envato

Sunday, May 27, 2012

Imaan! The Internet Urdu Story of Pakistani Boy Ghazi Ullah and American Girl Kethi

Imaan! The Internet Urdu Story of Pakistani Boy Ghazi Ullah and American Girl Kethi

Saturday, May 26, 2012

Save Your Children - True Story and Media Report About Children Kidnapping


Save Your Children - True Story and Media Report About Children Kidnapping

Saturday, May 19, 2012

Sunnah - The Leader of Islam Muhammad Daily Life Explosion



Sunnah - The Leader of Islam Muhammad Daily Life Explosion 






Hungry people of pakistan


Hungry people of Pakistan


گولا باری کا سلسلہ صبح سے جاری تھا اور دوپہر تک جگہ جگہ سے درختوں اور مکانوں سے شعلے اور دھواں اٹھتا رہا تھا۔ زیادہ تر مکان ملبے اور راکھ کے ڈھیر میں بدل چکے تھے ۔ یہ وزیرستان کا وہ علاقہ تھا ، جو خشک اور بنجر زمین رکھتاہے ۔ شہر سے باہر اس علاقے میں تیزی سے آباد کاری ہو رہی تھی ۔ لوگ شہرچھوڑ رہے تھے ۔ ہر طرف کیمپ لگے ہوئے تھے ، لیکن زیادہ تر لوگ کھلے آسمان تلے بے یار و مدد گار پڑے تھے ۔ بھوک اور بیماری نے مستقبل کے حوالے سے انھیںبے حس بنا دیا تھا ۔

کہنے کو تو حکومت کی طرف سے خوراک اور طبی امداد مہیا کی جا رہی تھی ، مگر وہ تعداد کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی ۔کل کا پورا دن گزر گیا اور اب سورج کی تپش میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا ۔اب تک خوراک نہیں پہنچی تھی ، جو تھوڑی بہت خشک خوراک موجود تھی ، وہ تقسیم کر دی گئی تھی۔ میں پاکستانی فوج کے اس دستے میں شامل تھا ، جس کا کام امن و امان بحال کرنا تھا ۔ میری ڈیوٹی خوراک تقسیم کرنے پر تھی ۔ آج مجھے دوسرا ہفتہ ہو رہا تھا ۔ مجھے سخت بے زاری ہو رہی تھی ۔ لوگ مجھ سے بار بار خوراک کا پوچھتے اور میں انھیں ایک ہی جواب دے دے کر تنگ آ گیا تھا ۔



اسی وقت جب میں سامنے زمین پر ایک چیونٹی کو گوشت کا سڑا ٹکڑا لے جانے کی کوشش میں مصروف دیکھ رہا تھا کہ میرے آگے ۲؍ برہنہ پاؤں ٹھہر گئے ۔ مجھے بغیر اوپر دیکھے پتا چل گیا کہ یہ ننگے پاؤں کس کے ہیں ۔’’ولی خان ! ‘‘میرا لہجہ سخت تھا ۔
’’فوجی لالہ ! وہ … وہ میں … ‘‘
’’
میں نے تمھیں کتنی بار کہا ہے کہ مجھے لالہ نہ کہا کرو۔‘‘میرا لہجہ مزید سخت ہو گیا ۔ مجھے پٹھانوں کا ایک واقعہ یاد آ گیا ۔ اس واقعے میں ایک فوجی کو سب فوجی لالہ کہتے تھے ، مگر وہ بہت ظالم انسان تھا ۔
’’مگر میں تمھیں فوجی لالہ ہی کہوں گا ۔‘‘ اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا ۔
’’ 
وہ کیوں ؟ ‘‘ میرا لہجہ سرد ہو گیا ۔’’ تمھاری شخصیت ہی ایسی ہے ۔ مجھے یہی تاثر ملتا ہے کہ تمھارا نام فوجی لالہ ہونا چاہیے ۔ شاید مجھ سے اپنی بات کی وضاحت اچھی طرح سے نہیں ہو رہی ۔‘‘
’’
کس لیے آئے ہو ؟ ‘‘تنگ آ کر میں نے موضوع بدلا ۔ حالاں کہ مجھے اس کے آنے کا مقصد اچھی طرح معلوم تھا ۔ وہ ۱۲؍ برس کا سرخ و سفید لڑکا تھا ۔ اس کے جسم پر لباس نام کی صرف شلوار تھی ۔ بال سخت اور کھردرے تھے ۔ اس کی حالت سے لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ بارہ تیرہ برس کا نو عمر لڑکا ہے ۔ حالات کی سختیوں نے اسے وقت سے پہلے ہی سخت بنا دیا تھا ۔ بھوک اور غربت کے با وجود مجھے کبھی اس کی موٹی موٹی آنکھوں میں التجا نہیں دکھائی دی ۔ حالاں کہ وہ بچہ تھا اور اسے سب سے بڑی فکر کھانے کی ہونا چاہیے تھی ، مگر ایسا لگتا تھا جیسے اسے کھیلتے کھیلتے کھانا یاد آ جاتا تھا اور وہ یہاں چلا آتا ۔ جواب میں انکار سن کر وہ اپنی بھوک کو بھول کر دوبارہ کھیلنے میں مصروف ہو جا تا ۔’’مجھے بہت بھوک لگی ہے ۔‘‘ اس نے جیسے اعلان کیا۔
’’ 
مگر کھانا ابھی تک نہیں آیا ۔ ‘‘ میں نے وہی رٹا رٹایا جواب دہرایا ، جسے بار بار دہرا کر میں اس حد تک تنگ آ چکا تھا 
کہ اسے دہراتے ہوئے میرے پیٹ میں بل پڑ جاتے تھے ۔
’’ مگر مجھے بہت بھوک لگی ہے ، میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا ۔‘‘

’’ جوں ہی کھانا آئے گا ، میں سب سے پہلے تمھیں ہی بتاؤں گا ۔ شاباش ! اب جا کر کھیلو ۔‘‘
’’میرا کھیل میں جی نہیں لگتا ۔ ‘‘اس نے جواب دیا ۔
میں کچھ دیر اس کابھوک زدہ چہرہ تکتا رہا ۔ پھر میں نے سر کھجا کر کہا ۔’’ اچھا ! جاؤ اور کچھ دیر سو جاؤ ۔ مجھے لگتا ہے کہ تم پچھلی رات نہیں سوئے ۔‘‘
’’ 
میری امی کہتی تھیں کہ بھوکا سونے سے آدمی بیمار ہو جاتا ہے ۔‘‘ اس نے ایک اور دلیل دی ۔
میں نے ایک گہرا سانس لیا اور بے چینی سے اِدھر اُدھر ٹہلنے لگا ۔ میرے پاس اسے اطمینان دلانے کے لیے کوئی کار گر دلیل نہیں تھی ۔ وہ مضبوطی سے اپنی جگہ پر جما کھڑا تھا ۔ مجھے یقین ہو چکا تھا کہ اس بار اسے جھوٹا دلاسا دے کر ٹالا نہیں جا سکتا ، لیکن پھر بھی اپنی طرف سے میں نے کوشش کرنا چاہی ۔ میں نے اپنے مضبوط ہاتھ اس کے شانوں پر رکھے اور یقین دلانے والے لہجے میں کہا :’’ دیکھو ! اس وقت کچھ بھی نہیں ۔ سب کچھ ختم ہو چکا ہے ۔ اگر میرے اپنے حصے کا بھی کھانا موجود ہوتا ، تو وہ میں تمھیں دے دیتا ۔ آخر تمھیں یقین کیوں نہیں آتا ! ! ‘‘
’’ 
مگر میں تمھارے حصے کا کھانا نہیں کھاتا ۔ ‘‘ اس نے میرے ہاتھ جھٹکے ۔ ’’ مجھے اپنے حصے کا کھانا چاہیے ۔ تمھیں میرے لیے بھوکا رہنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے ۔ ‘‘

میں نے اس کی بات پر طنزیہ قہقہہ لگانا چاہا ، مگر یہ جان کر میں بہت حیران ہوا کہ میری آنکھوں میں دھندلا پن اور گلے میں آنسوؤں کی نمکینی سی پھیل گئی ہے ۔ اچانک مجھے اس معصوم بچے پر ترس آنے لگا اور خود سے گھن سی آنے لگی ۔ آج صبح ناشتے میں ، میں نے جی بھرنے کے بعد بھی بہت کچھ کھا لیا تھا ، جس کی وجہ سے مجھے ہضم کرنے کے لیے بڑی دیر تک چہل قدمی کرنا پڑی تھی ۔’’ اگر تم صبح آ جاتے ، تو … ‘‘ میں نے پہلے کی طرح مضبوط لہجے میں کہنا چاہا ، مگر میرا لہجہ اور الفاظ ایک دوسرے سے بالکل میل نہیں کھاتے تھے ۔
’’ 
میں رات کو دیر سے سویا تھا ، اس لیے صبح دیر تک سویا رہا ۔ ‘‘اس نے میری بات کاٹ کر کہا ۔
’’ کیا تمھیں بہت زیادہ بھوک لگی ہے ؟ ‘‘
یہ سن کر اس کی آنکھیں چمکیں ۔
’’ ہاں ، ہاں ! میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا ۔‘‘
اس کے سینے کی ہڈیاں آسانی سے گنی جا سکتی تھیں ۔ پیٹ بھوک کی وجہ سے کمر سے لگ گیا تھا ۔ میں سوچنے لگا، مجھے اس کے لیے کچھ کرنا چاہیے ، مگر میں کیا کرتا ، کیوں کہ خوراک ابھی تک نہیں پہنچی تھی ۔’’کچھ بھی مل جائے ۔‘‘ اس نے بات جاری رکھی ۔ ’’ کچھ بھی … بسکٹ کاایک آدھ ٹکڑا … ایک کھجور کا دانہ … کوئی بھی چیز … ‘‘
جانے کیوں مجھے معدے میںا ینٹھن سی اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ میں نے اس کی طرف پیٹھ کی اور جھک کر تسمے باندھنے کے بہانے آنسو صاف کر نے لگا ۔
’’ 
میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ‘‘ میں نے یکایک ایک فیصلہ کرتے ہوئے کہا ۔
’’ تمھیں یقین ہے کہ میرے لیے کچھ نہ کچھ مل جائے گا ! ‘‘ اس کی آنکھیںامید کی کرن سے جگمگانے لگیں ۔

مجھے پتا تھا کہ اس کی امید بہت کم تھی ، مگر میں اسے نفی میں جواب دے کر اس کے ننّے سے دل کو توڑنا نہیں چاہتا تھا … یا … پھر شاید مجھ میں انکار کرنے کی ہمت نہ تھی ۔’’ ہاں ! مجھے یقین ہے ۔ ‘‘ میں نے اس کے روئی کی طرح نرم نرم رخساروں کو تھپتھپایا ۔ ’’ تم دعا کرو ۔ ‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا جیسے کھانا حاصل کرنے میں اس حصے کی کوشش صرف دعا تک ہے اوروہ اپنے حصے کاکام اچھی طرح سے پوراکرے گا ۔
’’ آؤ … چلیں ! ہم اپنی تلاش کا آغاز راشن ڈپو سے کرتے ہیں ۔‘‘

