envato

Thursday, March 22, 2012

yi mashra abi mara nahe - story of javed chaudhry on express news

From MTV to Mecca, How Islam has changed my Life - Von MTV nach Mekka-wie Islam mein Leben veränderte, Story of German Singer Kirstina Bakir



عمران خان نے مجھے مسلمان کردیا۔مشہور جرمن میوزک ٹی وی اسٹار کرسٹینا بیکر کی کہانی.. دنیا کے سب سے مشہور اور بڑے میوزک ٹی وی چینل ایم ٹی وی کی پہلی میزبان جرمن خاتون اور اسٹار کرسٹیانے باکر نے 1995 میں اسلام قبول کیا۔ حال ہی میں ان کی ایک کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور پاکستان حوالے سے ذاتی تجربات تحریر کئے ہیں۔ میوزک اورشو بزنس سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے کرسٹیانے باکر کا نام اجنبی نہیں۔ خاص طورسے، میوزک ٹی وی چینل MTV کی پہلی میزبان کرسٹیانے باکر کی کتاب "Von MTV nach Mekka-wie Islam mein Leben veränderte"کے چند ماہ قبل ہارڈ کور ایڈیشن کی شکل میں شائع ہونے کے بعد سے، مغربی دنیا سے لے کر مسلم معاشروں تک میں بھی، اس نو مسلم جرمن خاتون نے غیر معمولی شہرت اورمقبولیت حاصل کی۔ اس بار کے شانہ بشانہ میں ہم آپ کی ملاقات اسی دلچسپ شخصیت سے کر وا رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تینتالیس سالہ کرسٹیانے باکر کی کتابFrom MTV to Mecca, How Islam has changed my Life جہاں ان کے بچپن سے لے کر اب تک کی زندگی کا ایک خوبصورت جائزہ پیش کرتی ہے وہیں اس کا متن پاکستانی عوام کے لئےبھی غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہے۔ کرسٹینانے نے اپنی کتاب کا عنوان اپنی زندگی میں آنے والے اس انقلاب کے پس منظر میں رکھا ہے جسے وہ اپنی سب سے بڑی خوش قسمتی سمجھتی ہیں۔ انہوں ن 1995 میں اسلام قبول کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ دراصل یورپ میں اسلام کا جوامیج پایا جاتا ہے، اس نے انہیں ہمیشہ بہت مایوس اورافسردہ کیا۔ کرسٹیانے کے بقول: ’’مغرب میں لوگ اس خوبصورت مذہب کو سمجھتے ہی نہیں۔ یہ ہمیشہ سے ان کی خواہش تھی کہ وہ مغرب میں لوگوں پر اسلام کا وہ پہلو اجاگر کریں، جسے خود انہوں نے بہت دلکش پایا۔ وہ ایک عرصے سے اس بارے میں لکھنا چاہتی تھیں، تاہم پبلشرز اوردیگرلوگوں کا خیال تھا کہ اگر کرسٹیانے نے اس بارے میں کچھ لکھا تو وہ شو بزنس کی دنیا سے بالکل آؤٹ کردی جائیں گی۔ کوئی انہیں اپنے پروگرام میں نہیں لے گا۔ اس لئے وہ اس معاملے کو ٹالتی رہیں۔ ان کے بقول: اسلام سے مجھے محبت پتہ نہیں کیوں ہوئی۔ دراصل میں شروع سے ہی گلوکاری اور میوزک میں مصروف تھی تو دنیا بھر کے میوزک کا جائزہ بھی لیا کیونکہ مجھے ٹی وی پر پروگرام کرنا ہوتا تھا۔ جب میں نے اسلامی صوفی میوزک اور قوالی اور نعتوں اور نظموں کا جائزہ لیا تو مجھے اسلام نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہ بلکل اسی طرح ہوتا ہے کہ جب ایک نوجوان لڑکی اپنے لئے کسی لڑکے کی محبت ڈھونڈتی ہے میں بھی اسوقت بالکل اسی طرح سکون اور ذہنی عافیت کی تلاش میںتھی۔ اس وقت میں اپنے کئیرئر کی بلندی پر تھی، میرے ہزاروں عاشق تھے، میرے پاس دولت کا ڈھیر تھا اور میں ہر قسم کا نشہ بھی کرچکی تھی۔ دنیا میں ہر جگہ میں نے گھوم پھر کر سیر کی اور میں جب مرد کو چاہتی حاصل کرلیتی تھی۔ مگر پھر میں زندگی میں ایک خلا سا محسوس ہوتا تھا مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ میںکیوں زندہ ہوں۔ بس جب میں ہر عیاشی کرلیتی اور کرنے کو کچھ نہیں رہتا تو پھر مجھے یہ خیال ستاتا کہ میں کیوں زندہ ہوں۔اسی طرح میںنے اسلام کا مطالعہ شروع کیا اور میں خود ہی مسلمان ہوگئی۔ میرے اسلام قبول کرنے میں اہم ترین کردار پاکستانی لیجنڈ کرکٹر اور سیاستدان عمران خان کا بھی ہے اس پر میں آگے چل کر بات کروں گی۔ پھر 2006 میں، کرسٹیانے باکر حج کے لئے گئیں۔ یہ خبر کسی طرح میڈیا کے ذریعے عام ہو گئی اور اس پرجرمنی میں بہت زیادہ ردعمل سامنے آیا۔ اس پرایک ناشر نے ان سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا وہ اپنے اس سفر کو قلم بند کرنا چاہتی ہیں۔ بس اس وقت ان کا جی چاہا اورانہوں نے یہ کتاب لکھ دی۔‘‘ کرسٹیانے باکر نے دراصل ایک پروٹسٹنٹ عیسائی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کی پیدائش اور پرورش جرمن شہر ہیمبرگ میں ہوئی اور جب وہ ہائی اسکول میں تھیں تو وہ کچھ عرصے کے لئے امریکہ میں ایک یہودی خاندان کے ہاں بطور طالبہ paying guest بھی رہیں۔ کرسٹیانے اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ انہیں اس یہودی فیملی کی چند مذہبی اور روحانی تعلیمات اور رسومات نے بہت متاثر کیا۔ کرسٹیانے تینوں وحدانیت پسند مذاہب کے مابین گہرے تعلق کو بہت اہم سمجھتی ہیں۔Bildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift: کرسٹیانے باکر کو پاکستانی ثقافت بہت پسند ہے اور پاکستان سے تعارف عمران خان نے کرایا تھا۔ ان کا کہنا ہے : ’’ابراہیم علیہ السلام ہم سب کے اجداد میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ تینوں مذاہب دراصل یکساں اخلاقی اصولوں پر مبنی ہیں۔ دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ، عفو و درگزر، انسان دوستی اورسچائی پر قائم رہنا وغیرہ۔ دراصل ہم سب ان دس اخلاقی احکامات پر یقین کرتے ہیں جو خدا نے حضرت موسٰی کو دئے تھے۔ ہم سب کے پیغمبر ایک ہیں، آدم اور حوا سے لے کر اب تک یہ تینوں ادیان ایک ہی تاریخی ارتقاء سے گزرے ہیں۔ اسلام میرے لئے اس وحدانیت کے تصور کا آگے بڑھنے والا سلسلہ ہے جو حضرت ابراہیم کے دور سے شروع ہوا اور پیغمبر اسلام تک پہنچا۔‘‘ اسلام کی وہ کون سی خصوصیت ہے جس نے کرسٹیانے کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس سوال کے جواب میں کرسٹیانے نے کہا : ’’یوں تو ہرکوئی اپنے انداز میں عبادت کرتا ہے، تاہم اسلام میں پنجگانہ نماز انسان کو خدا سے قربت کا بہت گہرا احساس دیتی ہے۔ اس لئے انہیں اسلام پسند ہے۔ خدا سے یہ قرب بہت اچھی لگتی ہے۔ اسی طرح رمضان کے روزے رکھنا بھی روحانیت کا ایک عجیب احساس ہے۔‘‘ کرسٹیانے اس وقت سے گلیمراورشو بزنس کی دنیا سے منسلک رہی ہیں جب نوجوانوں کو ظاہری نمود و نمائش اور شہرت دیوانگی کی حد تک پسند ہوتی ہے۔ بقول کرسٹانے باکر، وہ سب کچھ جو ایک ٹین ایجر کے لئے خواب ہوتا ہے، انہیں میسر رہا۔ شہرت، گلیمر، دنیا بھر کی سیر، لیکن کہیں بہت گہرائی میں ان کے اندرایک خلاء سا تھا، خالی پن کا احساس۔ کچھ کمی تھی۔ وہ سوچتی تھیں کہ شاید خدا کی مخلوق سے محبت کی کمی پائی جاتی ہے لیکن دراصل یہ کمی تھی خدا سے قربت کی۔ جس کی انہیں ایک انجانی سی تلاش تھی۔ کرسٹیانے کا تعلق ایک پروٹسٹنٹ عیسائی گھرانے سے ہے۔ ان کے مطابق ان کے دادا، پردادا کی نسل بےحد مذہبی تھی۔ لیکن ان کے والدین کے گھر میں مذہب کا کوئی خاص عمل دخل نہیں تھا۔ تاہم کرسٹیانے کے اندرفطری طورپرمذہبیت اورروحانیت پائی جاتی تھی جو انہوں نے پا لی۔ لیکن دلچسپ بات یہ کہ کرسٹیانے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی مسلمان ہو جائیں گی۔ وہ کہتی ہیں : ’’اگر کسی نے 1991 میں ان سے کہا ہوتا کہ کرسٹیانے تم ایک روز مسلمان ہو جاؤ گی تو وہ سوچتیں کہ یہ کس قدرعجیب بات رہے۔ یہ بات دور دورتک ان کے تصورمیں بھی نہیں تھی۔ یہ امردراصل ناقابل یقین ہے کہ ان کے ساتھ ایسا ہو گیا۔ تاہم یہی تو خدا کے پراسرار طریقے ہیں جس سے وہ اپنی نشانیاں غیب سے ظاہر کرتا ہے۔‘‘ کرسٹیانے کا کہنا ہے : ’’ایک ایسا وقت آیا جب خدا کی منشا سے ان کی ملاقات ایک معروف، گلیمرس پاکستانی کرکٹرعمران خان سے ہوئی۔ یہ بات ہے 1992 کی ۔ اس وقت تک، ایک جرمن ہونے کے ناطے کرسٹیانے عمران خان کو بالکل نہیں جانتی تھیں۔ عمران نے انہیں دنوں کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا۔ تاہم کرسٹیانے کے بقول : ’’عمران میں ذرا بھی غرور نہیں تھا، وہ ہروقت یہی کہتے تھے کہ ان کی یہ کامیابی خدا کا کرم ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ خدا کون ہے جس نے عمران خان کو ورلڈ کپ کا فاتح بنا دیا۔ عمران سے میری ملاقات اس طرح ہوئی کہ ہم دونوں ہی گلیمر کے دمکتے ستارے تھے۔عمران پر یورپ بھر کی لڑکیاں مرتی تھیں اور مجھ پر مرد۔ میں گلوکارہ تھی،ا یکٹر تھی اور دنیا سے سب سے بڑے میوزک ٹی وی ایم ٹی وی کی اسٹار تھی جب کہ عمران کرکٹ کا لیجنڈ تھا۔اسی تناظرمیں میری ملاقات لندن میں عمران سے ایک پارٹی میں ہوئی جہاں ہم دونوں ہی مدعو تھے۔‘‘ عمران خان جس طرح اپنے عقیدے اورمذہب کے بارے میں باتیں کرتے تھے اس نے کرسٹیانے کو اسلام سے قریب سے جاننے اور سمجھنے پر مجبور کر دیا۔Bildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift: کرسٹیانے ہم سے خصوصی بات چیت کے دوران کرسٹیانے عمران خان کے کینسر ہسپتال کے پروجیکٹ سے بہت زیادہ متاثر ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں : ’’عمران کے اندر ایک سچا مسلمان، ایک اچھا انسان دیکھ کر وہ محو حیرت تھیں۔ عمران نے ایک فلاحی کام کے لئے اپنا کیریئر ترک کردیا۔ لاہور میں شوکت خانم ہسپتال کا قیام جس طرح عمل میں آیا وہ قابل تحسین ہے۔ پھر عمران خان نے انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی اور انہوں نے فورا ہی حامی بھر لی اور یہی ان کے اسلام لانے کا باعث بنا۔‘‘ کرسٹیانے کو پاکستانی عوام کے جذبے نے بھی بے حد متاثر کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ جس طرح انہوں نے عام لوگوں کو ایک ایک روپے کے عطیات جمع کرتے دیکھا اور جس خلوص دل سے عمران خان نے یہ پروجیکٹ چلایا اس کی مثال انہیں کسی یورپی ملک میں نہیں ملتی۔