envato

Sunday, April 29, 2012

Night club owner in Somalia HOW become “Mouazan” of Khana Kabba, True story of Somali singer Abdullah


 Night club owner in Somalia HOW become “Mouazan” of Khana Kabba, True story of Somali singer Abdullah


Night club owner in Somalia HOW become “Mouazan” of Khana Kabba, the story of Malik Abdullah
When a famous singer but then I became the owner of the nightclub where I sing songs mqdysu reservations for hotels and nightclubs offer more funds. Months to live, to impress people and In order to make himself more popular rcata innovative dramas. naked dance, erotic conversations and we aim to make money through songs asqyh life had become. be available when these things happen, then Satan is very happy. bgry the family, the the rich girls, and boys, alcohol, drugs, heroin, everything was available. dances laboratory because we were settled. Satan’s goals to a large group of people around us had lecher

, Somalis continued to highlight the art, to please the West, we are progressive people of my faith, and morals of Islam ….. but my tongue was out of the funeral were recruited.
“In 1983 my father chose a girl from her own family. Well was hlagla. Television, newspapers, media representatives gathered. Certainly was a memorable wedding.
There, while I sleep without praying. I refer to this nightclub, to hear the words, refers to its earnings, bank balance awesome breed They say: “If the only purveyor of race ”The
I think my wife can. However, the battle begins at home. I heard her make her listen
“A few days passed, then breaks into a house one day when I was making the call. City’s mosques were being raised azanyn. Ashd them everywhere … Allah Akbar La ilaha alslaة hy Ali was the echo. When When going to sleep in his room, my wife said: “Why do not you go to the mosque for prayer? Have you not heard the call? “
are going to. why you do not turn to the mosque? it is Rehman’s blauh. the owner by almut party “and then my mind was in conflict of good and evil. nature sounds blndhuyy: Your name is so beautifulwill be a long maturity? Zamir also came past me ….. damn ….. but then the club started ranayyan, television screen, stage, reputation, honor ….. I do listen to her? I leave this job? This position is for the great effort and struggle. As I used to sleep thinking about it. “
“In the evening I made the change. Club to prepare ….. my wife whispered in my ear, had tears in her eyes. He was saying: sit just listen to me ….. He is our sustainer …..? Halal is a corrected lqmun is better than the thousands. “
“I feel akh discuss his wife’s voice ….. ….. ….. His words are true indeed. Accuracy is the voice of nature ….. This is my art ….. but ….. … my reputation, my voice …..? … I do not listen to her say quickly fled. “
hy ….. Ali Falah … “
side “
“I entered the mosque, the ablution. Party was being held, I prayed. Some worshipers have recognized me. Has no hands, no judge has been removed. Smile on their faces and joy to my face is shining. be in the nature of the shift. ”
“Someone gifted me a copy of blessings. It was my life ….. utensils for my new car model is valuable. His head and looked at home instead of nightclubs. My wife and I come before The time had come home ….. dykhakrty asaءky today I was watching the house. wife went to. “….. Mrs ….. Congratulations to you today to repent of your songs. I ufjur evil and blood and three lab life divorces are granted. I sincerely repented. I’ve been tayb Praise God.
was “
! The strengthening of Islam in their hands ….. and then he took Abdullah, in his honor, his sponsorship of the ….. I recently had memorized the Quran ten Partha.
Now he was a preacher of the faith, Islam, Quran, Hadith, then she came over several times in Mecca for pilgrimage. Again in this latitude Haram, in Mecca, the blessed and holy shrine in the city I got a muzn. preacher Abdullah is still, he is muzn voice of Islam in Saudi Arabia or Somalia, everywhere he is invited to perform the duty of the shelf njany ktakarun many criminals and the
Absolutely right, because the Messenger of Allah said:
;;;;;;;; Aldnya aldnya almraة alsalhة utensils and utensils well;;;;;;;;
“The world is a fund (item gains) and a good wife is the best fund

NIGHT کلب کا مالک خانہ کعبہ کا موذن کیسے بنا! صومالیہ میں نائٹ کلب کے مالک عبد اللہ کی خانہ کعبہ کا موذن بننے کی کہانی


NIGHT کلب کا مالک خانہ کعبہ کا موذن کیسے بنا! 
صومالیہ میں نائٹ کلب کے مالک عبد اللہ کی خانہ کعبہ کا موذن بننے کی کہانی
 
صومال (اردو میں صومالیہ) کے مشہور شہر مقدیشو یا مغادیشو صومالیہ کے ایک پرائمری اسکول میں اساتذہ اور کلرک بڑے تعجب اور حیرت سے اس کی خوبصورت آواز میں نغمے سن رہے تھے۔ "غضب کی آواز ہے"ایک نے کہا۔ ہیڈ ماسٹر نے کہا: "اتنی خوبصورت آواز میں نے کبھی نہیں سنی۔ اس کے پا س لحن داﺅدی ہے"اس نے ایک نغمہ ختم کیا ۔ اب وہ پرانی شاعری سنا رہا تھا۔ ایک کہنے لگا:"منحنی سی شکل و صورت کا عبداللہ…..جب بڑاہوگا تو کیا غضب ڈھائے گا۔ ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ یہ ہمارے اسکول کا طالبعلم ہے"خوبصورت آواز اور اس کی ساتھ صحیح تلفظ ایک نعمت خداوندی ہے جو چھوٹے عبداللہ کو بڑی کم عمری میں میسر آگئی تھی۔ وہ جیسے جیسے بڑاہوتا گیا اس میں خود اعتمادی بڑھتی چلی گئی۔ اب وہ بڑے اجتماعات کے سامنے اپنی آواز کا جادو جگاتا اور لوگ مبہوت ہوکر رہ جاتے۔

ان دنوں صومال پر صیاد بری کی حکومت تھی۔ ایک دن وزارت تعلیم کے ایک بڑے افسر نے اس کے قصائد سنے۔ "اگر یہ ہمارے صدر کی مدح میں اشعار پڑھے تو مزہ آجائے۔اس نے سوچا، چنانچہ عبد اللہ کیلئے خصوصی تعلیم اور اساتذہ کا بندوبست کیا گیا ۔ اب وہ گانے کے ساتھ ساتھ موسیقی کا بھی ماہر بن گیا۔ میٹرک کے بعد اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔ اس وقت کے وزیر تعلیم نے اس کی آواز سنی تو گرویدہ ہوگیا۔ اس نے خصوصی قانون پاس کروایا…..اسکولوں میں موسیقی کے شعبے کا قیام عمل میں آیا اور نوجوان لڑکوں او رلڑکیوں کیلئے موسیقی اور رقص و سرور کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز سرکاری سرپرستی میں شروع ہوا۔ اس کا چیف عبد اللہ کو بنایا گیا۔

