کر فیز 2 ایکسٹینشن کے اور کمرشل کے دہانے پر واقع پلاٹ نمبر کے فرسٹ فلور پر فلیٹ لے کر آفس شفٹ کرلیا تھا اور پھر وہاں پر اس کا قتل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قاتل تزئین اور ریحان نیازی کو نہیں جانتے ہیں، ان دونوں کو تو انہوں نے گرفتاری کے بعد دیکھا ہے۔

اشفاق احمد زاویہ ١ قول اور نفس the stories of Ishfaq Ahmad

 اشفاق احمد زاویہ ١ قول اور نفس the stories of Ishfaq Ahmad
ایک بادشاہ تھے ان کے ایک پیر تھے - اور ان کے بہت بہت پیروکار اور مرید تھے - 
بادشاہ نے بہت خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا کہ آپ بہت خوش نصیب آدمی ہیں آپ کے معتقدین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انھیں گنا بھی نہیں جا سکتا - 
مرشد نے کہا ان میں سے صرف ڈیڑھ شخص ایسا ہے جو میری عقیدت والا ہے اور مجھ پر جاں نثاری کر سکتا ہے ، اور مجھ کو مانتا ہے اور باقی کے ایسے ہی ہیں - 
بادشاہ بہت حیران ہوا کہ یہ پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ کیسے کہ رہا ہے - 
مرشد نے کہا کہ ان کے نفس کا ٹیسٹ کرتے ہیں تب آپ کو پتا چلے گا - 

تو انھوں نے کہا کہ اس میدان کے اوپر ایک ٹیلہ ہے اور اس ٹیلہ کے اوپر آپ مجھے ایک جھونپڑی بنوادیں فوراً رات کی رات میں بنوا دیں - بادشاہ نے جھونپڑی بنوا دی - 

اس جھونپڑی میں اس بزرگ نے دو بکرے باندھ دیے - اور کسی کو پتا نہیں کہ اس میں دو بکرے باندھے گئے ہیں - 

اور پھر وہ جھونپڑی سے باہر نکلا اور اونچی آواز میں کہا - 

ہے کوئی میرے سارے مریدین میں سے جو مجھ پر جان چھڑکتا ہو ؟ 
میری بات دل کی گہرائیوں سے مانتا ہو ؟ بری اچھی میں ساتھ دینے والا ہو - 
اور جو قربانی میں اس سے مانگوں وہ دے - اگر کوئی ایسا ہے تو میرے پاس آئے - 

اب اس پچاس ہزار کے جم غفیر میں سے صرف ایک آدمی اٹھا ، وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ،ڈھیلے پاؤں رکھتا ہوا اس کے پاس گیا 

مرشد نے کہا تجھ میں یہ دم خم ہے ؟ 
اس نے کہا ، ہاں ہے - 

کہا ، آ میرے ساتھ - 

اس نے اس کی کلائی پکڑی اس کو جھگی کے اندر لے گیا اور وہاں کھڑا کر دیا - 

اور کہا خاموشی کے ساتھ کھڑا رہ - 

پھر اس نے ایک بکرے کو لٹایا ، چھری نکالی اور اسے ذبح کر دیا ، جھونپڑی کی نالی کے پاس - 

اور جب وہ خون نکلا تو پچاس ہزار کے گروہ نے دیکھا اور وہ خون آلود چھری لے کر باہر نکلا اور کہا قربانی دینے والے شخص نے قربانی دے دی - 
میں اس سے پوری طرح مطمئن ہوں اس نے بہت اچھا فعل کیا- جب لوگوں نے یہ دیکھا تو حیران اور پریشان ہو گئے - 

اب ان میں سے لوگ آہستہ آہستہ کھسکنے لگے - کچھ جوتیاں پہن کر کچھ جوتیا چھوڑ کر - 

تو انھوں نے کہا اے لوگو ! قول کے آدمی نہ بننا صرف مضبوطی اور استقامت کے ساتھ کھڑے رہنے کی کوشش کرنا - 

اب میں پھر ایک اور صاحب سے کہتا ہوں وہ بھی اپنے آپ کو قربانی دینے کے لئے پیش کرے ، اور میرے پاس آئے کیونکہ یہ اس کے نفس کا ٹیسٹ ہے -

تو سناٹا چھایا ہوا تھا - کوئی آگے نہ بڑھا - اس دوران ایک عورت کھڑی ہوئی تو اس نے کہا ! 
" اے آقا میں تیار ہوں -" 

اس نے کہا ، بیبی آ - 

چنانچہ وہ بیبی چلتے چلتے جھگی میں گئی ، اس بیچاری کے ساتھ بھی وہی ہوا جو پہلے کے ساتھ ہوا - 
اندر اسے کھڑا کیا اور دوسرا بکرا ذبح کر دیا ، اور اس کے پرنالے سے خون کے فوارے چھوٹے - 

جب یہ واقعہ ہو چکا تو بادشاہ نے کہا آپ صحیح کہتے تھے ، کیونکہ وہ میدان سارا خالی ہوگیا تھا - 
پچاس ہزار آدمی ان میں سے سے ایک بھی نہیں ہے - 

انھوں نے کہا میں نے کہا تھا میرے ماننے والوں میں سے صرف ڈیڑھ شخص ہے ، جو مانتا ہے - 
بادشاہ نے کہا ہاں میں بھی مان گیا ، اور سمجھ بھی گیا ، اور وہ شخص تھا وہ مرد تھا وہ پورا تھا - جب کہ وہ عورت جو تھی وہ آدھی تھی - 

اس نے کہا نہیں بادشاہ سلامت یہ مرد آدھا تھا اور عورت پوری تھی - 
پہلا جو آیا تھا اس نے کوئی خون نہیں دیکھا تھا - 
اس بیبی نے دیکھا جو واقعہ گزرا پھر بھی اٹھ کر آنے کے لئے تیار ہوئی تھی اس لیے وہ خاتون سالم Entity پر ہے - اور آدھا وہ مرد ہے - 

میرے ماننے والوں میں ڈیڑھ لوگ ہیں باقی سارے نفس کے بندے ہیں - 

از اشفاق احمد زاویہ ١ قول اور نفس صفحہ ٢٥١