کرسٹیانے باکر نو بار پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں اورانہیں وہاں کے لوگوں کا خلوص، ان کی محبت، ان کی ثقافت بہت اچھی لگتی ہے۔ وہ کہتی ہیں : ’’پاکستان کے عام لوگوں کی نگاہوں میں جو چمک میں نے دیکھی، وہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ نگر کے پہاڑی علاقوں کی طرف جاتے ہوئے میں نے شمالی علاقہ جات کے غریب لوگوں کو دیکھا۔ چھوٹے چھوٹے دیہات سے گزرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ پاکستان کے غریب لوگ کتنے پرخلوص اور مہمان نواز ہیں۔ میں عمران کے ساتھ ان علاقوں میں پھر رہی تھی، جہاں نہ ٹیلی ویژن میسر ہے، نہ ہی کسی کو معلوم تھا کہ عمران کون ہے۔ تب بھی ہرکوئی ہمیں پھل اور میوے، چائے وغیرہ کی پیشکش کرتا۔ اس قدر مہمان نوازی میں نے کہیں اور نہیں دیکھی۔ میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ مسلم ثقافت آخر ہے کیا۔ پاکستان میں ہرکوئی ہرکام سے پہلے خدا کا نام لیتا ہے۔ وہاں کے عوام کی زندگی کا مرکز ان کا اسلامی عقیدہ ہے۔ اس چیز نے مجھے اسلامی کتابیں پڑھنے اور اپنی ذات میں موجود خلاء کو دور کرنے پر مجبور کر دیا۔‘‘ کرسٹیانے باکرکو پاکستان کا ثقافتی ورثہ بہت متاثر کن لگتا ہے۔ وہ مسلم ثقافت کی بہت قدر کرتی ہیں۔ خاص طورسے لاہور میں مغل تہذیب کے جو نادر نمونے موجود ہیں وہ نظرکو خیرہ کر دیتے ہیں۔ مثلاً شالیمار گارڈن، جہانگیر کا مقبرہ اور دیگر عمارتیں، مسلم ثقافت کی شان و شوکت کی عکاسی کرتی ہیں۔ کرسٹیانے کے بقول: ’’یہ عمارتیں جیسے خدا کی عبادت کی نشانی ہوں۔‘‘ کرسٹیانے باکر کا پاکستان کی خواتین کے بارے میں کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان میں جتنی بھی خواتین کو دیکھا، وہ سب کی سب بہت مضبوط، با حوصلہ اور پراعتماد نظر آئیں۔ یہاں تک کہ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں بھی بہت باوقارزندگی گزار رہی ہیں۔ جن تعلیم یافتہ خواتین سے ان کی ملاقات ہوئی، وہ گھر بار اور بچوں کی دیکھ بھال کے لئے کچھ عرصے تک گھر پر رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ وہ اپنی یہ ذمہ داری بخوشی نبھا رہی ہیں۔ دوسری جانب انہیں بہت سی ایسی پاکستانی خواتین بھی ملیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کررہی تھیں کیونکہ ان کے شوہر دفتروں سے دیر سے گھر آتے ہیں، بغیر بتائے کہیں ڈنر پر چلے جاتے ہیں، پھر گھنٹوں بعد گھر آ کر کچھ کہتے بھی نہیں۔ ان باتوں سے مجھے بہت سی بیویاں تنگ نظر آئیں اور یہ صحیح بھی ہے۔ کرسٹیانے کہتی ہیں کہ وہ بھی یہ برداشت نہیں کر سکتیں کہ ان کا شوہر بتائے بغیر دیر سے گھر آئے۔ اس لحاظ سے پاکستانی بیویوں کی شکایت بجا ہے۔ کرسٹیانے کو پاکستانی آم اتنے پسند ہیں کہ وہ اسے جنت کا میوہ کہتی ہیں۔ انھوں نے ہمیں ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان اپنے آموں کو دنیا بھر میں ایکسپورٹ کرنا شروع کر دے تو ان آموں سے لطف اندوز ہونے والے پاکستان سے محبت کرنے لگیں گے

