envato

Saturday, December 15, 2012

story

Story of life
ایک شخص نےاپنے بچوں کے لئے دمشق کے بازارمیں ایک درھم کی ایک خوبصورت رنگین چڑیا خریدی ۔ راستے میں چڑیا نے اس شخص سے کہا ؛ اے شخص مجھ سے تجھے کوئي فائدہ نہيں پہنچے گا ہاں اگر تو مجھے آزاد کر دے تو تجھے تین نصیحتیں کروں گی اور ہر نصیحت کی اہمیت وقیمت ایک خزانے کے برابر ہے ۔ دو نصیحت تو ابھی کئے دیتی ہوں کہ جب تیرے قبضے میں ہوں اور تیسری نصیحت اس وقت کروں گی جب تو مجھے آزاد کردے گا…

اس وقت درخت کی شا...خ پر بیٹھ کر کروں گی ۔ شخص نے سوچا ایک ایسی چڑیا کی زبانی ایک درھم میں تین نصیحتیں جس نے پوری دنیا دیکھی ہے اور ہر جگہ کا جس نے مشاہدہ کیا ہے گھاٹے کا سودا نہيں ہے ۔ اس نے چڑیا کی بات مان لی اوراس سے بولا چل اپنی نصیحت بیان کر۔
چڑیا نے کہا کہ : پہلی نصیحت یہ ہے کہ اگر کوئي نعمت تیرے ہاتھ سے چلی جائے تو اس کا افسوس مت کر؛ کیونکہ اگر حقیقت میں وہ نعمت دائمی اور ہمیشہ تیرے پاس رہنے والی ہوتی تو کب
ھی ضائع نہ جاتی ۔

دوسری نصیحت یہ ہے کہ اگرکسی نے تجھ سے کوئي محال اور ناممکن باتیں کرے تو اس پر ہرگز توجہ نہ دے اور اس کو نظرانداز کر دے ۔

مرد نے جب یہ دو نصیحتیں سنیں تو اس نے اپنے وعدے کے مطابق چڑیا کو آزاد کر دیا ۔ چھوٹی چڑیا فورا اڑ گئی اور درخت کی شاخ پرجا بیٹھی ۔

اب جبکہ چڑیا اس کے قبضے سے آزاد ہوچکی تھی تو وہ شاخ پر بیٹھ کرمسکرائي ۔ مرد نے کہا کہ اے چڑیا اب تیسری نصیحت بھی کردے !

چڑیا نے کہا : کیسی نصیحت !؟

اے بیوقوف انسان ، تو نے اپنا نقصان کیا ۔ میرے پیٹ میں دو قیمتی موتیاں ہیں جن کا وزن بیس بیس مثقال ہے میں نے تجھے جھانسا دیا اور تیرے قبضے سے آ‌زاد ہو گئی اگر تجھے معلوم ہوتا کہ میرے پیٹ میں کتنے قیمتی موتی ہيں تو تو مجھے کسی بھی قیمت پرآزاد نہ کرتا ۔

اب یہ سن کر تو مرد کو بہت ہی غصہ آیا اسےغصے میں یہ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ کرے تو کیا کرے ؟ وہ مارے افسوس کے اپنا ہاتھ مل رہا تھا اور چڑیا کو برا بھلا کہے جا رہا تھا ۔ بہرحال نے مرتا نہ تو کرتا کیا

مرد نے چڑیا سے کہا خیر اب جب تو نے مجھے ان دو قیمتی موتیوں سے محروم کرہی دیا ہے تو تیسری نصیحت تو کرہی دے ۔

چڑیا بولی : اے مرد ! ہاں ! ميں نے تجھ سے کہا تھا کہ اگر نعمت تیرے ہاتھ سے چلی جائے تو اس کا غم مت کرنا لیکن میں دیکھ رہی ہوں کہ تو مجھے رہا کرنے کے بعد کف افسوس مل رہا ہے تجھے اس بات کا صدمہ ہے کہ کیوں مجھے چھوڑدیا ۔ میں نے تجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئي محال اور ناممکن بات کرے تو اس پر توجہ مت دینا لیکن تو نے تو ابھی اسی وقت یہ بات مان لی کہ میرے شکم میں چالیس مثقال کے دوموتی ہيں ۔آخرخود میرا وزن کتنا ہے جو میں چالیس مثقال وزن اپنے شکم میں لے کراڑ سکوں گی ۔ پس معلوم ہوا کہ تو ان دونصیحتوں کے بھی لائق نہيں تھا اس لئے اب تیسری نصیحت بھی تجھے نہيں کروں گی کیونکہ تو اس کی بھی قدر نہيں کرے گا ۔