اسکولوں اور کالجوں میں موسیقی کی تعلیم شروع ہوگئی…..اندرون ملک اور بیرون ملک ثقافت کے نام پر ثقافتی طائفے جانے لگے…..عبد اللہ کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔ صومال ہی نہیں، ہمسایہ ملک جیبوتی(سابق فرانسیسی صومالی لینڈ) میں بھی لوگ اس کی آواز کے دیوانے تھے۔ اسے متعدد ایوارڈوں سے نوازا گیا۔ عبد اللہ جہاں بھی جاتا لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے اکٹھے ہوجاتے۔ بڑے بڑے ہوٹلوںمیں ہفتوں پہلے اس کی بکنگ کی جاتی ۔ جب وہ اسٹیج پر آتا تو کئی منٹ تک مسلسل تالیاں بجتی رہتیں۔ جب گانا شروع ہوتا تو دلوں کی دھڑکنیں ٹھہر جاتیں۔ اس کا لقب شہنشاہ ترنم تھا۔

1977میں صومال میں انقلاب برپا ہوا۔ روسی اقتدار اور اثر و رسوخ کا خاتمہ ہوگیا۔ حکومت تبدیل ہوگئی، اس کا رخ مغرب کی طر ف ہوگیا۔ ملک میں اشتراکیت کی بجائے جمہوریت کا غلغلہ ہوا۔ ایک اچھے بزنس مین کی طرح عبد اللہ نے بھی اپنا رخ تبدیل کیا۔ پہلے وہ اشتراکیت کے گن گاتا تھا، اس کے نغمے اور گیت اس نظام میں مراح سرائی میں ہوتے۔

نظام بدلا تو وہ بھی بدل گیا۔ اب اس کی زبان پر جمہوریت کیلئے نغمے تھے۔ ملک میں اقتصادی اصلاحات ہونے لگیں تو اس نے بھی اپنی کمائی کو محفوظ کرنے کا سوچا…..اور پھر وہ ایک عدد نائٹ کلب کا مالک بن گیا۔ مقدیشو میں اول درجے کا نائٹ کلب، جہاں راتیں جاگتیں اور دن سوتے تھے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک بڑاگروہ اس کے گرد جمع ہوگیا۔ اندرون ملک اور بیرون ملک اس کی شہرت تھی، اب وہ مختلف ممالک کے دوروں پر جانے لگا۔

عبد اللہ نے ایک مرتبہ انٹرویو میں کہا:"میں جب نائٹ کلب کا مالک بن گیا تو پھر وہاں گانے گاتا…مقدیشو کے ہوٹل اور نائٹ کلب میری بکنگ کے لیے زیادہ سے زیادہ رقومات پیش کرتے۔ راتوں کو زندہ کرنے کیلئے، لوگوں کو خوش کرنے کیلئے اور اپنے آپ کو مزید پاپولر بنانے کیلئے میں نت نئے ناٹک رچاتا۔ عریاں ڈانس، فحش مکالمات اور عشقیہ گیتوں کے ذریعے پیسہ کمانا ہمارا مقصد حیات بن چکا تھا۔ جب یہ چیزیں میسر ہوں تو پھر شیطان خوب خوش ہوتا ہے۔ بگڑے ہوئے گھرانے، ان کی امیر لڑکیاں، اور لڑکے، شراب، نشہ، ہیروئن سب کچھ میسر تھا۔ رقص گاہیں ہماری وجہ سے آباد تھیں۔

"شیطان کے اہداف حاصل کرنے کیلئے ہمارے ارد گرد بدکار لوگوں کا ایک بڑا گروہ تھا…..اس دوران ملک میں اسلام کے خلاف حکومتی لابی دن رات کام کررہی تھی۔ علمائ، صلحاءاور مساجد کو نشنہ بنایا جا رہا تھا۔ جب کفر اور اسلام کے درمیان کشمکش جاری ہو تو طاغوت اور زہادہ خوبصورت چہرے کے سامنے آتا ہے۔ ہم نے بھی اسلامی اقدار کو ختم کرنے اور شیطانی مجالس کو فروغ دینے میں ساری قوتیں صرف کردیں۔ ہم صرف نام کے مسلمان تھے۔ اسلامی روح کے بغیر…..ظاہری حد تک…..میں نے کتنے ہی یورپی ممالک کا سفر کیا۔ وہاں نائٹ کلبوں میں گاتا رہا، صومال کے آرٹ کو اجاگر کرتا رہا، مغرب کو خوش کرنے کیلئے کہ ہم ترقی پسند قوم ہیں…..میرے ایمان کا، اسلام کا اور اخلاق کا جنازہ نکلتا گیا…..مگر میری جیب بھرتی گئی۔

"1983ءمیں میرے والد نے مجھ پر شادی کرنے کیلئے زور دیا۔ والدین کیلئے اپنی اولاد کی شادی بہت بڑی خوشی ہوتی ہے۔ والدین نے اپنے ہی خاندان میں سے ایک لڑکی کا انتخاب کیا۔ یوں تو صومال کی بہت سی لڑکیاں میرے ساتھ شادی کی تمنا کرتی تھیں مگر یہ لڑکی میرے خاندان سے تھی۔ خوبصورت، خوب سیرت اور خاصی پڑھی لکھی تھی، لہٰذا میں نے ہزاروں لڑکیوں پر اس کو ترجیح دی اور شادی پر فوراً رضامند ہوگیا…..کچھ ہی دنوں کے بعد شادی کا ہنگامہ شروع ہوا۔ ایک گلوکار کی شادی…..یقینا بہت یادگار تھی۔ پورے صومال سے گلوکار آئے، خوب ہلاگلا ہوا۔ ٹیلی ویژن، اخبارات، ذرائع ابلاغ کے نمائندے جمع ہوئے۔ یقینا یہ ایک یادگار شادی تھی۔