Wednesday, March 14, 2012

VIP Culture in Pakistan Real story By Javed chaudhry

 

True Story About Mobile and Students



”مس باتھ روم میں ایک لڑکی موبائل پر بات کررہی ہے۔“ میرے کالج میں موبائل فون لانے پر پابندی ہے، لہذا جیسے ہی چند طالبات نے مجھے یہ اطلاع دی، میں بڑی سرعت سے جائے وقوع پر پہنچی۔ ایک سیدھی سادی سی بچی تولیے سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی باتھ روم سے باہر نکلی۔ ”موبائل نکالیے“ مجھے اس پر شک نہیںتھا، وہ تو اسے باتھ روم سے باہر آتےدیکھ کر ایسے ہی پوچھ لیا تھا۔ ”میرے پاس نہیں مس میرے پاس نہیں ہے موبائل“ چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔ اس کے معصوم چہرے سے نگاہ ہٹی اور براہ راست کالج مونوگرام والی جیب پر پڑگئی۔ ”یہ کیا ہے“ اگلے ہی لمحے چپس کا پیکٹ میرے ہاتھ میںتھا، جس کے اندر حرکت ہورہی تھی۔ ”میں نے استعمال نہیں کیا۔“ اس نے میرے ہاتھ سے چپس کے پیکٹ میں لپٹا ہوا موبائل فون جھپٹنا چاہا۔ ”اول تو کالج میں موبائل فون لانے کی اجازت نہیں، پھر....“ میری بات مکمل ہونے سے قبل اس نے کہا”مس! کیا بیگ میں رکھتی، چوری نہ ہوجاتا؟“ ”کل پرنسپل سے لے لینا، آج تو وہ میٹنگ میں گئی ہوئی ہیں۔“ میں نے اتنا کہا اور اگلا قدم بڑھانا چاہا جو اس نے بڑھنے نہیں دیا۔ ”پلیز.... میرا موبائل دے دیجئے۔“ وہ برے طریقے سے جھپٹی۔ ”میں نے کہا ناں، کل والدین کو بھیج دینا، مل جائے گا۔“ اسی وقت موبائل فون پر کال آرہی تھی۔ ”نہیں مجھے ابھی چاہیے، اسی وقت“ اس کا انداز نہایت جارحانہ اور جاہلانہ ہوگیا تھا۔ مجھ پر حملہ کرنے کی لمحے بھر کی دیر تھی کہ سینئر پروفیسر نے آکر اسے ڈانٹا، مگر وہ قابو میں آنے والوں میں سے نہ تھی۔ حتیٰ کہ کالج کی چھٹی ہوگئی اور وہ تڑپ تڑپ کر روتی رہی۔ موبائل فون پوشیدہ مقام پر رکھنے سے قبل لاتعداد آنے والے ایس ایم ایس چیک کیے گئے تو معلوم ہوا آگ دوسری جانب بھی برابر لگی ہوئی تھی۔ ایک لڑکا ایس ایم ایس کے جواب نہ ملنے پر بے قرار تھا۔ اگلے دن نہ وہ بچی آئی نہ کوئی موبائل فون لینے، لیکن اس کے گھر سے کوئی اس کا فون سیٹ لینے آتا بھی تو کیا ہوتا۔ ہم جتنے بھی اس کے ایس ایم ایس پڑھو ادیتے ماں باپ کو ٹیچرز ہی کو برا بھلا کہنے پر اکتفا کرنا تھا کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ عموماً مائیں آتی ہیں تو ٹیچرز کو دقیانوسی اور اپنی بیٹی کو کھلا ذہن رکھنے والی قرار دیتی ہیں اور اکثر دوبارہ جب ملاقات کاشرف بخشتی ہیں تو بیٹی کسی کے ساتھ فرار ہو چکی ہوتی ہے اور اس آس پر آتی ہیں کہ شاید بھولے بھٹکے کالج آجائے کسی کام سے، مگر اس وقت تک پانی سر سے اونچا ہوچکا ہوتا ہے اور ان کی آس، آس ہی رہ جاتی ہے۔ کچھ والدین تو بے عزتی کے خوف سے خاموش ہو جاتے ہیں کہ ”اب کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت“ میں ایک گورنمنٹ کالج میں لیکچرار ہوں۔ میری فقط تین سالہ ملازمت میں یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک معمول ہے۔ میرے اپنے تعلیمی دور کو بیتے زیادہ عرصہ نہیں ہوا، مگر نوجوانوں کی روز بہ روز بگڑتی حالت کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرے طالب علمی کے زمانے کو صدیاںبیت گئی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ میرے دور میں ماحول سو فی صد پاکیزہ تھا، تمام ہی طالبات کا چال چلن مثالی تھا، مگر لڑکیوں کو یونیفارم میں آنا اور کالج کے بجائے ادھر ادھر نکل جانا، کالج دورانیے میں بھی کونوں کھدروں میں چھپ کر فون پر گفت وشنید کرنے کا تناسب روزبہ روز انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پہلے کالج کے چار سیکشن میں سے کسی ایک سیکشن کی لڑکی غلط حرکات میں ملوث پائی جاتی تھی، وہ بھی سال دو سال میں، مگر آج ہر کلاس ہر سیکشن میں ایسے واقعات ہر پندرہ بیس روز میں سامنے آجاتے ہیں۔ میں اس کا ذمے دارنہ میڈیا کو گردانتی ہوں اور نہ ہی موبائل فون کو، میں اس بگڑتی ہوئی صورت حال کی ذمے داری برملا والدین پر ڈالتی ہوں۔ انتہائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی طالبات جن کے لاغر وجود چیخ چیخ کر باور کروارہے ہوتے ہیں کہ انہیں کئی روز سے پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیںہوئی ہے، فیس جمع کروانے کے لیے مالی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، لیکن ان کے پاس موجود موبائل سیٹ قابل دید ہوتے ہیں۔ یہ سیٹ کہاں سے آیا، اگر آبھی گیا تو بیلنس کے لیے پیسے کہاں سے آرہے ہیں، یہ نت نئے نام کی دوستیاں کہاں سے ہو گئیں، موبائل فون سائلنٹ پر کیوں رکھا جانے لگا۔ وہ بچی جو رات کو کسی کمرے میں اکیلے سونے سے ڈرتی تھی، موبائل سیٹ آنے کے بعد اتنی بہادر کیسے ہوگئی۔ اسے فون سرہانے رکھے بغیر نیند کیوں نہیں آتی۔ یہ سوالات ماو ¿ں کے اذہان میں کیوں نہیں کلبلاتے۔ یہ صرف کالج طالبات ہی کی بات نہیں ہے، بلکہ اس کا شکار تمام نوجوان نسل ہے۔ لڑکے، لڑکیاں سب ہی اس بلاکا شکار ہیں۔ آپ کو چنگ سینٹرز کا دورہ کریں، وہاں مزید کم عمر اسکول کے بچے ہیں۔ اندر بچیوں کی کلاس ختم، باہر لڑکے ایس ایم ایس پڑھ رہے ہیں۔ ”میں آرہی ہوں۔“ دو گھنٹے کی کوچنگ کلاس اکثر چار گھنٹے پر محیط ہو جاتی ہے۔ مائیں بچیوں کی زبانی سن کر مطمئن ہوجاتی ہیں۔ بلا شبہ اکثر سچ بھی ہوتا ہے، مگر ماو ¿ں کو از خود تصدیق کرنی چاہیے۔ بچیوں کو انہتائی قیمتی تحائف مل رہے ہوتے ہیں۔ مائیں بہ آسامی بچیوں کے جھانسے میں آجاتی ہیں۔ یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی کہ یہ کون سی سہیلی ہے۔ اگر بچی انجانا نام لیتی ہے تو اس کی تفتیش کیوں نہیں کی جاتی، مائیں کیوں نہیں سوچتیں کہ بیٹی کی نئی دوست جس کا جمعہ جمعہ آٹھ دن سے نام سن رہی ہیں، بھلا وہ کیوں اتنے قیمتی تحائف دے گی۔ بچی کو کیوں اچانک ہی سجنے سنور نے کا شوق چڑایا۔ کیوں وہ گھر سے سنور کر نکلنے لگی؟ ماو ¿ں کوکوئی پروا ہی نہیں ہوتی۔ خود محلے کی تانک جھانک میںاس قدر مگن رہتی ہیں کہ عزت کے محل میں دراڑیں پڑتی جارہی ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا، البتہ محل ڈھے جانے کے بعد واویلا مچاتی ہیں۔ میری ماوں سے التجا ہے خدارا اپنی بچیوں پر توجہ دیں۔ یہ نازک کلیاں ہیں، ان کی اچھی آبیاری کریں گی تو یہ آپ کے گلشن کی رونق ہیں، ورنہ مسلی، مرجھائی کلیاں 
گلشن کا حسن ماند کردیتی ہیں۔ یہ یادرکھیں۔ 