ہم دونوں اکٹھے ہی راشن ڈپو کی طرف چل دیے ۔ میری انگلی اس کے ننّے سے نرم ہاتھ میں تھی ۔ اس کے ساتھ چلتے ہوئے مجھے بڑا سکون محسوس ہو رہا تھا ۔
’’ 
تم بہت اچھے ہو ۔ ‘‘ وہ بہت باتونی تھا ۔ وہ چپ ہوتا ہی نہیں تھا ۔ ’’ تم سے پہلے جو فوجی لالہ تھا ، وہ بہت سخت تھا ۔ مجھے اس کے پاس جاتے ہوئے بڑا خوف آتا تھا ۔ پتا ہے … اس کے غصے کی سب سے بڑی نشانی کیا تھی ؟ ‘‘’’ کیا تھی ؟ ‘‘
’’وہ اپنی ہی ٹانگ پر بڑے زور زور سے بید مارتا تھا جانے کیوں … ؟ کیا اسے درد نہیں ہوتا تھا ؟‘‘

’’ کیا پتا … نہ ہوتا ہو ۔ ‘‘
’’ میرا خیال ہے کہ ہوتا ہو گا ۔ میں نے ایک دن اپنی چھڑی اپنی ٹانگ پر ماری تھی ، تو مجھے بہت درد ہوا تھا … حالانکہ میں نے اتنے زور سے بھی نہیں ماری تھی ۔ ‘‘ پھر وہ پر خیال انداز میں خود ہی نتیجہ نکالنے لگا ۔ ’’ مگر یوں بھی تو ممکن ہے کہ میری ٹانگ ننگی تھی اور اس کی ٹانگ پر موٹے کپڑے کی وردی تھی ۔ جس طرح کی تمھاری ہے ۔ ‘‘
وہ میری وردی کی طرف اشارہ کر رہا تھا ۔
’’ لو ! راشن ڈپو آ گیا ۔ ‘‘ میں نے اسے بتایا ۔
’’ 
تم دیکھ آؤ ۔ میں ادھر ہی دروازے پر کھڑا رہوں گا۔‘‘میں اندر داخل ہو گیا ۔ وہاں خالی ڈبوں کا ڈھیر موجود تھا ۔ میں بڑی دیر تک کونا کونا کھنگالتا رہا ، مگر مجھے کچھ نہ ملا۔ میں جب باہر نکلا ، تو میرا سر جھکا ہوا تھا ۔
’’ ولی خان ! مجھے افسوس ہے کہ … ‘‘
’’ 
کوئی بات نہیں فوجی لالہ ! مگر ہمیں اپنی تلاش جاری رکھنی چاہیے ۔ ‘‘ اس نے میری بات کاٹ دی ۔
ہم میس کی طرف چل پڑے ۔ یہاں کھانا ملنے کی اُمید نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ہمارا کھانا وقت پر آ جاتا تھا اور جو بچ جاتا ، اسے بھوکے لوگوں میں بانٹ دیا جاتا ۔ مگر میں اس مبہم امید پر جا رہا تھا کہ شاید کچھ مل جائے ۔ ایک آدھ روٹی کا ٹکڑا … ایک بسکٹ … کوئی بھی چیز ۔
’’ 
تم کہاں سے آئے ہو ؟ ‘‘ چند لمحوں بعد اس نے چلتے چلتے خاموشی کو توڑا ۔
’’ پنجاب سے ۔‘‘
’’ کیا وہاں جنگ ہوتی ہے … کیا وہاں بھی لوگ بھوکے سوتے ہیں … کیا وہاں بھی بچوں کے امی ابو بارود میں جل کر راکھ ہو جاتے ہیں ۔‘‘یہ سن کر میرے گلے میں کانٹے سے چبھنے لگے ۔
’’ تمھارے امی ابو کہاں ہیں ؟ ‘‘
’’ 
گزشتہ مہینے جو بمباری ہوئی تھی نا … ! اس میں سے ایک بم ہمارے گھر پر گرا تھا ۔ امی ابو دونوں ہی مر گئے۔ ان کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے اڑ گئے ۔ ‘‘ وہ سوچ میں پڑ گیا تھا ۔ ’’ مگر مجھے یہ سب کچھ بہت عجیب سا لگتا ہے ۔ ہر وقت مجھے دکھائی دینے والے امی ابو اب مجھے کبھی بھی دکھائی نہیں دیں گے ۔ مجھے یہ سب کچھ مصنوعی سا لگتا ہے اور کبھی کبھی تکلیف دہ بھی … کبھی کبھی مجھے بڑی شدت سے ان کی طلب ہوتی ہے … ان کی گود کی … ان کے پیار کی ۔ میرے پاس بہت سی باتیں جمع ہو جاتی ہیں ، مگر اب میں انھیں پہلے کی طرح سنا نہیں سکتا ، تو میرا سینہ پھٹنے لگتا ہے ۔ پھر میں یہ ساری باتیں پومی سے کر لیتا تھا ۔‘‘

وہ خاموش ہو گیا ۔ ہمارے درمیان خاموشی کا ایک لمباوقفہ در آیا ۔ صرف ہمارے قدموں کی چاپ ہمیں سنائی دے رہی تھی ۔ میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ یہ پومی کون ہے ، مگر مجھے خوف تھا کہ اگر میں بولا ، تو وہ رونے لگے گا ۔اسی دوران ہم میس پہنچ گئے ۔ میرا دل رو رو کر التجا کر رہا تھا کہ کھانے کو کچھ مل جائے ۔ اس وقت بھری کائنات مجھے بڑی فضول اور بے رنگ سی لگ رہی تھی ۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اب میری زندگی کا مقصد کھانا حاصل کرنا 
ہے ، جو اس ننّے سے پیٹ میں لگی بھوک کی آگ کو بجھا دے ۔
مین گیٹ کے پاس جا کر وہ ٹھہر گیا اور سابقہ فقرہ دہرایا ۔ ’’ تم جاؤ ! میں یہاں ٹھہر کر تمھارا انتظار کروں گا ۔‘‘
میں نے سر ہلایا اور اندر جانے لگا ، تو اس نے مجھے پھر آواز دی ۔
’’ 
فوجی لالہ ! ‘‘میں نے مڑ کر اس کی طرف کن انکھیوں سے جواب طلب نظروں سے دیکھا ۔
’’ میں دعا کروں گا ۔ ‘‘اس نے اپنے چھوٹے سے ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیے ۔
’’ ضرور بیٹا ! کبھی کبھی سارے مسئلے ایک دعا سے ہی حل ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘ میں نے ہونٹ بھینچ کر کہا ۔
’’ اللہ تعالیٰ تمھیں کامیاب کرے ؟ ‘‘ اچانک اس کا لہجہ بزرگانہ ہو گیا ۔

میں اندر داخل ہو گیا ۔ میس میں سناٹا تھا ۔ میس انچارج کاؤنٹر کے پیچھے کرسی پر سو رہا تھا ۔ میں نے میس کا کونا کونا چھان مارا ، مگر مجھے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا بھی کہیں دکھائی نہ دیا ۔ مجھے مایوسی کی حالت میں بڑا غصہ آنے لگا ۔’’ یا اللہ ! مجھ سے سارا کچھ چھین لے ، مگر مجھے روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا دے دے ۔ ‘‘

مجھ میں ولی خان کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا ۔ میں میس سے باہر آنے کے بجائے کاؤنٹر کی طرف بڑھا ۔ میں نے کاؤنٹر تھپتھپایا ، تو میس انچارج نے بوکھلا کر آنکھیں کھولیں ، مگر مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر برہمی کے تاثرات آ گئے ۔ شاید اسے میری دخل اندازی بری لگی تھی ۔
’’ کیا بات ہے ؟ ‘‘
’’ کچھ مل جائے گا ؟ ‘‘

میرا لہجہ ا یسابے بس اور التجا آمیز تھا کہ جیسے میں صدیوں سے بھوکا ہوں ۔
’’ کچھ بھی نہیں ۔ ‘‘ اس نے دوبارہ آنکھیں میچ لیں ۔
’’ تم دیکھو ، تو سہی ۔ ‘‘ میں کاؤنٹرپر جھکا ۔ ’’ شاید کچھ مل جائے … ۔صبح کا بچا کھچا ۔ ‘‘’’ تمھارا دماغ تو درست ہے ۔ ‘‘ اس کا لہجہ تند ہو گیا۔ ’’ جب ایک بار بتا دیا ہے کہ کچھ بھی نہیں ، تو بار بار پوچھنے کی وجہ ؟ ‘‘
’’ 
شاید کچھ … روٹی کا ایک آدھ ٹکڑا … ایک بسکٹ … ‘‘ میرا لہجہ بھرا گیا ۔
’’ دیکھو صاحب ! ‘‘ وہ سنبھل کر کرسی پر بیٹھ گیا ۔ ’’ یہ ڈراما بند کرو اور جاؤ … زیادہ بھوک لگی ہے ، تو خود کشی کرلو، میرے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ۔‘‘

اس کے تضحیک بھرے لہجے نے مجھے غضب ناک کر دیا ۔ اچانک میں نے اسے گریبان سے پکڑا اور کاؤنٹر کے اوپر سے گھسیٹتاہوا باہر لے آیا ۔ شاید وہ ابھی تک غنودگی کے عالم میں تھا ۔ میں نے الٹا ہاتھ اس کے منہ پر رسید کیا ، تو وہ اچھل کر پیچھے جا گرا ۔ اس کے منہ سے نکلنے والی چیخ سے یوں لگتا تھا ، جیسے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا ۔ ہ اٹھ کر بھاگنے ہی والا تھا کہ میں نے اسے پکڑ لیا ۔’’ کیوں نہیں ہے کچھ … راشن ڈپو میں کچھ نہیں ہے، میس خالی ہے ، تو پھر کہاں گیا کھانا ؟ تمھارے پیٹ میں … ؟ ‘‘ میں ہسٹریا والے مریض کی طرح حلق کے بل چیخا ۔
’’ 
ارے … ارے آفیسر ! ہوش میں آؤ ! کیا کر رہے ہو ؟ ‘‘ کسی نے مجھے کندھے سے پکڑ کر جھنجوڑا ۔
میں نے چونک کر اپنے آس پاس دیکھا۔ میس کا سارا عملہ ہمارے گرد اکٹھا ہو چکا تھا ۔ مجھے ہوش دلانے والا میرے ہی رینک کا فوجی تھا جس کی ڈیوٹی کبھی کبھی میرے ساتھ راشن ڈپو میں لگتی تھی ۔
’’ 
میں کیا کروں آفیسر ! وہ بھوکا ہے ۔ ‘‘ میں نے اس کے شانے سے اپنی پیشانی لگا کر سسکی لی ۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیا ۔
’’کون بھوکا ہے دوست ! ‘‘ اس کے سرخ و سفید چہرے پر حیرت اُمڈ آئی ۔
’’ دوست ! مجھے افسوس ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے تھا ، مگر جانے کیسے ہو گیا ؟ ‘‘
’’
دوست ! خود کو سنبھالو ۔ ‘‘ اس نے میرے کندھوں کو تھپتھپایا۔میں بڑی مشکل سے پاؤںگھسیٹتا ہوا باہر تک آیا ۔ میرے چہرہ دیکھ کر وہ اصل بات کی تہ تک پہنچ گیا ۔ اس نے کچھ بھی نہ پوچھا ۔ خاموشی سے میری اُنگلی تھامی اور بغیر سوچے ہم ایک طرف چل پڑے ۔
’’ 
تمھیںمعلوم ہے کہ پومی کون تھا ؟ ‘‘ اس نے اپنی نامکمل بات آگے بڑھائی ۔ مجھ سے بولا نہ گیا ۔ میں نے منہ کھولا ، مگر مجھے یوں لگا کہ جیسے میں سچ مچ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دوں گا ، اس لیے میں نے جلدی سے اپنے ہونٹ بھینچ لیے ۔
’’ 
وہ میرا ایک چھوٹا سا سفید بکرا تھا … روئی کی طرح نرم و ملائم ۔ ‘‘ وہ دوبارہ بولنے لگا ، ’’ ۳؍ ماہ پہلے وہ پیدا ہوا تھا ۔ وہ جلد ہی میرا دوست بن گیا ۔ امی ابو کے بعد وہ میرا بہت اچھا ساتھی تھا ۔ جب جنگ شروع ہوئی ، تو ایک صبح جب میں جاگا ، تو وہ غائب تھا ۔ میں نے اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈا ۔ کونا کونا چھان مارا ، مگر وہ نہ ملا ۔‘‘