"شادی کے دوران میں، میں نے یہ محسوس کیا کہ میری بیوی اتنی زیادہ خوش و خرم نہیں ہے جتنا کہ میرے جیسے معروف آدمی سے شادی کے بعد کسی لڑکی کو خوش اور فخرہونا چاہیے۔ میں نے اس کو اس کی فطری حیا پر محمول کیا…..شادی کے بعد ہم ہنی مون کیلئے چلے گئے۔ یہ دن اتنی تیزی سے گزرے کہ اندازہ ہی نہ ہوسکا۔ میں نے دوبارہ اپنی ڈیوٹی سنبھال لی…..میرا کاروبار رات کو شروع ہوتا، میں فجر سے ذرا پہلے گھر آجاتا…..پھر میں سو جاتا اور عصر ک وقت اٹھتا…..میں نے کئی مرتبہ دیکھا کہ جب صبح گھر آتا ہوں تو میری بیوی جاگ رہی ہوتی ہے اور عموماً اس کے ہاتھ میں قرآن پاک ہوتا ہے جسے وہ پڑھ رہی ہوتی ہے۔ میں آکر اسے بڑے جوشیلے انداز میں اس رات کی کارکردگی سناتا۔ اپنے پرستاروں کی چاہت سے آگاہ کرتا۔ آج کتنی لڑکیوں اور لڑکیوں کے فون آئے جو میرے فن کے شیدائی ہیں۔ میری بیوی ان باتوں کو ناگواری سے سنتی اور میرے لیے ہدایت کی دعا کرتی۔ اس دوران میں فجر کی اذان ہوجاتی اور وہ مصلے کی طرف بڑھ جاتی، جب کہ میں نماز پڑھے بغیر ہی سوجاتا۔ میں جب بھی اس سے نائٹ کلب کا ذکر کرتا، وہاں کی باتیں سنانا، اپنی کمائی کا ذکر کرتا، بینک بیلنس کا رعب جماتا تو وہ جواباً کہتی: "رازق تو صرف اللہ کی ذات ہے"

"ہماری شادی کو پانچ سال گزر چکے تھے۔ میں مسلسل اپنے فن میں مبتلا اور فسق و فجور میں ڈوبا ہوا نماز اور عبادت کے بغیر زندگی گزارتا رہا…..پھر اچانک ہماری زندگی میں ایک ہنگامہ برپا ہوا۔ یہ 1988کی بات ہے، میری بیوی نے مجھ سے کہا:"میں اس شخص کے ساتھ ہرگز زندگی نہیں گزارسکتی جو اپنے رب کا وفادار نہیں، جو نماز ادا نہیں کرتا…..اس کی کمائی حرام ہے جو فجر کے وقت گھر آتا ہے"

"میری وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ میری بیوی میرے لیے ایسا سوچ سکتی ہے۔ بہرحال گھر میں لڑائی شروع ہوگئی۔ میں نے اس کی باتیں سنی ان سنی کردیں"

"کچھ دن گزرے، ایک دن جب میں گھر میں داخل ہوا تو فجر کی اذان ہورہی تھی۔ شہر کی مساجد میں اذانیں بلند ہورہی تھیں۔ ہر طرف اللہ اکبر۔۔۔اشھد ان لا الہ الا اللہ حی علی الصلاة کی گونج تھی۔ جب سونے کیلئے اپنے کمرے میں جانے لگا تو میری بیوی نے کہا: "آپ مسجد میں نماز کیلئے کیوں نہیں جاتے؟ کیا آپ نے اذان کی آواز نہیں سنی؟"

میری زندگی میں یہ پہلا موقع تھ اکہ کسی نے مجھے نماز کیلئے کہا تھا۔ اس لمحے میں نے خود بھی نماز پڑھنے کے بارے میں سوچا…..میرے جسم میں جھرجھری سی آئی۔ بیوی کی آواز بار بار کانوں میں گونج رہی تھی۔ "اس وقت مسلمان مسجد کی طرف جارہے ہیں۔ آپ کیوں مسجد کا رخ نہیں کرتے؟ یہ رحمن کا بلاوہ ہے۔ یہ مالک الموت کی طرف سے دعوت ہے"اور پھر میرے ذہن میں خیر اور شر کی کشمکش ہوئی۔ فطرت کی آواز بلندہوئی: تمہارا نام کتنا خوبصورت ہے…..عبد اللہ…..تم اللہ کے بندے ہو۔ مگر نہیں…..تم تو شیطان کے چیلے بنے ہوئے ہو۔ کبھی تم نے اپنے مالک کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ تم کب تک زندہ رہو گے ، کب تک زندگی رہے گی، کب تک جوانی رہے گی؟ میرے سامنے ماضی آگیا…..ضمیر نے ملامت شروع کی…..مگر فوراً کلب کی رعنائیاں، ٹیلی ویژن کی سکرین، اسٹیج، شہرت، عزت…..کیا میں بیوی کی بات مان لوں؟ یہ کام چھوڑ دوں؟ یہ مقام حاصل کرنے کیلئے میں نے بے حد محنت اور جدوجہد کی ہے۔ یہی سوچتے سوچتے میں حسب عادت سوگیا"

"شام کے وقت میں نے کپڑے تبدیل کیے۔ کلب جانے کیلئے تیاری کی…..میری بیوی نے میرے کان میں سرگوشی کی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ کہہ رہی تھی: ذرا بیٹھ جائیں…..ذرا میری بات تو سنیں…..کیا ہمارا رازق اللہ نہیں ہے؟ حلال کا ایک لقمہ حرام کے ہزاروں لقموں سے بہتر ہے"

"مجھے ایسا محسوس ہو اکہ بیوی کی آواز…..اس کی گفتگو…..اس کے کلمات…..یقینا درست ہیں۔ ان میں صداقت ہے…..یہ فطرت کی آواز ہیں…..مگر…..میرا فن…..میری آواز…..میری شہرت؟…..میں تیزی سے بھاگا کہیں بیوی کی بات مان نہ لوں"

"راستے میں بیوی کے کلمات میرا پیچھا کر رہے تھے کہ میں نائٹ کلب کے دروازے پر پہنچا۔ اس دوران عشاءکی نما ز کا وقت ہوچکا تھا۔ میرے کانوں میں موذن کی خوبصورت اور دل میں اتر جانے والی آواز گونجی…..حی علی الصلاة…..حی علی الفلاح….. "

"بیوی کی نصیحت یاد آئی…..اللہ کی رحمت جوش میں آگئی۔ فسق و فجور اور کفر کے غبار کی تہ بیٹھنے لگی…..ایمان کی حرارت اور اسلام کی قوت زوردکھانے لگی…..اور پھر میرا رخ نائٹ کلب سے مسجد کی طرف ہوگیا"