چڑیا یہ کہہ کرہوا فضا میں تیزی کے ساتھ اڑی اورمرد کی نظروں سے اوجھل ہوگئي

Thursday, December 13, 2012

دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے- جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے۔


ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیز کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں
وزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔

سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟

سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟

بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے ۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔اس کے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کے لئے کہا تو تمام دانشور اپنے دئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ کس نے کس کو سب سے بڑا دھوکا دیا لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہیں ہوا اور سزائے موت کے خوف سے بھیس بدل کر وہاں سے فرار ہوگیا ۔چلتے چلتے رات ہوگئی ،اسی دوران اس کو ایک کسان نظر آیا جو کھرپی سے زمین کھود رہا تھا۔ کسان نے وزیر کو پہچان لیا ،وزیر نے اس کو اپنی مشکل بتائی جسے سن کر کسان نے اس کے سوالوں کی جواب کچھ یوں دئے

دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے ۔
دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔
تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کےجواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا ،سلطنت تو تمہارے ہاتھ آئے گی۔ یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی اور اسے ہی اصطبل کا نگران بنانے کی بھی پیشکش کی۔کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا ۔وزیر نے سوچا کہ یہ تو آدھی سلطنت کا خواب دیکھ رہا ہے ۔وزیر جانے لگا تو کسان بولا کہ اگر بھاگ جاؤگے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے اور بادشاہ کے بندے تمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اور اگر پلٹو گے تو جان سے مارے جاؤگے۔یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے انکار کر دیا ۔اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ میں سے آدھا پی کر چلا گیا ۔کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لوتو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا ۔یہ سن کر وزیر تلملا گیا مگر اپنی موت اور جاسوسوں کے ڈر سے اس نے دودھ پی لیا۔وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف دیکھا اور اپنے سوال کا جواب مانگا
تو کسان نے کہا کہ
دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے
جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے۔




جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا

کہنے کو تو بادشاہ انصاف پسند اور عوام کے دکھ سکھ کو سمجھنے والا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ سے لنگڑا اور ایک آنکھ سے کانا تھا۔

ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔

اور وہ بھی اس شرط پر، کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔


سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔

اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے کانا،

اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سےبھی لنگڑا تھا۔

لیکن

اس اجتماعی انکار میں ایک مصور نے کہا: بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر۔

اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔

وہ کیسے؟؟

تصویر میں بادشاہ شکاری بندوق تھامے نشانہ باندھے ، جس کیلئے لا محالہ اُسکی ایک (کانی) آنکھ کو بند ،

اور اُسکے (لنگڑی ٹانگ والے) ایک گھٹنے کو زمیں پر ٹیک لگائے دکھایا گیا تھا۔

اور اس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویر تیار ہو گئی تھی۔

کیوں ناں ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویر بنا لیا کریں

خواہ انکے عیب کتنے ہی واضح ہی نظر آ رہے ہوا کریں!!

اور کیوں ناں جب لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں…. اُنکے عیبوں کی پردہ پوشی کر لیا کریں!!

آخر کوئی شخص بھی تو عیبوں سے خالی نہیں ہوتا!!

کیوں نہ ہم اپنی اور دوسروں کی مثبت اطراف کو اُجاگر کریں اور منفی اطراف کو چھوڑ دیں…… اپنی اور دوسروں کی خوشیوں کیلئے!!

ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث پاک کا ملخص اور مفہوم ہے کہ

(جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا)

Wednesday, December 5, 2012

کچھ باتیں پھولوں جیسی-ایک نوجوان کی شادی ہوتی ہے

کچھ باتیں پھولوں جیسی

ایک نوجوان کی شادی ہوتی ہے


وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے کہ وہ اس کے اس نئے ازدواجی سفر کے لیے برکت کی دعا کرے
جب وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے اس کا والد اُس سے ایک کاغذ اور قلم مانگتا ہے


لڑکا کہتا ہے : کیوں ابا جان ؟ اس وقت تو میرے پاس قلم اور کاغذ نہیں

باپ کہتا ہے : تو جاؤ ایک کاغذ ،قلم اور ربڑ خرید کر لاؤ

لڑکا شدید حیرانگی کے ساتھ جاتا ہے اور مطلوبہ چیزیں لیکر آجاتا ہے اور اپنے باپ کے پاس بیٹھ جاتا ہے