وہ سسک کر خاموش ہو گیا ، مگر صاف لگ رہا تھا کہ اس کے پاس کہنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے ، مگر اتنا تلخ ہے کہ اس کی ہمت نہیں ہو رہی ، لیکن وہ خاموش بھی نہیں رہ سکتا تھا ، اس لیے دوبارہ بولا ۔’’ مجھے ایک جگہ بکرے کی ایک ننّی سی ٹانگ ملی ۔ وہ ٹانگ پومی سے ملتی جلتی تھی ۔ شاید وہی ہو ، مگر … مگر مجھے یقین ہے کہ وہ کوئی اور ہے ۔ پومی کھیلنے کے لیے کہیں گیا ہوگا اور راستہ بھول گیا ہو گا ۔ وہ ضرور واپس آئے گا ۔ ‘‘ وہ خیالوں میں گم ہو گیا ۔ ’’ فوجی لالہ ! جب وہ لوٹے گا ، تو میں اسے بہت ڈانٹوں گا ۔ کسی سے وہ نہیں ڈرتا ، صرف مجھ سے ڈرتا تھا ۔ میں تھوڑی دیر بولوں گا بھی نہیں ۔ میں کہوں گا جب مجھے تیری ضرورت تھی ، تو تو مجھے تنہا چھوڑ کر چلا گیا … دوست ایسے ہوتے ہیں کیا ؟ ‘‘

میں نے مڑ کر اس کے چہرے کو دیکھا ۔ اس کے چہرے پر بڑا کرب تھا ۔ پھر میری آنکھوں میں امنڈنے والی نمی نے اس کا کرب زدہ چہرہ دھندلا دیا ۔
’’ ہو سکتا ہے کہ وہ واقعی راستہ بھول گیا ہو ۔ ‘‘ میں نے اسے دلاسا دیا ۔ ورنہ مجھے یقین تھا کہ وہ کسی حملے میں مر گیا ہو گا ۔
’’ 
ہاں ! مجھے کیوں یقین ہے کہ وہ مر سکتا ہے نہ مجھے اس حال میں چھوڑ سکتا ہے ۔ ‘‘میرے جھوٹے دلاسے نے اس کا غم آدھا کر دیا ۔ میں اسے اور تسلی دینا چاہتا تھا ، مگر مجھ میں اب اور بولنے کی طاقت نہیں رہی تھی ۔
’’ 
مگر وہ بہت بھوکا ہو گا ۔ ‘‘ مجھے خاموش دیکھ کر وہ خودہی کچھ سوچ کر بولا ۔ ’’ وہ صرف میرے ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا ۔ شاید وہ مجھ سے زیادہ بھوکا ہو ۔ ہم کچھ کھانا اس کے لیے بچا کر رکھیں گے ۔ وہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے ۔‘‘
میرا دل چاہا کہ اکیلا کسی کونے میں چھپ کر گھٹنوں میں سر دے کر چلا چلا کر روؤں ۔ یہاں تک کہ میری آنکھیں خشک ہو جائیں ۔

ہمارا باقی کا سفر خاموشی سے طے ہوا ۔ ہم بے خیالی میں جہاں پہنچے تھے ۔ وہاں قطاروں میں ٹرک کھڑے تھے۔ میری آنکھیں امید سے چمک پڑیں کہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں یہاں سے کچھ نہ کچھ مل جائے ۔ شاید ان میں کچھ رہ گیا ہو۔ شاید کسی ڈرائیور سے بات کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے۔ ممکن ہے کسی نے کچھ بچا کر رکھا ہو ۔

میں نے ایک ٹرک میں ڈرائیور والے گیٹ کی طرف سے جھانکا ۔ اندر ایک ٹرک ڈرائیور سو رہا تھا ۔ میں نے اسے جگانا مناسب نہ جانا اور پچھلے حصے میں داخل ہو گیا ، مگر وہاں بھی کچھ نہیں تھا ۔ میں نے ایک ایک کر کے سب کی تلاشی لی ، مگر بے سود ۔مجھے چند ڈرائیور جاگتے ہوئے ملے ۔ وہ تاش کھیل رہے تھے ۔ میں نے ان سے بات کی ، مگر انھوں نے بے پروائی سے جواب دیا ۔

میں وہاں سے بھی مایوس لوٹ آیا ۔ میں جب ان سے کچھ دور ہوا ، تو انھوں نے بڑے زور کا قہقہہ لگایا تھا ۔ یہاں بھوک سے مرتے لوگوں کو دیکھ کر ان کا احساس پتھر ہو گیا تھا۔ انھیں حیرت ہو رہی تھی کہ ایک لاوارث بچے کے لیے میں اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر مارا مارا پھر رہا ہوں۔علاقے کے لوگوں پر ۳؍ مصیبتیں ایک ساتھ نازل ہوئی تھیں ۔ افغانوں نے کچھ لوگوں کو اپنا آلۂ کار بنایا۔ ان کی مدد کے لیے ان ممالک نے اپنے ایجنٹ بھیجے جنھوں نے سادہ لوح لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیا ۔ پھر ان لوگوں نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر ڈالا۔ خواتین کی عزتیں محفوظ نہ رہیں۔ لوگوں کو پکڑ کر جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا ، جو بھی ان کے آڑے آیا، وہ پھر زندہ نہ رہ سکا۔یہ سب کچھ اسلام کے نام پرہوتارہا،وہی دین جوامن کادین ہے۔اس کواپنی مرضی کے مطابق مسخ کرکے اورتوڑموڑ کرپیش کیاگیا۔

حکومت پہلے تو اپنے مفادات کی وجہ سے ان سے غفلت برتتی رہی ، جب معاملات حد سے بڑھ گئے، تو انھیں ہوش آیا، لیکن اس وقت پانی سر سے بلند ہو چکا تھا۔ انھیں اتنا وقت مل چکا تھا کہ وہ اپنی جڑیں پورے ملک میں پھیلا سکیں۔ وہ اتنے مضبوط ہو چکے تھے کہ انھوں نے حکومت کو چیلنج کر دیا۔ ارباب ِاختیار نے مذاکرات سے ان حالات کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ جب اس میں نا کامی ہوئی، تو پاک فوج نے تھوڑے ہی عرصے میں اس علاقے کو ایسے غنڈہ صفت اور شرپسندوں سے خالی کرا لیا ۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ عالمی امن کا سب سے بڑا دعوے دار امریکا وہاں کے معصوم لوگوں پر ڈرون حملے کرنے لگا۔میں یہ سب کچھ سوچتا ہوا ابھی ٹرکوں سے باہر ہی نکلا تھا کہ اسی لمحے آسمان پر ایک قرمزی رنگ کا شعلہ چمکا۔ میں نے ایک طرف چھلانگ لگا کر دونوں ہاتھوں سے کان بند کر لیے اور اوندھے منہ زمین پر لیٹ گیا۔ اسی وقت ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ فضا مسلسل دھماکوں سے لرز اٹھی ۔ مجھے اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔ مجھ پر پتھروں اور مٹی کی بارش ہوتی رہی۔ آخر سکوت چھا گیا۔ میں نے سہمی ہوئی نگاہوں سے سر اٹھا کر آسمان پر ایک ڈرون جہازکو واپس جاتے دیکھا۔ پھر مڑ کر ٹرکوں کی قطار کو دیکھا۔ کئی ٹرک تباہ ہو چکے اورکچھ جل رہے تھے کہ اچانک میرے اندر خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔ ٹرکوں کی ٹینکیاں کسی بھی لمحے آگ پکڑ کر پھٹ سکتی تھیں۔ نتیجے میں لوہے کے گرم گرم ٹکڑے ادھر بھی آ سکتے تھے۔اچانک مجھے ولی خان کا خیال آیا، جسے میں ٹرکوں سے کچھ فاصلے پر چھوڑ آیا تھا۔ میرا دل ڈوبنے لگا۔ میں جلدی سے اس طرف لپکا۔ وہاں اڑتی خاک اور ملبے کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔ بھاگنے کے دوران مجھے چوٹ بھی لگی ، مگر مجھے اس کا کوئی احساس نہیں تھا، کیونکہ میرے حواس پر ولی خان سوار تھا۔ میرے اندیشے کانٹوں کی طرح چبھ رہے تھے۔ اس ننّے اور بھوکے بچے کے بچ جانے کی امید بہت کم تھی۔میں اِدھر اُدھر دوڑنے لگا۔ جلد ہی وہ مجھے ایک دروازے کے نیچے مل گیا۔ اس وقت وہ دروازہ جل رہا تھا اور بہت گرم تھا، مگر میں نے پکڑکر پوری قوت سے ایک طرف پھینک دیا۔ میرے ہاتھ جل گئے ، مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے اندر درد کی حس ہی مر گئی ہو۔ اس کی ایک ٹانگ گیٹ کے پھل سے کٹ گئی تھی۔ وہاں سے اب خون پرنالے کی طرح بہ رہا تھا، وہ زندہ تھا۔ میں نے اسے جلدی سے اٹھایا اور اندھا دھند ٹرکوں سے دور بھاگنے لگا۔ نشیب میں اتر کر میں نے اس کا جائزہ لیا۔ وہ ہچکیاں لے رہا تھا۔ اس کے متغیر چہرے کا رنگ تیزی سے زرد ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں روٹی کا ایک سوکھا ہوا چھوٹا سا ٹکڑا تھا، جو جانے کہاں سے اسے مل گیا تھا۔
’’
جنگ خود ایک مسئلہ ہے،یہ مسائل کوحل کیاکرے گی۔‘‘وہ اَٹک اَٹک کر بولنے لگا، پھر خاموش ہو گیا۔ میں نے اپنی قمیص اتاری اور اس کی ٹانگ سختی سے باندھ دی۔ اس وقت میں خود کو بہت مجبور سمجھ رہا تھا۔ اس کی ٹانگ سے بہتے خون میں کوئی کمی نہ آئی۔ میری خاکی قمیص جلد ہی سرخ ہوگئی اور اب لہو کے قطرے باہر رس رہے تھے۔
’’ فوجی لالہ! ‘‘ اس نے مجھے مخاطب کیا۔ ’’تم … تم میرے لیے رو رہے ہو؟‘‘
’’
ہاں!‘‘ میں نے بے اختیارہچکی لی۔
’’کیوں؟‘‘ اس کے چہرے پر کرب پھیل گیا۔
’’
اس لیے…اس لیے کہ میرے بچے! میں تمھیں بہت چاہتا ہوں۔‘‘ میرے آنسو اس کے چہرے پر گرنے لگے۔’’فوجی لالہ!‘‘ اس کا لہجہ کمزور پڑنے لگا۔
’’تم کچھ کہنا چاہتے ہو نا؟‘‘ میں نے اس کی پیشانی چوم کر پوچھا۔
’’ہاں…آں…ہاں…‘‘ اس نے سر کو ہلکی سی حرکت دی۔
’’
فوجی لالہ!یہ ہم نے امریکی لوگوں کا کیا بگاڑا ہے۔ یہ ہم کو بمبوں سے کیوں مارتے ہیں؟ ہم تو پہلے ان کی وجہ سے بھوک سے مر رہے ہیں۔ ’’ولی خان! میرے بچے! تم ہمت نہ ہارو۔‘‘
’’تم دنیا کو بتا دینا کہ…کک کہ…‘‘ اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔
’’ولی خان! میں سن رہا ہوں …بولو ۔ شاباش!‘‘
’’کک…کک کہ…بھبھ…بھبھ بھوک… ‘‘