"میں مسجد میں داخل ہوا، سضو کیا۔ جماعت ہورہی تھی، میں نے نماز ادا کی۔ بعض نمازیوں نے مجھے پہچان لیا۔ کوئی ہاتھ ملا رہا ہے، کوئی دور سے سلام کررہا ہے۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ اور میرا چہرہ خوشی سے دمک رہا ہے۔ الحمد اللہ میں نے فطرت کو پالیا ہے"

"کسی نے مجھے صحیح بخاری کا نسخہ تحفے میں دیا۔ یہ اب میرے لیے متاع حیات تھی…..میں اپنی نئی ماڈل کی قیمتی گاڑی میں سوار ہوا۔ اس کا رخ نائٹ کلب کی بجائے گھر کی طرف دیکھا۔ میری بیوی جو مجھے فجر کے وقت گھر آتے دیکھاکرتی تھی…..آج عشاءکے بعد گھر میں دیکھ رہی تھی۔ بیوی کی طرف بڑھا۔ "بیگم…..تمہیں مبارک ہو…..میں نے آج سے گانوں سے توبہ کرلی ہ۔ میں نے فسق وفجور اور لہو و لعب کی زندگی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ میں نے سچی توبہ کرلی ہے۔ میں الحمد اللہ تائب ہوگیا ہوں۔

"پھر میں نے محسوس کیا گویا میں نے نئی زندگی کا آغاز کیا ہے…..سب سے پہلا کام…..وہ اسٹوڈیو، جس کا میں مالک تھا، جس میں گانے ریکارڈ کراتا تھا، جس میں دنیا بھر کی جدید مشینیں تھیں، جن کو دنیا کے کونے کونے سے جمع کرتا رہا تھا…..میں نے اس اسٹوڈیو کو دعوت الی اللہ کیلئے وقف کردیا کہ اب یہاں قرآن پاک کی کیسٹیں، علمائے کرام کی تقاریر اور اسلامی ترانے ریکارڈہونگے…..میںن ے قیمتی گاڑی فروخت کردی، خوبصورت محل نما کوٹھی فروخت کردی…..میںایک اوسط درجے کے مکان میں آگیا۔ اب میرا وقت اپنے گھر میں گزرنےلگا۔ میری ایک ہی تمناتھی…..ایک ہی جستجو…..میں حلقہ قرآن سے وابستہ ہوگیا…..اب مجھے قرآن پاک حفظ کرنے کی خواہش تھی"

کچھ عرصہ ٹھیک گزرا….. مگر جب کوئی اسلام کی راہ پر چلے گا تو آزمائش لازماً آئے گی…..یہ تو سنت اللہ ہے ۔ حق کی راہ میں یقینا بہت سی مشکلات ہیں …..دنیا مومن کیلئے قید خانہ اور کافر کیلئے جنت ہے…..یہ پھولوں کی سیج نہیں، یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے۔ عبد اللہ کیلئے سب سے پہلی آزمائش مال کی کمی تھی…..وہ گانے بجانے کی علاوہ کوئی کام نہیں جانتا تھا۔یہ گانا بجانا ختم ہوا تو مصدر رزق بھی ختم ہوگیا۔ پہلے کا کمایا ہوا مال…..وہ حرام کی کمائی تھی…..لہٰذا اس میں برکت تو سرے سے تھی ہی نہیں…..پس انداز بھی کم ہی تھا…..کئی دن، کئی راتیں، کئی ہفتے گزرگئے…..آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ بن سکا…..جس شخص نے ساری زندگی عیش و عشرت میں گزاری ہو، اب اس کیلئے فاقہ کشی…..شیطان نے کئی بار بہکایا۔ ماضی یاد آیا…..کس طرح مال و دولت میں کھیلتا تھا اور اب روٹی کیلئے ترس رہا ہوں…..اسی زندگی میں لوٹ جاﺅں؟ …..مگر ایمان کے تقاضے کچھ اور تھے۔ اور پھر ایک دن اس کے پرانے رفقاءآگئے…..موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور دامِ تزویر پھیلایا: "عبد اللہ…..ایک رات ہمیں دے دو…..صرف ایک رات…..اور معاوضہ؟ …..تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ جو پہلے ایک رات میں کماتے تھے اس سے دوگنا…..تین گنا زیادہ ….. پانچ ….. سات ….. نو….. ہم دس گنا زیادہ دینے کیلئے تیار ہیں۔ ایک مرتبہ ہاں کردو "مگر جب ایمان باللہ پختہ ہوجائے تو پھر انقلابات برپا ہوجاتے ہیں، سخت پہاڑ بھی راستہ چھوڑ دیتے ہیں…..ایمان اور اس کے مقابلے میں دنیا بھر کی دولت، دنیا بھر کی سیادت اورحکمرانی پرِکاہ کے برابر بھی حیثیت ہیں رکھتی …..عبد اللہ کے دل میں رب تعالیٰ کی محبت راسخ ہوچکی تھی۔ تمام اقسام کی مراعات، لالچ، فوائد …..کچھ منظور نہیں ….. میں نے رحمن کو راضی کرنے کا عزم صمیم کیا ہوا ہے۔

آزمائش کا اگلا دور شروع ہوا….. حکومت کو معلوم ہوا کہ عبد اللہ نے گانا گانے سے توبہ کرلی ہے۔ اس کی یہ مجال؟ …..اس کو بلایا گیا، پوچھا گیا، تنبیہ کی گئی، منع کیا گیا کہ یہ تمہارا فیصلہ نہایت نامقعول اور احمقانہ ہے۔

بعض نے کہا کہ چھوڑ دو، چند دن کی بات ہے۔ خود ہی واپس آجائے گا…..پھر اس کے ساتھ متعدد دانشوروں نے …..اپنے تئیں عصر حاضر کے نام نہاد دانشوروں نے عبد اللہ سے مناقشہ شروع کیا، مناظرہ ہوا، اس سے بحث ہوئی ….. تو معلوم ہو اکہ یہ وہ عبد اللہ نہیں ہے جس نے 18 سال فن کاری کی ہے….. یہ وہ مشہور مغنی، وہ گلوکار نہیں ،کوئی اور عبد اللہ ہے۔ ان کو خوب معلوم ہوگیا کہ اب وہ عبد اللہ گویّا نہیں بلکہ داعی الی اللہ ہے۔