باپ : لکھو

کیا لکھوں

جو جی چاہے لکھو

نوجوان ایک جملہ لکھتا ہے

باپ کہتا ہے : اسے مٹا د و

نوجوان مٹا دیتا ہے

باپ : لکھو

بیٹا : خدارا آپ کیا چاہتے ہیں ؟

باپ کہتا ہے : لکھو

نوجوان پھر لکھتا ہے

باپ کہتا ہے : مٹا دو

لڑکا مٹا دیتا ہے

باپ پھر کہتا ہے : لکھو

نوجوان کہتا ہے : اللہ کے لیے مجھے بتائیں یہ سب کچھ کیا ہے

باپ کہتا ہے : لکھو

نوجوان لکھتا ہے

باپ کہتا ہے مٹا دو ۔ لڑکا مٹا دیتا ہے

پھر باپ اُ س کی طرف دیکھتا ہے اور اُسے تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے :

بیٹا شادی کے بعد اریزر کی ضرورت ہوتی ہے

اگر ازدواجی زندگی میں تمہارے پاس ربڑ نہیں ہو گا جس سے تم اپنی بیوی کی غلطیاں اور کوتاہیاں مٹا اور معاف کر سکو

اور اسی طرح اگر تمہاری بیوی کے پاس ایریزر نہ ہوا جس سے وہ تمہاری غلطیاں اور ناپسندیدہ باتیں مٹا سکے

اگر یہ سب کچھ نہ ہوا تو

تم اپنی ازدواجی زندگی کا صفحہ چند دنوں میں کالا کر لو گے

ایک دوسرے سے مقابلے کی بجائے مصلحت سے کام لیں ۔ شکریہ




Tuesday, December 4, 2012

Fulfilling a Promise story


Fulfilling a Promise




Ever since the beginning The girl’s family member disagree her relationship with the boy. Saying that because of family background, if she insist of being together with the boy, she’ll suffer for her whole lifetime.


Because of the pressure applied by family members, she frequently quarrel with him. The girl does love the boy, she used to ask him, “How much do you love me?” Because the boy is not good with words, he used to make her angry. With additional comment from her parents, her mood get even worse. The boy, has become her “anger releasing target”. And the boy, just silently allowed her to continuously release her anger on him. Read more after the break...


Later, the boy graduated from University. He plan to further study overseas but before he left. He proposed to the girl… ” I, don’t know how to say nice words but I do know that, I love you. If you agree, I am willing to take care of you, the whole life. About your family members, I will work hard to convince them and agree on us.”


“Marry me, will you?”, the girl agreed.


And her parents, looking at the effort shown by the boy, agreed with them. Finally, before the boy go oversea, they are engaged. The girl stay back in the hometown, step into the working society where as the boy continuing his study oversea. They maintained their relationship through telephone and letters. Although time is difficult to get through with, but both of them never give up.


One day, the girl left home for work as usual on her way to the bus stop, a car lose control and knock her down. As she awake from unconsciousness, she saw her parents and realize how seriously she got hurt and how fortunate of her, not to get killed.


Looking at her parents, with their faced got all wet by their tears, she tried to comfort them. But then, she found out that She can’t even spell out a word, she tried her best to make some voice but all she managed, was to breath without any voice. She’s mute. According to the doctor, the injury affected her brain, and that cause her to be mute for the rest of her life. Listening to her parents persuade, but can’t even reply with a single word, the girl collapsed. Throughout the days, others than crying silently, still it is crying.


Later, the girl discharged from hospital. Returning to her home, everything is still like before. Except that the phone ring, has turned into the worst nightmare of hers. Ring after ring, continuously stimulate her, stimulating her pain But she can’t tell the boy. She don’t want to be a burden to him, and wrote him a letter telling him that she no longer want to wait, the relationship between them ended, and even returned him the engagement ring. Facing the letters and telephone from the boy, all she can do, is to allow tears falling from her eyes.


Her father decided to move, after seeing the pain she is suffering. Hoping that she could forget everything and be happier into a new environment, the girl started to learn, slowly picking up sign language and start over again. Also telling herself to forget the boy.


One day, her best friend tell her that the boy’s back. He’s searching all around for her, she asked her best friend not to tell him about her and asked her to tell him to forget her. After that for more than a year there was no news of boy. One day her best friend tells her, that the boy is getting married soon, and passed the Wedding Card to her. She open the card sadly, but she found her name on the card.


The moment she want to ask her best friend, the boy appear in front of her. With an unfamiliar sign language, he told her ”I spent more than a year’s time, to force myself to learn sign language, in order to tell you, I have not forgot our promise, give me an opportunity, let me be your voice. I love you.”


Looking at the slow sign language by the boy, and the engagement ring she gave back to him, She finally smiled.