اس کی بات ادھوری رہ گئی اور گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی۔ میرے چہرے کو تکتی آنکھیں ہمیشہ کے لیے ساکت ہو گئیں۔ آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی تھی۔ وہ مر چکا تھا۔
’’
ولی خان…! بولو ولی خان…!‘‘ میں نے اسے سینے سے چمٹا لیا۔میں اس کے سینے پر سر رکھ کر بڑی دیر تک بلک بلک کر روتا رہا۔ میرے ساتھیوں نے آ کر مجھے اٹھایا۔ جو ٹرک ڈرائیور بچ گئے تھے، وہ ہمارے گرد کھڑے تھے۔ اب کسی کی آنکھوں میں تضحیک نہیں تھی۔ وہ پہلے ہی سے ولی خان کے ساتھ میری جذباتی وابستگی سے آگاہ تھے اور ممکن ہے اب اپنے اس مذاق پر شرمندہ ہوں۔

Wednesday, May 16, 2012

How To Win Heart Of Your Husband or Wife - Love Story


How To Win Heart Of Your Husband or Wife - Love Story

ان بہنوں اور بیٹیوں کیلئے تحفہ جنکے تعلقات آپنے شوهروں کیساتهه ٹهیک نہیں هے اور جو اپنے شوهر کو قابو کرنا چاهتے هیں ایک عورت گاؤں کے عالم کو روایتی والا عامل سمجھتی تھی جو گنڈے اور تعویذ کا کام کرتا ہے۔ اس لیئے جاتے ہی اس نے فرمائش کر ڈالی کہ مجھے ایسا عمل کر دیجئے کہ میرا خاوند میرا مطیع بن کر رہے اور مجھے ایسی محبت دے جو دنیا میں کسی عورت نے نا پائی ہو۔ بندہ عامل ہوتا تو جھٹ سے تعویذ لکھتا اور اپنے پیسے کھرے کرتا، وہ جانتا تھا کہ خاتون اسے کچھ اور ہی سمجھ کر اپنی مراد پانے کیلئے آئی بیٹھی ہے۔ یہی سوچ کر عالم صاحب نے کہا، محترمہ، تیری خواہش بہت بڑی ہے لہٰذہ اس کے عمل کی قیمت بھی بڑی ہوگی، کیا تم یہ قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہو؟ عورت نے کہا میں بخوشی ہر قیمت دینے کیلئے تیار ہوں۔ عالم نے کہا ٹھیک ہے تم مجھے شیر کی گردن سے ایک بال خود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر لا دو تاکہ میں اپنا عمل شروع کر سکوں۔ شیر کی گردن کا بال اور وہ بھی میں اپنے ہاتھ سے توڑ کر لا دوں؟ جناب آپ اس عمل کی قیمت روپوں میں مانگیئے تو میں ہر قیمت دینے کو تیار ہوں مگر یہ توآپ عمل نا کر کے دینے والی بات کر رہے ہیں! آپ جانتے ہی ہیں کہ شیر ایک خونخوار اور وحشی جانور ہے۔ اس سے پہلے کی میں اس کی گردن تک پہنچ کر اسکا بال حاصل کر پاؤں وہ مجھے پہلے ہی پھاڑ کھائے گا۔ عالم نے کہا، بی بی، میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ اس عمل کے لئے شیر کی گردن کا بال ہی لانا ہوگا اور وہ بھی تم اپنے ہاتھ سے توڑ کر لاؤ گی۔ اس عمل کو بس اسی طرح ہی کیا جا سکتا ہے۔ عورت ویسے تو مایوس ہو کر ہی وہاں سے چلی مگر پھر بھی اس نے اپنی چند ایک راز دان سہیلیوں اور مخلص احباب سے مشورہ کیا تواکثر کی زبان سے یہی سننے کو ملا کہ کام اتنا ناممکن تو نہیں ہے کیونکہ شیر تو بس اسی وقت ہی خونخوار ہوتا ہے جب بھوکا ہو۔ شیر کو کھلا پلا کر رکھو تو اس کے شر سے بچا جا سکتا ہے۔ اس عورت نے یہ نصیحتیں اپنے پلے باندھیں اور جنگل میں جا کر آخری حد تک جانے کی ٹھان لی۔ عورت شیر کیلئے گوشت پھینک کر دور چلی جاتی اور شیر آ کر یہ گوشت کھا لیتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ شیر اور اس عورت میں الفت بڑھتی چلی گئی اور فاصلے آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گئے۔ اور آخر وہ دن آن ہی پہنچا جب شیر کو اس عورت کی محبت میں کوئی شک و شبہ نا رہا تھا۔ عورت نے گوشت ڈال کر اپنا ہاتھ شیر کے سر پر پھیرا تو شیر نے طمانیت کے ساتھ اپنی آنکھیں موند لیں۔ یہی وہ لمحہ تھا عورت نے آہستگی سے شیر کی گردن سے ایک بال توڑا اور وہاں سے بھاگتے ہوئے سیدھا عالم کے پاس پہنچی۔ بال اس کے ہاتھ پر رکھتے ہی پورے جوش و خروش کے ساتھ بولی، یہ لیجیئے شیر کی گردن کا بال۔ میں نے خود اپنے ہاتھ سے توڑا ہے۔ اب عمل کرنے میں دیر نا لگائیے۔

 تاکہ میں اپنے خاوند کا دل ہمیشہ کیلئے جیت کر اس سے ایسی محبت پا سکوں جو دنیا کی کسی عورت کو نا ملی ہو۔ عالم نے عورت سے پوچھا، یہ بال حاصل کرنے کیلئے تم نے کیا کیا؟ عورت نے جوش و خروش کے ساتھ پوری داستان سنانا شروع کی کہ وہ کس طرح شیر کے قریب پہنچی، اس نے جان لیا تھا کہ بال حاصل کرنے کیلئے شیر کی رضا حاصل کرنا پڑے گی۔ اور یہ رضا حاصل کرنے کیلئے شیر کا دل جیتنا پڑے گا جب کہ شیر کے دل کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر جاتا ہے۔ پس شیر کا دل جیتنے کیلئے اس نے شیر کے معدے کو باقاعدگی سے بھرنا شروع کیا۔ اس کام کے لئے ایک بہت صبر آزما انتظار کی ضرورت تھی اور آخر وہ دن آ پہنچا جب وہ شیر کا دل جیت چکی تھی اور اپنا مقصد پانا اس کیلئے بہت آسان ہو چکا تھا۔ عالم نے عورت سے کہا، اے اللہ کی بندی؛ میں نہیں سمجھتا کہ تیرا خاوند اس شیر سے زیادہ وحشی ، اجڈ اور خطرناک ہے۔ تو اپنے خاوند کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیوں نہیں کرتی جیسا سلوک تو نے اس شیر کے ساتھ کیا۔ جان لے کہ مرد کے دل کا راستہ بھی اس کے معدے سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔ خاوند کے پیٹ کو بھر کر رکھ، مگر صبر کے ساتھ، ویسا صبر جیسا شیر جیسے جانور کو دوست بننے کے مرحلے تک میں کیا تھا۔ 

یہ پوسٹ پسند آنے کیصورت میں اپنے تمام فیمل فرینڈز کیساتهه شیئر یا ٹیگ کر لیں تاکہ کسی بہن یا بیٹی کا گهر اجهڑنے 
سے بچ جائے اور همیں بهی اس نیک پیغام کا ثواب حاصل هو سکے.


Sunday, May 13, 2012

Never Judge Anyone Before Of Time - Story of my life

Never Judge Anyone Before Of Time - Story of my life

General : A doctor entered the hospital in hurry after being called in for an urgent surgery. He answered the call asap, changed his clothes & went directly to the surgery block. He found the boy’s father pacing in the hall waiting for the doctor.


Patient's Father: On seeing him, the dad yelled:
“Why did U take all this time to come? Don’t U know that my son’s life is in danger? Don’t U have any sense of responsibility?”

Doctor: The doctor smiled & said:
“I am sorry, I wasn’t in the hospital & I came as fast as I could after receiving the call…… And now, I wish you’d calm down so that I can do my work”

Patient's Father: “Calm down?! What if your son was in this room right now, would U calm down? If your own son dies now what will U do??” said the father angrily

Doctor: The doctor smiled again & replied: “I will say what Job said in the Holy Book “From dust we came & to dust we return, blessed be the name of God”. Doctors cannot prolong lives. Go & intercede for your son, we will do our best by God’s grace”

General : “Giving advises when we’re not concerned is so easy” Murmured the father.

Doctor: The surgery took some hours after which the doctor went out happy,
“Thank goodness!, your son is saved!” And without waiting for the father’s reply he carried on his way running. “If U have any question, ask the nurse!!”

Patient's Father: “Why is he so arrogant? He couldn’t wait some minutes so that I ask about my son’s state” Commented the father when seeing the nurse minutes after the doctor left.

Nurse: The nurse answered, tears coming down her face: “His son died yesterday in a road accident, he was in the burial when we called him for your son’s surgery. And now that he saved your son’s life, he left running to finish his son’s burial.”

Moral-Never judge anyone….. because U never know how their life is & what they’re going through...”