اور جب مناقشہ، مناظرہ، بحث، لالچ، سب ناکام ہوگئے، عبد اللہ کو منوانے میں سب مکمل طور پر ناکام ہوچکے تو …..پھر منوانے کا، رام کرنے کا نیا انداز اختیار کیا گیا….. وہی انداز، جو تمام طاغوتی طاقتیں اختیار کرتی ہیں۔ ہر زمانے میں، ہر دور میں، ڈرانے کا، دھمکانے کا انداز …..تمہیں ٹیلی ویژن پر آناہوگا اور اعلان کرنا ہوگا ….."میں نے گانے بجانے سے جو انکار کیا تھا اب دوبارہ اس سے رجوع کررہا ہوں …..وہ میری غلطی تھی، وہ وقتی طور پر تھا" …..اور اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو پھر جیل، قید خانہ، مقدمات، بدنی سزا…..مگرایک سچا مومن، جس کا ایمان راسخ ہے، جسے رب کی تائید اور مدد کا پختہ یقین ہے …..اس کے رویے میں کوئی نرمی نہیں آئی …..یہ زندگی ہے نا، ایک ہی، اسے ختم ہوجانا ہے …..اگر رب کی فرمانبرداری میں ختم ہوتی ہے تو سودا مہنگا نہیں ….. عبد اللہ نے اپنے رب کے ساتھ سچا سودا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر جان کی بازی بھی لگانی پڑے تو وہ حق سے نہیں پھرے گا …..پھر عبد اللہ نے شدت سے اور پوری قوت سے ان کے تمام مطالبات کو ٹھکرا دیا….. "خواہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے …..میں تمہاری بات ماننے کیلئے نہیں"

ان حالات میں طاغوت کے دیگر حربوںمیں سے ایک حربہ …..حق کی آواز کو روکنے کا …..قید، جیل، حبس، نظر بندی، مقدما ت ہوتاہے۔ چنانچہ یہ حربہ بھی آزمایا گیا …..اس کو جیل میں ڈال دیاگیا، شاید لوٹ آئے …..اس کا جرم، اس کا قصور، رقص و سرود اور گانے سے انکار….. جی ہاں ….. اس مقبول شخصیت کو جیل کی کال کوٹھری میں ڈال دیاگیا کیونکہ اس نے اس بات کا اعلان کیا تھا: …..میرا رب اللہ ہے …..اور اگر وہ ان کی بات مان لیتا …..غنا کو، رقص کو، رات کو اپنا مقصد حیات قرار دے لیتا تو ا س کی عزت و احترام، منصب، دولت، شہرت، سب برقرار رہتے اور وہ اس کو کندھوں پر بٹھاتے۔

عبد اللہ ایک مدت تک قید میں رہا۔ اس دوران میں اس کو تعذیب دی گئی، مارا گیا، سزائیں دی گئیں کہ ترک غنا سے رجوع کرلے ….. مگر وہ اللہ کا بندہ اپنے عزائم پر ثابت قدم رہا۔ جیل میں ایک مدت گزارنے کے بعد میں اس میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو حکمران اس سے مایوس ہوگئے اور اسکو رہا کردیا۔

جیل سے نکلنے کے بعد معاشی حالات بہت پریشان کن ہوگئے مگر ان مشکل حالات میں، کٹھن اوقات میں اس کی بیوی اس کا مکمل ساتھ دیتی رہی۔ اس کا حوصلہ مزید بڑھاتی رہی کہ دنیا کے مال و متاع بالکل ناپائیدار ہیں۔ حقیقی طور پر امیر کون ہے، وہ نہیں جس کے پاس مال و دولت کے انبار ہوں بلکہ حقیقت میں امیر وہ ہے جس کا دل امیر ہے…..حقیقی قوت کیا ہے، عقیدہ اور ایمان کی قوت ….. حقیقی خوشی، سعادت اور خوش بختی کس چیز کا نام ہے ….. یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری اور اس کی رضا میں ہے۔

1990میں عبد اللہ نے اپنے وطن کو چھوڑنے کا ارادہ کرلیا۔ یوں بھی ملک کے حالات خراب ہوچکے تھے، خانہ جنگی شروع تھی۔ مختلف قبائل ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور قتل و غارت گری میں مبتلا تھے….. اور پھر وہ پہلی مرتبہ اس گھر کی زیارت کیلئے آیا جس کی زیارت اور جس کے گرد چکر لگانے کی تڑپ دنیا کے ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ مکہ مکرمہ پہنچ گیا، نیک بخت بیوی بھی ہمراہ تھی۔ عمرہ ادا کیا تو اس کے ایمان میں مزید اضافہ ہوگیا۔ مکہ مکرمہ میں بعض اہل خیر کو معلوم ہوا ،وہ اس سے واقف تھے …..اس کی سابقہ زندگی سے…..اس کے ماضی سے ….. اس کی اسلام پر پختگی سے …..اور پھر انہوں نے عبد اللہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا، اس کی تکریم کی، اس کی کفالت کی ….. کچھ ہی عرصہ میں اس نے قرآن کے دس پارت حفظ کرلیے۔

اس کے وطن میں خانہ جنگی عروج پر تھی۔ ان حالات میں اس نے اک مصلح کا کردار اداکیا، وہ وطن واپس گیا۔ قبائل کے درمیان صلح کی کوشش کی، فساد کو ختم کرنے کیلئے اپنے اثر و رسوخ اور شہرت کو استعمال کیا….. اب وہ ایک مبلغ تھا …..عقیدہ کا، اسلام کا ، قرآن کا، حدیث کا …..پھر وہ اس دوران میں کئی مربہ عمرہ کرنے کیلئے مکہ مکرمہ آیا۔ پھر اس کو اس بلد الحرام میں، مکہ مکرمہ میں، اس مبارک اور مقدس شہر کی مقدس مسجد میں بطور موذن موقع مل گیا۔ عبد اللہ آج بھی مبلغ ہے، وہ موذن ہے اسلام کی آواز کا …..وہ سعودی عرب میں ہو یا صومال میں، ہر جگہ وہ دعوت الی اللہ کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے اور نجانے کتنے ہی گنہگاروں اور خطاکاروں نے اس کے ہاتھ پر توبہ کی ہے اور اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق بنالی ہیں تاکہ وہ بھی حقیقی سعادت سے بہرہ ور ہوسکیں …..بالکل اسی طرح جس طرح عبد اللہ سعادت حاصل کرچکا ہے۔