Monday, March 12, 2012

A TRUE, LOVELY STORY About Islam OHH PEOPLE TRY TO UNDERSTAND THE IMPORTANT OF SALAH

A TRUE, LOVELY STORY:
once there was a girl who really loved her prayers.One day she offered her maghrib salah and after that she wore beautiful new dress and put make up.It was her marriage day.Suddenly she heard azaan for isha.She told her mother that she will not come for the wedding before offering her Isha prayer.Her mother got angry on her and started to convince her for not to do so.Her mother said if you will do wudhu than your make up will go off and it will all be removed.Her mother also said"are you crazy.Guests are waiting only for you,and you are saying that first you want to offer your salah.You are sick..!".Then the girl replied mother try to understand salah is my first and foremost priority.Her mother got angry on her.But still she did wudhu and started her salah.When she was in sajda SHE DIED.
It was her luck subhanALLAH that a girl who really loved her religion performed her last salah of her life...!!!



"OHH PEOPLE TRY TO UNDERSTAND THE IMPORTANT OF SALAH" 

World Beauties story and Reality

"BEAUTIFUL STORY"

A boy said to his father: "I saw a girl and I want to marry... her. She is so beautiful and she has gorgeous eyes. The father answered his son: of course son, let’s ask for her hand in marriage."
 
When the father saw the girl, he admired her beauty and he told his son: "You don’t deserve this girl, she needs someone who has experience in life and she can depend on, someone like me."

The boy was surprised by the attitude of his father and he told him : "She will marry me, not you”. They started to fight and finally they decided both to go to the police station to solve their problem.

When they tell their story to the police officer, he told them:”bring the girl so we can ask her about her opinion about this. " When the officer saw the beauty of the girl he said to the boy and his father:”you both don’t deserve her, she needs someone who has prestige like me.”



The 3 men started a fight and decided to go to the minister to solve their problem. When the minister saw the girl, he said: "She deserves to be married with a minister like me”. The prince heard about their problem and call them all to help them solve it but and when he saw the girl he said : "This girl will marry me” .

All the 5 men started to fight. Finally, the girl said “I have the solution! I will start to run and whoever catches me first, he will be my husband”. When she started to run, the boy, his father, the police officer, the minister and the prince started to run to catch her. Suddenly the 5 men fell into a deep hole.

The girl looked to them from the top and she said “did you know who am I?”

I am the Dunya THE LIFE!!




People want to run to catch me, they are racing to have me.
By doing that, they forget their religion,
until they end up in their grave and won’t have me....!
 

Sunday, March 11, 2012

my college story by Amir khakwani zangar

my college story by Amir khakwani zangar



 

41-Year-Old California Teacher Leaves His Wife & Kids And Move With His 18-Year-Old Student! News Reports


41-Year-Old California Teacher Leaves His Wife & Kids And Move With His 18-Year-Old Student! News Reports



An angry California mother is alleging abuse now that her 18-year-old daughter is living with her former high school teacher, who left his wife and children to move into an apartment with the young woman. James Hooker, 41, quit his job after going public with his love for Jordan Powers, who stopped attending classes at her Modesto high school and left home to be with her former business teacher. The girl's mother is skeptical of the couple's claims that nothing sexual happened between them, and exactly when the relationship became physical has become the center of a police investigation. "She looked up to him," mom Tammie Powers said. " [He was in the] position of an educator, [and you] don't abuse your student. Period. She's still in high school. She still lives at home. She has a curfew.  That's not OK." The couple maintains that their feelings for each other blossomed slowly by spending time together during and after school, and then via phone calls and text messages. The two first met when Jordan was a high school freshman at James Enochs High School, but they say they only developed romantic feelings after she turned 18 in September." -

Sources : ABC News