Friday, May 11, 2012

when Dooms day ( Qiamat ) will begun - Novel

When Dooms day ( Qiamat ) will begun  - Novel

زمین کے سینے پر ایک سلوٹ بھی باقی نہیں رہی تھی۔ دریا اور پہاڑ، کھائی اور ٹیلے، سمندر اور جنگل، غرض دھرتی کا ہر نشیب مٹ چکا اور ہر فراز ختم ہوچکا تھا۔ دور تک بس ایک چٹیل میدان تھا اور اوپر آگ اگلتا آسمان…… مگر آج اس آسمان کا رنگ نیلا نہ تھا، لال انگارہ تھا۔ یہ لالی سورج کی دہکتی آگ کے بجائے جہنم کے اُن بھڑکتے شعلوں کا ایک اثر تھی جو کسی اژدہے کی مانند منہ کھولے وقفے وقفے سے آسمان کی طرف لپکتے اور سورج کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے۔ جہنمی شعلوں کی لپک کا یہ خوفناک منظر اور بھڑکتی آگ کے دہکنے کی آواز دلوں کو لرزا رہی تھی۔

لرزتے ہوئے یہ دل مجرموں کے دل تھے۔ یہ غافلوں، متکبروں، ظالموں، قاتلوں اور سرکشوں کے دل تھے۔ یہ زمین کے فرعونوں اور جباروں کے دل تھے۔ یہ اپنے دور کے خداؤں اور زمانے کے ناخداؤں کے دل تھے۔ یہ دل اُن لوگوں کے تھے جو گزری ہوئی دنیا میں ایسے جیے جیسے انہیں مرنا نہ تھا۔ مگر جب مرے تو ایسے ہوگئے کہ گویا کبھی دھرتی پر بسے ہی نہ تھے۔ یہ خدا کی بادشاہی میں خدا کو نظرانداز کرکے جینے والوں کے دل تھے۔ یہ مخلوقِ خدا پر اپنی خدائی قائم کرنے والوں کے دل تھے۔ یہ انسانوں کے درد اور خدا کی یاد سے خالی دل تھے۔

سو آج وہ دن شروع ہوگیا جب ان غافل دلوں کو جہنم کے بھڑکتے شعلوں اور ختم نہ ہونے والے عذابوں کی غذا بن جانا تھا…… وہ عذاب جو اپنی بھوک مٹانے کے لیے پتھروں اور اِن پتھر دلوں کے منتظر تھے۔ آج اِن عذابوں کا ’یوم العید‘ تھاکہ ان کی ازلی بھوک مٹنے والی تھی۔ ان عذابوں کے خوف سے خدا کے یہ مجرم کسی پناہ کی تلاش میں بھاگتے پھررہے تھے…… مگر اس میدانِ حشر میں کیسی پناہ اور کون سی عافیت۔ ہر جگہ آفت، مصیبت اور سختی تھی…… اور ان پتھر دل مجرموں کی ختم نہ ہونے والی بدبختی تھی۔



خبر نہیں اس حال میں کتنے برس…… کتنی صدیاں گزرچکی ہیں۔ یہ حشر کا میدان اور قیامت کا دن ہے۔ نئی زندگی شروع ہوچکی ہے…… کبھی ختم نہ ہونے کے لیے۔ میں بھی حشر کے اِس میدان میں گُم سم کھڑا خالی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ میرے سامنے ان گنت لوگ بھاگتے، دوڑتے، گرتے پڑتے چلے جارہے ہیں۔ فضا میں شعلوں کے بھڑکنے کی آواز کے ساتھ لوگوں کے چیخنے چلانے، رونے پیٹنے اور آہ و زاری کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، گالیاں دے رہے ہیں، لڑ جھگڑرہے ہیں، الزام تراشی کررہے ہیں، آپس میں گتھم گتھا ہیں۔

کوئی سر پکڑے بیٹھا ہے۔ کوئی منہ پر خاک ڈال رہا ہے۔ کوئی چہرہ چھپارہا ہے۔ کوئی شرمندگی اٹھارہا ہے۔ کوئی پتھروں سے سر ٹکرارہا ہے۔ کوئی سینہ کوبی کررہا ہے۔ کوئی خود کو کوس رہا ہے۔ کوئی اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، دوستوں اور لیڈروں کو اپنی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہراکر ان پر برس رہا ہے۔ ان سب کا مسئلہ ایک ہی ہے۔ قیامت کا دن آگیا ہے اور ان کے پاس اس دن کی کوئی تیاری نہیں۔ اب یہ کسی دوسرے کو الزام دیں یا خود کو برا بھلا کہیں، ماتم کریں یا صبر کا دامن تھامیں، اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ اب تو صرف انتظار ہے۔ کائنات کے مالک کے ظہور کا، جس کے بعد حساب کتاب شروع ہوگا اور عدل کے ساتھ ہر شخص کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا۔

یکایک ایک آدمی میرے بالکل قریب چلایا:

’’ہائے…… اِس سے توموت اچھی تھی۔ اِس سے تو قبر کا گڑھا اچھا تھا۔‘‘

میں اردگرد کی دنیا سے بالکل کٹ چکا تھا کہ یہ چیخ نما آواز مجھے سوچ کی وادیوں سے حقیقت کے اس میدان میں لے آئی جہاں میں بہت دیر سے گم سم کھڑا تھا۔ لمحہ بھر میں میرے ذہن میں ابتدا سے انتہا تک سب کچھ تازہ ہوگیا۔ اپنی کہانی، دنیا کی کہانی، زندگی کی کہانی…… سب فلم کی ریل کی طرح میرے دماغ میں گھومنے لگی۔

…………………………

اس بھیانک دن کے آغاز پر میں اپنے گھر میں تھا۔ یہ گھر ایک ظاہر بیں نظر کے لیے قبر کا تاریک گڑھا تھا، مگر دراصل یہ آخرت کی حقیقی دنیا کا پہلا دروازہ اور برزخ کی دنیا تھی۔ وہ دنیا جس میں میرے لیے ختم نہ ہونے والی راحت تھی۔ اُس روز مجھ سے میرا ہمدمِ دیرینہ اور میرا محبوب دوست صالح ملنے آیا ہوا تھا۔ صالح وہ فرشتہ تھا جو دنیا کی زندگی میں میرے دائیں ہاتھ پر رہا۔ اس کی قربت موت کے بعد کی زندگی میں میرے لیے ہمیشہ باعثِ طمانیت رہی تھی اور آج بھی ہمیشہ کی طرح ہماری پرلطف گفتگو جاری تھی۔ دوران گفتگو میں نے اس سے پوچھا:

’’یار یہ بتاؤ تمھاری ڈیوٹی میرے ساتھ کیوں لگائی گئی ہے؟‘‘

’’بات یہ ہے عبد اﷲ کہ میں اور میرا ساتھی دنیا میں تمھارے ساتھ ڈیوٹی کیا کرتے تھے۔ وہ تمھاری برائیاں اور میں نیکیاں لکھتا تھا۔ تم مجھے دو منٹ فارغ نہیں رہنے دیتے تھے۔ کبھی اﷲ کا ذکر، کبھی اس کی یاد میں آنسو، کبھی انسانوں کے لیے دعا، کبھی نماز، کبھی اﷲ کی راہ میں خرچ، کبھی خدمت خلق…… کچھ اور نہیں تو تمھارے چہرے پر ہمہ وقت دوسروں کے لیے مسکراہٹ رہتی تھی۔ اس لیے میں ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتا ہی رہتا تھا۔ تم نے مجھے تھکاکر مار ہی ڈالا تھا، لیکن ہم فرشتے تم انسانوں کی طرح تو ہوتے نہیں کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیں۔ اس لیے تمھاری اس ’برائی‘ کے جواب میں بھی دیکھ لوکہ میں تمھارے ساتھ ہوں اور تمھارا خیال رکھتا ہوں۔‘‘، صالح نے انتہائی سنجیدگی سے میری بات کا جواب دیا۔

میں نے اس کی بات کے جواب میں اسی سنجیدگی کے ساتھ کہا:

’’تم سے زیادہ ’برائی ‘میں نے الٹے ہاتھ والے کے ساتھ کی تھی۔ وہ میرا گناہ لکھتا، مگر میں اس کے بعد فوراً توبہ کرلیتا۔ پھر وہ بے چارہ اپنے سارے لکھے لکھائے کو بیٹھ کر مٹاتا اور مجھے برا بھلا کہتا کہ تم نے مٹوانا ہی تھا تو لکھوایا کیوں تھا۔ آخرکار اس نے تنگ آکر اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس شخص سے میری جان چھڑائیں۔ اس لیے موت کے بعد سے اب تم ہی میرے ساتھ رہتے ہو۔‘‘

یہ سن کر صالح نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ پھر وہ بولا:

’’فکر نہ کرو حساب کتاب کے وقت وہ پھر آجائے گا۔ قانون کے تحت ہم دونوں مل کر ہی تمھیں اﷲ تعالیٰ کے سامنے پیش کریں گے۔‘‘

یہ بات کہتے کہتے اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی کے آثار نمودار ہوگئے۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوا اور سر جھکاکر ایک گہری خاموشی میں ڈوب گیا۔ میں نے اس کا یہ انداز آج تک نہ دیکھا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے سر اٹھایا تو اس کے چہرے سے ہمیشہ رہنے والی شگفتگی اور مسکراہٹ رخصت ہوچکی تھی اور اس کی جگہ خوف و حزن کے سایوں نے لے لی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا:

’’عبد اﷲ! اسرافیل کو حکم مل چکا ہے۔ خدا کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اہلِ زمین کی مہلت ختم ہوگئی ہے۔ تم کچھ عرصہ مزید برزخ کے اس پردے میں خدا کی رحمتوں کے سائے میں رہوگے، مگر میں اب رخصت ہورہا ہوں۔ اب میں تم سے اس وقت ملوں گا جب زندگی شروع ہوگی۔ تمہاری آنکھ کھلے گی تو قیامت کا دن شروع ہوچکا ہوگا۔ میں اس روز تم سے دوبارہ ملوں گا۔‘‘


زندگی کے ہنگامے جاری تھے۔ بازاروں میں وہی چہل پہل اور گہماگہمی تھی۔ نیویارک، لاس اینجلس، لندن، پیرس، شنگھائی، دہلی، ماسکو، کراچی، لاہور ہر جگہ رونق میلے لگے ہوئے تھے۔ رات کو دن کردینے والی سیلابی روشنیوں میں20,20کرکٹ میچ اور فٹبال ورلڈ کپ کے مقابلے، ان کو دیکھتے اور تالیاں بجاتے تماشائی۔ پب (pub) اور بار میں شراب پیتے اور کلبوں میں اسٹرپ ٹیز (striptease) دیکھتے بدمست لوگ۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی ایکشن اور تھرل فلموں میں اداکاروں کے جلوے اور ان جلووں کے شوقین تماش بین۔ فلموں، ڈراموں، اسٹیج، ٹی وی، بیلی(belly) ڈانس اور فیشن شوز میں تھرکتی، مٹکتی، اپنے جسم کی نمائش کرتی ماڈلز اور اداکارائیں اور اس نمائش سے اپنی تجوریاں بھرتے سرمایہ دار۔ نئے دور کے نئے فاتحین ِعالم…… ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان اور ان کو اپنا علم و ہنر بیچ کر اپنے مستبقل کے خواب بُننے والے باصلاحیت نوجوان۔ میڈیا کی چمک دمک، صحافت کے مرچ مصالحے اور بازارِ سیاست کے ماند نہ پڑنے والے مکر و فریب کے ہنگامے۔ بازاروں میں گھومتے اور خریداری کرتے مرد و خواتین اور اُن کو بلاتی رِجھاتی دکانیں اور دکاندار۔ امرا کے عشرت کدوں میں گونجتے ساز و آواز، غربا کے جھونپڑوں میں فقر و افلاس، شادیوں کی تقریبات میں خوشی کے نغمے، جنازوں اور ہسپتالوں میں غم و الم کے سائے۔ خدا کے نام پر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے اہل مذہب، غریبوں اور ان کے مسائل سے ہمیشہ کی طرح بے نیاز اہل ثروت۔ کرپشن کی ناپاک کمائی سے اپنی جیبیں بھرتے سرکاری ملازم اور ملاوٹ و ذخیرہ اندوزی سے اپنی تجوریاں بھرتے ہوئے حرام خور تاجر۔ عوام کا استحصال کرتے اہل اقتدار اور دنیا پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کے منصوبے بناتی سپر پاورز، سب اپنے اپنے مشغلوں اور کاموں میں مگن تھے۔