اللہ کے رسول کا فرمان بالکل حق ہے:
الدنیا متاع و خیر متاع الدنیا المراة الصالحة
"دنیا ایک پونجی(فائدہ کی چیز) ہے اور دنیا کی بہترین پونجی نیک بیوی ہے"

Wednesday, April 18, 2012

"ٹوٹے دل کی آہ"


"ٹوٹے دل کی آہ" 

آج پر نظر رکھیں
صبح ہو جاۓ تو شام کا انتظار نہ کریں۔ بس آج اور ابھی پر نظر رکھیں نہ کل پر جو اچھا برا گزر چکا ہے اور نہ آئندہ پر جو ابھی آیا ہی نہیں۔آپ کی عمر تو بس ایک دن ہے اسی دن کا سورج آپ کو ملا ہے۔اس لیے دل میں سوچے کی آج ہی تو جینا ہے گویا آج ہی اپ پیدا ہوۓاور آج ہی آپ مر جائیں گے۔اس صورت میں آپ کی زندگی ماضی کے سایوں ،تفکرات اور مستقبل کی اُمیدوں اور توقعات کے بیچ لٹکی نہ رہے گی۔آپ اپنی پوری توجہ،ساری صلاحیت ،خلاقیت و ذہانت صرف آج پر لگا دیں۔آج کی نماز آپ کی خشوع وخضوع والی ہو ۔تلاوت کریں تو تدبیر کے ساتھ کریں ۔جانکاری حاصل کریں تو تامل کے ساتھ۔ذکر کریں تو جی لگا کر،معاملات توازن کے ساتھ نپٹائیں۔اپنے اس دن کے اوقات تقسیم کر لیں۔اس کے منٹوں کو سال سمجھیں ،اس کی سیکنڈوں کو مہینوں کے مانند خیال کریں۔خیر کے بیج بوئیں احسان کریں،گناہوں سے توبہ کریں، خدا کو یاد کریں،اور سامان سفر تیار رکھیں،اس طور پر آپ کا دن فرحاں و شاداں گزرے گا اس میں امن چین ہوگا،آپ اپنی روزی روزگار،اپنی بیوی بچوں،گھر،علم اور معیار زندگی سے خوش رہیں گے۔



"ٹوٹے دل کی آہ"

Thursday, April 12, 2012

اشفاق احمد بابا صاحبا stories



ًایک دفعہ ایک شخص دہلی سے اجودھن کی طرف روانہ ہوا تا کہ وہاں جا کر شیخ السلام بابا فرید گنج شکر کی خدمت میں تائب ہو ، راستے میں ایک لڑکھڑاتی ہوئی مطربہ اس کے ساتھ ہو گئی - 

وہ مطربہ بہت چاہتی تھی کہ اس شخص کے ساتھ اس کا تعلق ہو جائے - اور وہ اسے پھانس کر اپنے راستے پر لگا لے - 

لیکن چونکہ وہ شخص سچی نیت کے ساتھ تائب ہونے کے لئے اجودھن جا رہا تھا اس لئے اس نے بد کار عورت کی طرف کوئی توجہ نہ دی - 

راستے کی منزلوں میں سے ایک منزل پر ایسا بھی ہوا کہ وہ شخص اور مطربہ دونوں ایک بگھی میں سوار ہوئے ، وہ مطربہ آگے کھسک کر اس شخص کے نزدیک ہو گئی - 

اب چونکہ دونوں کے درمیاں کوئی حجاب مانع نہ تھا ، اس لئے اس حالت میں اس شخص کا دل چاہا کہ اس مطربہ سے بات کرے یا اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھائے -

یہ فیصلہ کر ہی رہا تھا کہ اس شخص نے دیکھا ایک آدمی آیا اور اس کے منہ پر زور کا تھپڑ مارا اور کہا تم توبہ کی نیت سے بابا فرید کی خدمت میں جا رہے ہو یہ کیا حرکت ہے ؟ 

وہ شخص فوراً متنبہ ہوگیا ، اور اس کے بعد اس نے اس عورت کی طرف نہ دیکھا نہ کسی قسم کی توجہ دی - 

الغرض جب وہ شیخ السلام بابا فرید گنج شکر کی خدمت میں پہنچا تو سب سے پہلی بات جو بابا فرید گنج شکر نےان سے کی ، وہ یہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے اس مشکل وقت میں آپ کی بڑی نگہداشت کی -

یہ پڑھ کے اب میں سوچ رہا تھا بھلا یہ کس طرح سے ممکن ہو سکتا ہے ایک چنچل ، نٹ کھٹ ، شوخ مطربہ ایک جوان آدمی کے اتنے قریب بیٹھی رہے اور جوان رعنا کی جبلت اپنے پورے پنجے کھول کر اس پر حاوی نہ ہو -

کیسی ناقابل یقین اور انہونی سی بات ہے کہ وہ رتھ میں دو راتیں اور ایک دن کا طویل سفر گزار کر ویسے ہی دھلے دھلائے بر آمد ہو جائیں - 
ان مرشدوں ، شیخوں ، خواجوں ، مخدوموں اور درویشوں کی زندگیوں میں ایسا ہوتا ہے تو ہمیں معلوم نہیں - 
معلوم ہو بھی تو ہمیں یقین نہیں -
یقین ہو بھی جائے تو ہمارا اندر نہیں مانے گا - 


از اشفاق احمد بابا صاحبا


Tuesday, April 10, 2012

The Crush Oscar Winning Short Film

The Crush Oscar Winning Short Film




The Crush : Story about love & truth .
Oscar winning movie

Tuesday, April 3, 2012

History Of Hilafat Usmania at Turkey



کہا جاتا ہے کہ سلطان عبدالحمید کے دورِ حکومت میں یہودیوں کے ایک وفد نے خلیفہ سے ملاقات کی تھی۔ یہ 19 ویں صدی کے اواخر کی بات ہے۔ اس زمانے میں خلافت عثمانیہ بے حد کمزور ہو چکی تھی۔ ترکی کی مالی حالت خستہ تھی، حکومت بھی مقروض تھی۔ اس وفد نے خلیفہ سے کہا تھا کہ:

” اگر آپ بیت المقدس اور فلسطین ہمیں دے دیں تو ہم خلافت عثمانیہ کا سارا قرضہ اتار دیں گے اور مزید کئی ٹن سونا بھی دیں گے۔“

اس گئے گزرے خلیفہ عبدالحمید کی دینی حمیت دیکھیے کہ اس نے وہ جواب دیا ، جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ خلیفہ نے اپنے پاؤں کی انگلی سے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

”اگر اپنی ساری دولت دے کر تم لوگ بیت المقدس کی ذرا سی مٹی بھی مانگو گے تو ہم نہیں دیں گے۔“

اس وفد کا سربراہ ایک ترکی یہودی قرہ صوہ آفندی تھا۔ بس پھر کیا تھا، خلافت عثمانیہ کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، چناں چہ چند برسوں بعد جو شخص مصطفی کمال پاشا کی طرف سے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا پروانہ لے کر خلیفہ عبدالحمید کے پاس گیا تھا، وہ کوئی اور نہیں ، بلکہ یہی ترک یہودی قرہ صوہ آفندی ہی تھا۔ خود مصطفی کمال پاشا بھی یہودی النسل تھا۔ اس کی ماں یہودن تھی اور باپ ترک قبائلی مسلمان تھا۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں نوجوان ترکوں کا غلبہ شروع ہو گیا۔ یہیں سے Youngs Turks کی اصطلاح نکلی، جنہوں نے مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں اسلام پسندوں پر مظالم ڈھائے، علما کا قتل عام کیا، نماز کی ادائیگی اور تمام اسلامی رسومات پر پابندی لگا دی۔ عربی زبان میں خطبہ، اذان اور نماز بند کر دی گئی ۔ مساجد کے اماموں کو پابند کیا گیا کہ وہ ”ترک“ زبان میں اذان دیں ، نماز ادا کریں اور خطبہ پڑھیں۔ اسلامی لباس اترواکر عوام کو یورپی کپڑے پہننے پر مجبور کیا گیا۔ مصطفی کمال پاشا اور اس کے ساتھی نوجوان ترکوں نے ترکی میں اسلام کو کچلنے کے لیے جتنی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا، اس کی مثال روس اور دیگر کمیونسٹ ملکوں کے علاوہ شاید کہیں نہ ملے۔

خلافت عثمانیہ کے اندرون ملک یہودیوں نے جو سازشی جال پھیلایا تھا، اس کی ایک جھلک دکھلانے کے لیے خلیفہ عبدالحمید کا ایک تاریخی خط پیش کیا جاتا ہے ، جو انہوں نے اپنے شیخ ابو الشامات محمود آفندی کو اس وقت لکھا تھا ، جب انہیں خلافت سے معزول کرکے سلانیکی میں جلا وطنی اور قید تنہائی پر مجبو کر دیا گیا تھا۔ اس خط کے مندرجات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امت مسلمہ کے نظام خلافت کی بیخ کنی کے لیے صہیونی طاقتوں نے کیسی سازشیں کی تھیں او ران سازشوں میں کون شریک تھا؟ خلیفہ عبدالحمید کے خط کا اردو ترجمہ پیش ہے :

” میں انتہائی نیاز مندی کے ساتھ طریقہ شاذلیہ کے اس عظیم المرتبت شیخ ابوا لشامات آفندی کی خدمت میں بعد تقدیم احترام عرض گزار ہوں کہ مجھے آپ کا 22 مئی 1913ء کا لکھا ہوا گرامی نامہ موصول ہوا۔

جناب والا! میں یہ بات صاف صاف بتانا چاہتا ہوں کہ میں امت مسلمہ کی خلافت کی ذمے داریوں سے از خود دست بردار نہیں ہوا، بلکہ مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یونینسٹ پارٹی (Unionist Party) نے میرے راستے میں بے شمار رکاوٹیں پیدا کر دی تھیں۔ مجھ پر بہت زیادہ اور ہر طرح کا دباؤ ڈالا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں ، مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں اور سازشوں کے ذریعے مجھے خلافت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ یونینسٹ پارٹی، جونوجوانانِ ترک (Young Turks) کے نام سے بھی مشہور ہے ، نے پہلے تو مجھ پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالا کہ میں مقدس سر زمین فلسطین میں یہودیوں کی قومی حکومت کے قیام سے اتفاق کر لوں۔ مجھے اس پر مجبو رکرنے کی کوششیں بھی کی گئیں ، لیکن تمام دباؤ کے باوجود میں نے اس مطالبے کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ میرے اس ا نکار کے بعد ان لوگوں نے مجھے ایک سو پچاس ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ سونا دینے کی پیش کش کی۔ میں نے اس پیش کش کو بھی یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ ایک سو پچاس ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ سونا تو ایک طرف، اگر تم یہ کرہٴ ارض سونے سے بھر کر پیش کرو تو بھی میں اس گھناؤنی تجویز کو نہیں مان سکتا۔30 سال سے زیادہ عرصے تک امت محمدیہ کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ اس تمام عرصے میں ، میں نے کبھی اس امت کی تاریخ کو داغ دار نہیں کیا۔ میرے آباواجداد اور خلافت عثمانیہ کے حکمرانوں نے بھی ملت اسلامیہ کی خدمت کی ہے ، لہٰذا میں کسی بھی حالت اور کسی بھی صورت میں اس تجویز کو نہیں مان سکتا۔ میرے اس طرح سے صاف انکار کرنے کے بعد مجھے خلافت سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے سے مجھے مطلع کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ مجھے سلانیکی میں جلا وطن کیا جارہا ہے۔ مجھے اس فیصلے کو قبول کرنا پڑا، کیوں میں خلافت عثمانیہ او رملت اسلامیہ کے چہرے کو داغ دار نہیں کرسکتا تھا۔ خلافت کے دور میں فلسطین میں یہودیوں کی قومی حکومت کا قیام ملت اسلامیہ کے لیے انتہائی شرم ناکحرکت ہوتی اور دائمی رسوائی کا سبببنتی۔

خلافت ختم ہونے کے بعد جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔ میں تو الله تعالیٰ کی بارگاہ میں سربسجود ہوں اور ہمیشہ اس کا شکر بجالاتا ہوں کہ اس رسوائی کا داغ میرے ہاتھوں نہیں لگا۔ بس اس عرض کے ساتھ اپنی تحریر ختم کرتا ہوں ۔“ (والسلام)