اہلِ زمین جو ہمیشہ سے کرتے آئے تھے، وہی کررہے تھے۔ ظلم و فساد کی داستانیں، دھوکہ و فریب کی کہانیاں، حرص و ہوس کی دوڑ، غفلت اور سرکشی کے رویے، خدا اور آخرت فراموشی، سیاسی ہنگامے، معاشی جدوجہد، مذہبی جھگڑے، طبقاتی کشمکش…… ہر چیز ہمیشہ کی طرح جاری تھی۔ پیغمبر تو صدیوں پہلے آنے بند ہوگئے تھے۔ ایگریکلچرل (agricultural) ایج، انڈسٹریل (industrial) ایج سے بدلی اور انڈسٹریل ایج، انفارمیشن (information) ایج سے، مگر انسانی رویے نہیں بدلے۔ ان کے غم بھی نہیں بدلے۔ وہی کاروبار اور روزگار کی پریشانیاں، وہی عشق و محبت کی ناکامیاں، وہی موت اور بیماری کے مسائل۔ اس وقت بھی انسانوں کے ہاں ہر غم تھا، سوائے غم آخرت کے۔ ہر خوف تھا، سوائے خوفِ خدا کے۔ آسمان کی آنکھ یہ دیکھ رہی تھی کہ خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے بھردینے والا انسان اب دھرتی کا ناقابلِ برداشت بوجھ بن گیا ہے۔ سو انسان کو بار بار ہلایا گیا۔ نبی آخر الزماں کی پیش گوئیاں پوری ہونے لگیں۔ ننگے پاؤں بکریاں چرانے والے عربوں نے دنیا کی بلند ترین عمارتیں بنالیں، مگر انسانیت ہوش میں نہیں آئی۔ نوح کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد یعنی یاجوج و ماجوج کی نسل دنیا کے پھاٹکوں کی مالک بن گئی۔ عظمت کی ہر بلندی سے یہی یاجوج و ماجوج ساکنانِ دنیا پر یلغار کرنے لگے۔ برطانیہ، روس، امریکہ اور چین…… ایک کے بعد ایک دنیا کے اقتدار کی مسند پر فائز ہوتے گئے، آسمانی صحیفوں کی تمام پیش گوئیاں پوری ہوگئیں، مگر انسانیت پھر بھی ہوش میں نہ آئی۔ سونامی آئے، سیلاب آئے، زلزلے آئے، مگر انسانیت غفلت سے نہ نکلی۔ خدا نے انفارمیشن ایج پیدا کردی۔ اس کے عجمی بندوں نے نبی عربی کے پیغام کو اٹھایا اور انسانیت پر حجت تمام کردی، مگر انسانیت پھر بھی نہ سنبھلی۔ قیامت سے قبل قیامت کی منظر کشی آخری درجے میں کرکے انسانیت کو جھنجھوڑ دیا گیا، مگر لوگوں کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ سو جسے آخرکار آنا تھا، وہ آگئی۔ اسرافیل نے خدا کا حکم سنا اور صور ہاتھ میں اٹھالیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قیامت آگئی۔

سورج کی بساط لپیٹ دی گئی۔ تارے بے نور ہونے لگے۔ ہمالیہ جیسے پہاڑ ہوا میں روئی کے مانند اُڑنے لگے…… کہسار ریگزار بن گئے۔ سمندروں نے پہاڑ جتنی اونچی لہریں اٹھانا شروع کردیں…… میدان سمندر بن گئے۔ زمین نے اپنے آتش فشاں باہر اگل دئے…… وادیوں میں آگ کے دریا بہنے لگے۔ دھرتی نے اپنے سارے زلزلے باہر نکال پھینکے…… زمین الٹ پلٹ ہوگئی۔ شہر کھنڈروں میں بدلنے لگے۔ عمارتیں خاک ہونے لگیں۔ آبادیاں قبرستانوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔

کمزور انسان کی بھلا حیثیت ہی کیا تھی۔ وہ جو کچھ دیر قبل نئے گھر کی تعمیر کے منصوبے بنارہے تھے، نئی دکان اور نئے کاروبار کی منصوبہ بندی کررہے تھے، شادی اور نکاح کی امیدیں باندھ رہے تھے، نئی کار اور نئے کپڑوں کی خریداری کررہے تھے، اولاد کے مستقبل کی پلاننگ میں مصروف تھے…… اپنے تمام ارادے اور سارے عزائم بھول گئے۔ مائیں دودھ پیتے بچے چھوڑ کر بھاگیں۔ حاملہ عورتوں کے حمل گرگئے۔ طاقتور کمزوروں کو کچلتے اور نوجوان بوڑھوں کو چھوڑتے بھاگنے لگے۔ سونا چاندی سر راہ پڑے ہیں، نوٹ ہوا میں اُڑ رہے ہیں، قیمتی سامان بکھرا ہوا ہے، مگر کوئی لینے والا، سمیٹنے والا نہیں۔ گھر…… کاروبار…… رشتے دار…… ناطہ و اسباب…… سب غیر اہم ہوچکے ہیں۔ ہر نفس صرف اپنی فکر میں ہے۔ آج انسان سب کو بھول گیا ہے، صرف ایک خدا کو پکار رہا ہے، مگرکوئی جواب نہیں آتا۔ دہریے اور ملحد بھی نامِ خدا کی دہائی دے رہے ہیں، مگر کوئی جائے عافیت نظر نہیں آتی۔ بربادی کے سائے پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ موت ہر جگہ تعاقب کررہی ہے۔ مصیبت نے ہر طرف سے گھیر لیا ہے۔ آخر کار زندگی موت سے شکست کھاگئی۔ زندگی ختم ہوگئی…… مگر اس لیے کہ زندگی کو اب شروع ہونا تھا۔

…………………………

ہوا کی تیز سرسراہٹ کی آواز میرے کانوں میں آنے لگی۔ بارش کی کچھ بوندیں میرے چہرے پر گریں۔ مجھے ہوش آنے لگا۔ میں بہت دیر تک اُٹھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر میرے حواس مکمل طور پر بیدار نہ ہوسکے۔ کافی دیر میں اسی حال میں رہا۔ اچانک میرے کانوں میں ایک مانوس آواز آئی:

’’عبد اﷲ! اٹھو جلدی کرو۔‘‘، یہ میرے ہمدمِ دیرینہ، میرے یارِ غار صالح کی آواز تھی۔ اس کی آواز نے مجھ پر جادو کردیا اور میں ایک دم سے اٹھ کھڑا ہوا۔

’’میں کہاں ہوں؟‘‘، یہ میرا پہلا اور بے ساختہ سوال تھا۔

’’تم بھول گئے، میں نے تم سے کیا کہا تھا۔ قیامت کا دن شروع ہوگیا ہے۔ اسرافیل دوسرا صور پھونک رہے ہیں۔ اس وقت اس کی صدا بہت ہلکی ہے۔ ابھی اس کی آواز سے صرف وہ لوگ اٹھ رہے ہیں جو پچھلی زندگی میں خدا کے فرمانبرداروں میں سے تھے۔‘‘، اس نے میرا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔

’’اور باقی لوگ؟‘‘، میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔

’’تھوڑی ہی دیر میں اسرافیل کی آواز بلند ہوتی چلی جائے گی اور اس میں سختی آجائے گی۔ پھر یہ آواز ایک دھماکے میں بدل جائے گی۔ اس وقت باقی سب لوگ بھی اُٹھ جائیں گے، مگر وہ اُٹھنا بہت مصیبت اور تکلیف کا اُٹھنا ہوگا۔ ہمیں اس سے پہلے ہی یہاں سے چلے جانا ہے۔‘‘، اس نے تیزی سے جواب دیا۔

’’مگر کہاں؟‘‘، یہ سوال میری آنکھوں سے جھلکا ہی تھا کہ صالح نے اسے پڑھ لیا۔

’’تم خوش نصیب ہو عبداﷲ! ہم عرش کی طرف جارہے ہیں۔‘‘، وہ تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا بولا۔پھر مزید تفصیل بتاتے ہوئے اس نے کہا:

’’اس وقت صرف انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین ہی اپنی قبروں سے باہر نکلے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی کامیابی کا فیصلہ دنیا ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خد اکو بِن دیکھے مان لیا تھا، اُسے چھوئے بغیر پالیا تھا اور اُس کی صدا اُس وقت سن لی جب کان اُس کی آواز سننے سے قاصر تھے۔ یہ لوگ اُس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اُن کی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کردیا۔ اِن کی وفاداری اپنی مذہبی شخصیات، اپنے لیڈروں، اپنے فرقے کے اکابرین اور اپنے باپ دادا کے عقائد اور تعصبات سے نہ تھی بلکہ صرف اور صرف خدا اور اُس کے رسولوں سے تھی۔ انہوں نے خداپرستی کے لیے ہر دکھ جھیلا، ہر طعنہ سنا اور ہر سختی برداشت کی۔ اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کو اپنی زندگی بنایا۔ خدا سے محبت اور مخلوق پر شفقت کے ساتھ زندگی گزاری۔ عبداﷲ! آج ان لوگوں کے بدلے کا وقت ہے۔ اور یہ ہے ان کے بدلے کا آغاز۔‘‘

صالح کی باتیں سنتے ہوئے میرے چہرے سے حیرت اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی تھی۔

’’مگر میں تو جنت میں تھا اور……‘‘، صالح نے ہنستے ہوئے میری بات کاٹ کر کہا:

’’شہزادے وہ برزخ کا زمانہ تھا۔ خواب کی زندگی تھی۔ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔ جنت تو اب ملے گی۔ ویسے وہ بھی حقیقت ہی تھی۔ دیکھ لو تمھاری اور میری دوستی وہیں پر ہی ہوئی تھی۔‘‘

میں اپنا سر جھٹک کر اسے دیکھنے لگا۔ کچھ کچھ میری سمجھ میں آرہا تھا اور بہت کچھ سمجھنا ابھی باقی تھا۔ مگر اس لمحے میں نے اپنے آپ کو صالح کے حوالے کرنا زیادہ بہتر محسوس کیا۔

…………………………

صالح سے میری دوستی اُس وقت ہوئی تھی جب میں نے موت کے بعد یا زیادہ درست الفاظ میں فانی دنیا کے دھوکے سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ لوگ موت سے بہت ڈرتے ہیں، مگر میرے لیے موت ایک انتہائی خوشگوار تجربہ تھی۔ ملک الموت عزرائیل کا نام دنیا میں دہشت کی ایک علامت ہے، مگر میرے سامنے وہ ایک انتہائی خوبصورت شکل میں آئے تھے۔ انہوں نے بہت محبت اور شفقت سے میری شخصیت یعنی میری روح کو میرے جسم سے جدا کیا۔ میرا جسمانی وجود سابقہ دنیا میں رہ گیا اور میری اصل شخصیت کو انھوں نے اِس نئی دنیا میں جس کا نام عالم برزخ تھا، منتقل کردیا۔ برزخ کا مطلب پردہ ہوتا ہے۔ ملک الموت کے ظاہر ہوتے ہی میرے اور پچھلی دنیا کے درمیان ایک پردہ حائل ہوگیا۔ جس کی بنا پر اُس دنیا سے میرا رابطہ ختم ہوگیا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میری جدائی کے غم میں میرے اہل خانہ پر کیا گزر رہی تھی، لیکن مجھے یقین تھا کہ میری تربیت کی بنا پر وہ خدا کی رضا پر صابر و شاکر ہوں گے۔