22/ایلول1329 ( عثمانی کلینڈر کے مطابق) ستمبر1913ء

ملت اسلامیہ کا خادم: عبدالحمید بن عبدالمجید

خلیفہ عبدالحمید کے اس خط کا بغور مطالعہ کرنے سے بہت سے حقائق سامنے آتے ہیں: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انہیں الله تعالیٰ کی ذات پر غیر متزلزل یقین تھا۔ انہوں نے یہودیوں کی اتنی بڑی مادی پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ ملت اسلامیہ کی تاریخ کو اپنے عہد میں داغ دار ہونے سے بچائے رکھا۔ اہل الله اور اہل علم سے انہیں گہرا قلبی تعلق تھا۔ تزکیہٴ قلب اور روح کے لیے باقاعدہ سلسلہٴ شاذلیہ سے وابستہ تھے۔ یہود اور مغرب کی سامراجی طاقتوں کے سامنے عزم اور استقامت کے ساتھ ڈٹے رہے۔ اپنے دورِ خلافت میں یہودیوں کو سر زمین فلسطین میں قطعہ زمین کسی بھی قیمت پر خریدنے کی اجازت نہیں دی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک ترکی میں خلافت عثمانیہ قائم رہی ، اس وقت تک استعماری قوتوں کا فلسطین میں یہودی مملکت کے قیام کا خواب شرمندہٴ تعبیر نہ ہو سکا۔

Best Place In this World....



کہتے ہیں ایک مرتبہ اونٹوں اور انسانوں کا ایک کارواں ایک لق و دق صحرا میں سے گزرا اور خوش قسمتی سے ایک ایسے مقام پر پہنچا جہاں اسے پانی کے حصول کے لئے ایک گہرا سوراخ ملا جو صحرا کے بیچوں بچ دور تک چلا گیا تھا. انہوں نے اس سوراخ میں لمبے لمبے رسوں پر چرس اور ڈول اتار کر دیکھے لیکن نہ ڈول واپس آے نہ رسے. کچھ لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر کہا ہمیں نیچے اتاریے ہم جا کے اس سوراخ کی ٹوہ لگا کے آتے ہیں. آپ کے لئے پانی لاتے ہیں اور نہیں تو اپنی جان آپ پر قربان کرتے ہیں.
جب پہلا آدمی اس زمینی درز کے اندر اترا تو دیر تک اس کا اتہ پتہ معلوم نہ ہوا. اوپر والوں نے رسہ ہلایا.آوازیں دیں مگر کوئی جواب نہ ملا. رسہ اوپر کھینچا تو آخری سرا کھلا تھا اور سورما اس حلقے میں نہیں تھا. پھر حوصلہ کر کے دوسرا آدمی اترا. اس کے ساتھ بھی یہی ہوا.پھر تیسرا،چوتھا اور پانچواں اور جب چھٹا آدمی اس زمین دوز بھٹ میں اترنے لگا تو قافلے کے ایک سیانے نے اس کا راستہ روک کر کہا " ٹھہرو اب مجھے نیچے جانے دو اور اندر کی خبر لانے دو.اس طرح تو ہمارے آدمی ایک ایک کر کے ضائع ہوتے رہیں گے."
قافلے والوں نے بادل نخواستہ بابے کی کمر سے رسہ باندھا اور اسے مور کے اندر سرکنا شروع کر دیا. کوئی دو فرلانگ کی عمودی مسافت طے کرنے کے بعد جب سیانا سطح آپ پر اترا تو اس کے کنارے ایک عظیم البحثہ عفریت کھڑا تھا. اس نے بابے کو دیکھ کر خوشی کا نعرہ لگایا اور کہا آخر تم بھی آگئے. اچھا کیا. میری آرزو پوری ہوئی."
سیانا چپ چاپ دست بستہ کھڑا رہا.
عفریت نے کہا." میں تمہیں اسی صورت میں واپس جانے دوں گا اگر تم میرے سوال کا جواب دو گے.اور میری تسلی کرو گے."
سیانے نے اثبات میں سر ہلایا اور اسی طرح کھڑا رہا.
عفریت بولا " اس کائنات میں سب سے افضل اور اعلی مقام کون سا ہے جہاں زندگی بھرپور انداز میں بسر کی جا سکے."
سیانے نے سوچا اگر میں کسی خوبصورت دلفریب شہر کا نام لیتا ہوں جہاں دنیا بھر کے ٹورسٹ کشاں کشاں جاتے ہیں تو یہ اپنے مسکن کے حوالے سے ناراض ہو جائے گا.
اگر میں عرش بریں اور جنت اور بہشت کا ذکر کرتا ہوں تو ایک عفریت کا ادھر گزر ہی ممکن نہیں رہا.
سینے نے سر جھکا کر کہا." صاحب سوراخ! اس کائنات کا اعلی ترین مقام وہ ہے جہاں آپ خوش رہیں،سکھی رہیں اور باش رہیں چاہے وہ اس کرہ عرض کے اندر ایک بل ہی کیوں نہ ہو."
عفریت نے کہ." دنیا میں تم سے بڑھ کر اور کوئی سیانا نہیں جو بات کی کہنہ کو پہنچ گیا ہے. میں تم سے بہت خوش ہوں.تم کو بھی آزاد کرتا ہوں اور تہمارے ساتھیوں کی بھی خلاصی کرتا ہوں جن کو میں نے ابھی ابھی قید کیا ہے.جتنے چرس بو کے 
ڈول تم نے اندر اتارے میں سب پانی سے بھر کر تمہارے ساتھ کرتا ہوں اور ان کو اوپر پہنچانے کا بندو بست کرتا ہوں. "


The hole in the mustard weed and shook off a long, long seen but not a doll rsy back.Bring water for you and do not sacrifice your life for you.

When the first man off the ground in Slot ath know where it was not so long. Who stirred up the rsh. But he did not respond to voices. Open the last tip was dragged over rsh and this portion was not in flower. Then another man came up.Thus, we will continue to lead by one man. "
Rsh from the back of the convoy entered the cloud nkuasth baby and started sliding it in Moore. After a two-furlong distance of the vertical surface when the season came on a humungous specter stood on its banks. Put the baby to see her and say hurray you finally came. Well done. My wish came true. "
Hand-bound elderly stood silently.
Specter said. "I would only go back if you would answer my question. And I'll cheer."
I nodded yes, and so sane, stood by.
Specter said "the best in the universe where life is rich and high status in a manner which can be spent."
Sober thought if I take some pretty interesting sites where the world's tourist city ksan ksan are angry about it will be his abode.
Throne in heaven and filled the city if I'm not only a specter of the past.
He bent his head and chest. "Sir hole, this universe is the highest point where you should be happy, whether it be learned and Bosch said the atmosphere inside even if a bill."