میں اپنی اصل شخصیت سمیت اب ایک نئی دنیا میں تھا۔ یہ برزخ کی دنیا تھی۔ اِس نئی دنیا میں ملک الموت عزرائیل نے مجھے جس شخص کے حوالے کیا، وہ یہی صالح تھا۔ اس کے ساتھ بہت سے خوش شکل، خوش لباس اور خوش گفتار فرشتے موجود تھے۔ اِن سب کے ہاتھوں میں گلدستے، زبان پر مبارکبادیاں اور سلامتی کی دعائیں تھیں۔ مبارک سلامت کے اس ماحول میں وہ سب مل کر مجھے یقین دلارہے تھے کہ آزمائش کے دن ختم اور جنت کی عظیم کامیابی کے دن شروع ہوگئے۔ اس وقت صالح نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ برزخی زندگی کے آغاز پر میرے لیے پہلا انعام پروردگارِ ارض و سماوات کے حضور پیشی ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ اعزاز ہر شخص کو نہیں ملتا۔ میرے لیے یہ خوشخبری جنت کی خوشخبری سے بھی زیادہ قیمتی تھی۔

ان سب کی معیت میں میرا سفر شروع ہوا۔ یہ نئی دنیا تھی۔ جہاں فاصلے، مقامات، زمان (time) اور مکان (space) کے معنی اس طرح بدل گئے تھے کہ وہ الفاظ کے کسی جامے میں بیان نہیں ہوسکتے۔ میں مستی و سرشاری کے عالم میں یہ سفر طے کررہا تھا کہ ایک جگہ ہم روک دیے گئے۔ اعلان ہوا کہ زمین کے فرشتوں کی حد آگئی ہے۔ سب یہاں رک جائیں۔ صرف صالح کو میرے ساتھ آگے بڑھنے کی اجازت ملی۔ عالمِ سماوات کا سفر شروع ہوا۔ جلد ہی ہم ایک اور جگہ پہنچ کر رک گئے۔ یہاں جبریلِ امین خاص طور پر میرے استقبال کے لیے آئے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ کہنے لگے:

’’عبد اﷲ! تم مجھ سے پہلی دفعہ مل رہے ہو، مگر میں تم سے پہلے بھی کئی دفعہ مل چکا ہوں۔‘‘

پھر ہولے سے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولے:

’’آقا کے حکم پر کئی دفعہ میں نے تمھاری مدد کی تھی۔ مگر ظاہر ہے تم اس وقت یہ نہیں جانتے تھے۔‘‘

آقا کے لفظ سے میرے چہرے پر ایک روشنی پھوٹی، جسے جبریل کے نورانی وجود نے الفاظ میں ڈھلنے سے قبل ہی پڑھ لیا اور کہا:

’’آؤ چلو! میں تمھیں تمھارے ان داتا سے ملاتا ہوں۔ نبیوں کے علاوہ یہ اعزاز بہت کم انسانوں کو حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس طرح بارگارہ ِاحدیت میں پیش کیے جائیں۔ تم واقعی بہت خوش نصیب ہو۔‘‘

ہم آگے بڑھے تو میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا جس کا پوچھ لینا ہی مناسب خیال کرتے ہوئے میں نے جبریل علیہ السلام سے عرض کیا:

’’کیا ہم سدرۃ المنتہیٰ کی طرف جارہے ہیں؟‘‘

’’نہیں……‘‘، جبریل امین نے جواب دیا۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:

’’تمھارے ذہن میں غالباً معراج والی بات ہے۔ وہ انبیا کا راستہ ہے۔ انبیا کی حضوری کے مقامات بہت اعلیٰ ہوتے ہیں۔ پھر انہیں مشاہدات بھی کرائے جاتے ہیں۔ تمھارا راستہ بالکل الگ ہے۔ تمھیں صرف بارگاہِ الوہیت میں سجدے کا اعزاز بخشنے کے لیے بلایا گیا ہے۔ اور غالباً تمھاری وجہ سے صالح کو بھی یہاں تک آنے کی اجازت ملی ہے۔‘‘

اس لمحے میں نے صالح کو دیکھا جس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ جبریل امین نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا:

’’خدا کی ہستی لامحدود ہے۔ اس کے مقامات بھی لامحدود ہیں۔ تمھاری دنیا میں ان مقامات کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ جو کچھ تم دنیا میں جانتے تھے وہ بہت محدود اور کم تھا۔ آج مرنے کے بعد تمھاری آنکھیں کھلی ہیں۔ اب تم وہ دنیا دیکھنا شروع ہوگئے ہو جس کے کمالات کی کوئی حد نہیں۔‘‘

میں جو کچھ دیکھ رہا تھا وہ واقعی جبریل امین کی سچائی کا ثبوت تھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ اﷲ کا شکر ہے کہ میں کفر و نافرمانی کے حال میں نہیں مرا۔ وگرنہ آنکھیں تو اُس وقت بھی کھلتیں، مگر جو کچھ دیکھنے کو ملتا وہ بہت زیادہ برا اور بھیانک ہوتا۔

جبریل امین کی معیت میں ہم مختلف مراحل طے کرتے ہوئے حاملین عرش کے قریب پہنچے۔ یہاں نور، رنگ اور روشنی کا ایک ایسا حسین اور لطیف امتزاج چھایا ہوا تھا جو بیان کی گرفت سے باہر تھا۔ حاملین عرش کے سر جھکے ہوئے تھے۔ چہرے پر خشیت کا اثر اور طمانیت کا نور پھیلا ہوا تھا۔ جبریل امین نے بتایا:

’’پروردگار کی بارگاہ کا ہر حکم انہی فرشتوں کی وساطت سے نیچے جاتا اور نیچے والوں کا ہر فعل انہی کے ذریعے سے عالم کے پروردگار کے حضور پیش کیا جاتا ہے۔‘‘

میں قربِ الٰہی کے اس مقام کو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے بھی نظر اٹھاکر مجھے دیکھا اور لمحہ بھر کے لیے ان کے چہروں پر مسکراہٹ آئی۔ میرا حوصلہ بڑھا۔ میں نے قدم عرش کی سمت بڑھائے۔ میرے روئیں روئیں سے اُس ہستی کی حمد و ثنا بلند ہونے لگی جس سے ملنے کی خواہش میں ساری زندگی گزاردی تھی۔

پھر چلتے چلتے مجھ پر نجانے کیوں لزرہ طاری ہونے لگا۔ خدا سے ملنے کی شدین ترین خواہش پر اس کی عظمت کا احساس غالب آگیا۔ اس لمحے مجھ پر اتنا شدید رعب طاری ہوا کہ میں گھبرا کر واپس پیچھے ہٹنے لگا۔ گرچہ عرش ابھی بہت دور تھا، مگر صاحب ِعرش کی عظمت کے احساس سے میری ہمت ٹوٹ گئی۔ مجھے لگا کہ اس لمحے میرا وجود کرچی کرچی ہوکر فضا میں بکھر جائے گا۔ شاید یہی ہوتا، مگر ایسے میں میرے کانوں میں جبریل امین کی آواز آئی:

’’یہیں سجدے میں گرجاؤ۔ اس مقام سے آگے صرف انبیاے کرام جاتے ہیں۔‘‘

میں اور صالح دونوں سجدے میں چلے گئے۔ جسے بن دیکھے سجدہ کیا تھا، آج پہلی دفعہ اسے دیکھ کر سجدہ کیا تھا۔ دیکھا تو خیر کیا تھا۔ بس آثار دیکھ لیے تھے۔

یہ سجدہ کتنا طویل اور کتنا لذید تھا، مجھے نہیں یاد۔ جس نے سورج کو روشنی کی ردا اور چاند کو نور کی قبا پہنائی، پھولوں کو مہک اور تتلیوں کو رنگ کا لباس پہنایا، تاروں کو چمک کا لہجہ اور کلیوں کو چٹک کی آواز عطا کی، آسمان کو رفعت کا تاج اور سمندروں کو وسعت کا تخت بخشا، زمین کو زرخیزی کی نعمت اور دریاؤں کو بہاؤ کا حسن عطا کیا اور جس نے انسان کو بیان کا وصف اور نزولِ قرآن کا شرف بخشا، اس کے قدموں میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ ہفت اقلیم کی بادشاہی سے بڑھ کر تھا۔ مگر اس لمحے کو تمام ہونا ہی تھا۔ حاملین عرش کی دلکش صدا بلند ہوئی:

’’ھو اﷲ لا الہ الا ھو۔‘‘

یہ اعلان تھا کہ صاحب عرش کلام کررہا ہے۔ آواز آئی:

’’میں اﷲ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

ہر سُر سے لذیذ تر اس صدا میں وہ سحر تھا کہ میرا وجود سراپا گوش ہوگیا۔ میرا پورا جسم اور اس کی ہر ہر قوت کانوں اور سماعت میں سمٹ آئی۔ میں مزید کچھ سننے کا منتظر تھا۔ مگر گفتگو میں ایک وقفہ آگیا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ شاید اب مجھے کچھ کہنا چاہیے۔ جو پہلی بات میری زبان پر آئی وہ یہ تھی:

’’مالک! زندگی میں یہی ایک حقیقت تو جانی ہے۔‘‘

میری یہ بات میرے اپنے کان بمشکل سن سکے تھے۔ مگر حاضر و غائب کے جاننے والے اور دلوں کے بھید پالینے والے تک وہ پہنچ گئی تھی۔ جواب ملا:

’’مگر یہ بات جاننے والا ہر شخص یہاں تک نہیں آتا…… جانتے ہو عبد اﷲ! تم یہاں تک کیسے آگئے؟‘‘

اس دفعہ میرے شہنشاہ کے لہجے کے جاہ و جلال میں اپنائیت کا رنگ جھلک رہا تھا۔

’’اس لیے کہ تمھاری زندگی کا مقصد لوگوں کو میرے بارے میں بتانا تھا۔ میری ملاقات سے خبردار کرنا تھا۔ تم نے میری یاد کو…… میرے کام کو اپنی زندگی بنالیا۔ یہ اس کا بدلہ ہے۔‘‘

آسمان و زمین کے مالک کی گفتگو اور آواز سنتے رہنا میری زندگی کی شدید ترین خواہش بن چکی تھی، مگر ایک دفعہ پھر مالک الملک اپنی بات کہنے کے بعد ٹھہرگئے۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرا رب مجھے بولنے کا موقع دے رہا ہے۔ میں نے عرض کیا:

’’کیا میں آپ کے پاس یہاں رُک سکتا ہوں؟‘‘

’’مجھ سے کوئی دور نہیں ہوتا۔ نہ میں کسی سے دور ہوتا ہوں۔ میرا ہر بندہ اور میری ہر بندی جو میری یاد میں جیے ، وہ میرے پاس رہتا ہے…… اور کچھ……‘‘

آخری بات سے مجھے اندازہ ہوا کہ ملاقات کا وقت ختم ہورہا ہے۔ میں نے عرض کیا:

’’میرے لیے کیا حکم ہے؟‘‘

’’حکم کا وقت گزرگیا ہے۔ اب تو تمھیں حکمران بنانے کا وقت آرہا ہے۔ فی الحال تم واپس جاؤ۔ زندگی ابھی شروع نہیں ہوئی۔‘‘

میں نے چلتے چلتے عرض کی:

’’آپ قیامت کے دن مجھے بھولیں گے تو نہیں۔ میں نے اس دن کی وحشت اور آپ کی ناراضی کا بہت ذکر سن رکھا ہے۔‘‘

فضا میں ایک حسین تبسم بکھر گیا۔ کھنکتے ہوئے لہجے میں صدا آئی:

’’بھولنے کا عارضہ تم انسانوں کو ہوتا ہے۔ بادشاہوں کا بادشاہ…… تمھارا مالک، تمھارا رب کچھ نہیں بھولتا۔ رہا میرا غصہ، تو وہ میری رحمت پر کبھی غالب نہیں آتا۔ تم نے تو زندگی بھر مجھے امید اور خوف کے ساتھ یاد رکھا ہے۔ میں بھی تمھیں درگزر اور رحمت کے ساتھ یاد رکھوں گا۔ لیکن……‘‘، ایک لمحے کے شاہانہ توقف کے بعد ارشاد ہوا:

’’تمھاری تسلی کے لیے میں صالح کو تمھارے ساتھ کررہا ہوں۔ یہ ہر ضرورت کے موقع پر تمھارا خیال رکھے گا۔‘‘

یہ تھی میری اور صالح کی پہلی ملاقات کی روداد اور اس کے میرے ساتھ رہنے کی اصل وجہ۔ عالمِ برزخ میں میری زندگی جسم کے بغیر تھی۔ اس میں میرے احساسات، جذبات، تجربات اور مشاہدات کی کیفیت ویسی ہی تھی جیسی خواب میں ہوتی ہے۔ یعنی غیر مادی مگر شعور سے بھرپور زندگی جس میں مجھے ان نعمتوں کا مکمل احساس رہتا جو جنت میں مجھے ملنے والی تھیں۔ صالح میری خواہش پر وقفے وقفے سے مجھ سے ملنے آتا رہا۔ ہر دفعہ وہ مجھے نت نئی چیزوں کے بارے میں بتاتا رہتا اور میرے ہر سوال کا جواب دیتا۔ آہستہ آہستہ ہماری دوستی بڑھتی گئی۔ پھر آخری ملاقات میں اِس نے مجھے بتایا تھا کہ ’زندگی‘ شروع ہونے جارہی ہے۔ اور اب میں اس کے ساتھ میدانِ حشر کو تیزی کے ساتھ عبور کرتا ہوا عرش کی طرف بڑھ رہا تھا۔

…………………………

چلتے چلتے میں نے اردگرد دیکھا تو تاحد نظر ایک ہموار میدان نظر آیا۔ ماحول کچھ ایسا ہورہا تھا جیسا فجر کی نماز کے بعد اور سورج نکلنے سے قبل کا ہوتا ہے۔ یعنی ہلکا ہلکا اجالا ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ اس وقت اس میدان میں کم ہی لوگ نظر آرہے تھے۔ مگر جو تھے ان سب کی منزل ایک ہی تھی۔ میرے دل میں سوال پیدا ہوا کہ ان میں سے کوئی نبی یا رسول بھی ہے؟ میں نے صالح کو دیکھا۔ اسے معلوم تھا کہ میں کیا پوچھ رہا ہوں۔ کہنے لگا:

’’وہ سب کے سب پہلے ہی اٹھ چکے ہیں۔ ہم انہی کے پاس جارہے ہیں۔‘‘

’’کیا ان سے ملاقات کا موقع ملے گا؟‘‘، میں نے بچوں کی طرح اشتیاق سے پوچھا۔

وہ چلتے چلتے رکا اور دھیرے سے بولا:

’’اب انہی کے ساتھ زندگی گزرے گی۔ عبداﷲ! تم ابھی تک نہیں سمجھ پائے کہ کیا ہورہا ہے۔ آزمائش ختم ہوچکی ہے۔ دھوکہ ختم ہوگیا ہے۔ اب زندگی شروع ہورہی ہے جس میں اچھے لوگ اچھے لوگوں کے ساتھ رہیں گے اور برے لوگ ہمیشہ برے لوگوں کے ساتھ رہیں گے۔‘‘

اصل میں بات یہ تھی کہ میں ابھی تک شاک (Shock) سے نہیں نکل سکا تھا۔ دراصل ابھی تک نئی دنیا کا سارا تعارف عالمِ برزخ میں ہوا تھا۔ وہ ایک نوعیت کی روحانی دنیا تھی۔ مگر یہاں حشر میں تو سب کچھ مادی دنیا جیسا تھا۔ میرے ہاتھ پاؤں، احساسات، زمین آسمان ہر چیز وہی تھی، جس کا میں پچھلی دنیا میں عادی تھا۔ وہاں میرا گھر تھا، گھر والے تھے، میر امحلہ، میرا علاقہ، میری قوم…… یہ سب سوچتے سوچتے میرے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا۔ میں نے رک کر صالح کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا:

’’میرے گھر والے کہاں ہیں؟ میرے رشتہ دار، احباب سب کہاں ہیں؟ ان کے ساتھ کیا ہوگا؟ وہ نظر کیوں نہیں آرہے؟‘‘

صالح نے مجھ سے نظریں چراکر کہا:

’’جن سوالوں کا جواب مجھے نہیں معلوم وہ مجھ سے مت پوچھو۔ آج ہر شخص تنہا ہے۔ کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا۔ اگر ان کے اعمال اچھے ہیں، تو یقین رکھو وہ تم سے آملیں گے۔ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو……‘‘

صالح جملہ نامکمل چھوڑ کر خاموش ہوگیا۔ اس کی بات سن کر میرا چہرہ بھی بجھ گیا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر میرا حوصلہ بڑھایا اور کہا:

’’اﷲ پر بھروسہ رکھو۔ تم خدا کے لشکر میں لڑنے والے ایک سپاہی تھے۔ اس لیے پہلے اُٹھ گئے ہو۔ باقی لوگ ابھی اٹھ رہے ہیں۔ انشاء اﷲ وہ لوگ بھی خیر کے ساتھ تم سے مل جائیں گے۔ ابھی تو تم آگے چلو۔‘‘

اس کی تسلی سے مجھے کچھ حوصلہ ہوا اور میں سبک رفتاری سے اس کے ساتھ چلنے لگا۔

Monday, May 7, 2012

Worries Will Kill You - Only Hope and Trust On Allah Will Give You Right Way Of Living Forever

  Worries Will Kill You - Only Hope and Trust On Allah Will Give You Right Way Of Living Forever

از اشفاق احمد زاویہ ٢ تنقید اور تائی کا فلسفہ صفحہ ٦٧


ممکن ہے آپ کی آنکھ میں ٹیڑھ ہو اور اس بندے میں ٹیڑھ نہ ہو - ایک واقعہ اس حوالے سے مجھے نہیں بھولتا جب ہم سمن آباد میں رہتے تھے - یہ لاہور میں ایک جگہ ہے - وہ ان دنوں نیا نیا آباد ہو رہا تھا اچھا پوش علاقہ تھا - 

وہاں ایکی بیبی بہت خوبصورت ، ماڈرن قسم کی بیوہ عورت ، نو عمر وہاں آ کر رہنے لگی - اس کے دو بچے بھی تھے - 
ہم جو سمن آباد کے "نیک " آدمی تھے - ہم نے دیکھا کہ ایک عجیب و غریب کردار آکر ہمارے درمیان آباد ہو گیا ہے - اور اس کا انداز زیست ہم سے ملتا جلتا نہیں ہے - 

ایک تو وہ انتہائی اعلا درجے کے خوبصورت کپڑے پہنتی تھی ، پھر اس کی یہ خرابی تھی کہ وہ بڑی خوبصورت تھی - 
تیسری اس میں خرابی یہ تھی کہ اس کے گھر کے آگے سے گزرو تو خوشبو کی لپٹیں آتیں تھیں - 
اس کے جو دو بچے تھے وہ گھر سے باہر بھاگتے پھرتے تھے ، اور کھانا گھر پر نہیں کھاتے تھے - لوگوں کے گھروں میں چلے جاتے اور جن گھروں میں جاتے وہیں سے کھا پی لیتے - یعنی گھر کی زندگی سے ان بچوں کی زندگی کچھ کٹ آف تھی - 

اس خاتون کو کچھ عجیب و غریب قسم کے مرد بھی ملنے آتے تھے - گھر کی گاڑی کا نمبر تو روز دیکھ دیکھ کر آپ جان جاتے ہیں - لیکن اس کے گھر آئے روز مختلف نمبروں والی گاڑیاں آتیں تھیں - 
ظاہر ہے اس صورتحال میں ہم جیسے بھلے آدمی اس سے کوئی اچھا نتیجہ نہیں اخذ کر سکتے - 

اس کے بارے میں ہمارا ایسا ہی رویہ تھا ، جیسا آپ کو جب میں یہ کہانی سنا رہا ہوں ، تو آپ کے دل میں لا محالہ اس جیسے ہی خیالات آتے ہونگے - 
ہمارے گھروں میں آپس میں چہ میگوئیاں ہوتی تھیں کہ یہ کون آ کر ہمارے محلے میں آباد ہو گئی ہے - 


میں کھڑکی سے اسے جب بھی دیکھتا ، وہ جاسوسی ناول پڑھتی رہتی تھی - کوئی کام نہیں کرتی تھی - اسے کسی چولہے چوکے کا کوئی خیال نہ تھا - بچوں کو بھی کئے بار باہر نکل جانے کو کہتی تھی - 

ایک روز وہ سبزی کی دکان پر گر گئی ، لوگوں نے اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے وینٹے مارے تو اسے ہوش آیا اور وہ گھر گئی - 

تین دن کے بعد وہ فوت ہوگئی ، حالانکہ اچھی صحت مند دکھائی پڑتی تھی - 
جو بندے اس کے ہاں آتے تھے - انھوں نے ہی اس کے کفن دفن کا سامان کیا - بعد میں پتا چلا کے ان کے ہاں آنے والا ایک بندہ ان کا فیملی ڈاکٹر تھا - 
اس عورت کو ایک ایسی بیماری تھی جس کا کوئی علاج نہیں تھا - 
اس کو کینسر کی ایسی خوفناک صورت لاحق تھی skin وغیرہ کی کہ اس کے بدن سے بدبو بھی آتی رہتی تھی - 
جس پر زخم ایسے تھے اور اسے خوشبو کے لئے اسپرے کرنا پڑتا تھا ، تا کہ کسی قریب کھڑے کو تکلیف نہ ہو - 
اس کا لباس اس لئے ہلکا ہوتا تھا اور غالباً ایسا تھا جو بدن کو نہ چبھے - 

دوسرا اس کے گھر آنے والا وکیل تھا ، جو اس کے حقوق کی نگہبانی کرتا تھا - 
تیسرا اس کے خاوند کا چھوٹا بھائی تھا ، جو اپنی بھابھی کو ملنے آتا تھا - 

ہم نے ایسے ہی اس کے بارے میں طرح طرح کے اندازے لگا لیے اور نتائج اخذ کر لیے اور اس نیک پاکدامن عورت کو جب دورہ پڑتا تھا ، تو وہ بچوں کو دھکے مار کر گھر سے نکال دیتی تھی اور تڑپنے کے لیے وہ اپنے دروازے بند کر لیتی تھی - 

میرا یہ سب کچھ عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم تنقید اور نقص نکالنے کا کام الله پر چھوڑ دیں وہ جانے اور اس کا کام جانے - 
ہم الله کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہ اٹھائیں ، کیونکہ اس کا بوجھ اٹھانے سے آدمی سارے کا سارا "چبہ" ہو جاتا ہے ، کمزور ہو جاتا ہے ، مر جاتا ہے - 

الله تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے آمین