Moral: Do not be a coward and run away whenever there is a problem, remember that every problem has a solution, never ever break someone’s heart, you may not know when it will happen to you.

Wednesday, November 28, 2012

Unconditional Love


Unconditional Love

A store owner was putting up a sign that read "Puppies for Sale". Soon a little boy came along and asked, " How much are you gonna sell those puppies for ? " The store owner replied, "Anywhere between $30 to $50." The little boy reached into his pocket and pulled out some change. He said, " I have only $2.37, but can I have a look at them?" The store owner smiled and whistled.
Out of the kennel came his dog named Lady, running down the aisle followed by five little puppies.


One puppy was lagging considerably behind. The little boy immediately singled him out. He asked the owner what was wrong with that one and the owner explained that the pup was born with a bad hip socket and would limp all his life.


The little boy was all set to buy that particular pup. The store owner tried to convince him that he would not really want a lame pup, but the little boy was adamant to buy the same for the same price as the others. He did not want the store owner to give the pup to him free. He looked him straight in the eye and said, " This pup is worth every bit as much as the other dogs and I'll pay the full price. In fact, I will give you $2.37 now and 50 cents every month until I have him paid for." Still the store owner tried to tell the boy that the pup would not be able to run, jump and play like the other puppies. Then the little boy reached down and rolled up his pant leg to reveal a badly twisted, crippled left leg supported by a big metal brace. He looked up at the man and said, "Well, I don't run so well myself and the little puppy will need someone who understands."


Tears welled up in the store owner's eyes and he smiled and said, "Son, I hope and pray that each and every one of these puppies will have an owner such as you."


We may never know of a greater character unless there is in ourselves something congenial to it. In life, it does'nt matter who you are, but whether, someone appreciates you for what you are, accepts you and loves you unconditionally.

Saturday, October 13, 2012

Quran Change Our Lives.... Agree?

پہاڑوں میں ایک بزرگ اپنے نوجوان پوتے کے ساتھ رہتے تھے۔وہ ھر روز صبح قرآن کی تلاوت کرتے تھے ان کا پوتا ھمیشہ ان جیسا بننے کی کوشش کرتا تھا۔

ایک دن پوتا کہنے لگا۔‘‘دادا میں بھی آپ کی طرح قران پڑھنے کی کوشش کرتا ھوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی, اور جو سمجھ آتی ھےجیسے ھی میں قرآن بند کرتا ھوں میں بھول جاتا ھوں۔ ایسے قران پڑھنے سے ھم کیا سیکھتے ہیں، مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، دادا نےخاموشی سے کوئلوں وال
ی ٹوکری ميں سے کوئلہ نکال کرانگھیٹی میں ڈالا اور جواب میں ٹوکری پوتے کو دے کر کہا "جاپہاڑ کےنیچے ندی سے مجھے پانی کی ایک ٹوکری بھر کر لا دے‘‘
لڑکے نے دادا کی بات پر عمل کیا لیکن گھر واپس پہنچنے تک تمام پانی ٹوکری میں سے بہ گیا۔ دادا مسکرایا اور کہا‘‘ "تم اس دفعہ اور زیادہ تیز قدم اٹھانااور جلدی کرنا‘‘اور اس کو واپس بھیج دیا۔

اگلی بار لڑکا بہت تیز بھاگا لیکن گھر پہنچنے تک ٹوکری پھر خالی تھی۔ پھولی ھوئی سانسوں سے اس نے دادا سے کہا کہ ٹوکری میں پانی لانا ناممکن ھے وہ بالٹی میں پانی لے آتا ھے۔داد نے کہا‘‘مجھے پانی کی بالٹی نھیں پانی کی ٹوکری چاھیئےتم ٹھیک سے کوشش نھیں کر رھے ھو‘‘اور اسے پھر سے نیچے بھیج کر دروازے میں کھڑا ھو کر دیکھنے لگا کہ وہ کتنی کوشش کرتا ھے۔
لڑکے کو پتہ تھا کہ یہ ناممکن ھے لیکن دادا کو دیکھانے کے لئے اس نے ٹوکری پانی سے بھری اور انتہائی سرعت سے واپس دوڑا-واپس پہنچنے تک ٹوکری میں سے پانی پھر بہ چکا تھا اور وہ خالی ھو چکی تھی.
لڑکے نے کہا "دیکھا دادا یہ بےسود ھے‘‘۔دادا نے کہا "ٹوکری کی طرف دیکھو‘‘لڑکے نے ٹوکری کی طرف دیکھا اور اسے پہلی بار احساس ھوا کہ ٹوکری پہلے سے مختلف تھی۔اب وہ پرانی اور گندی ٹوکری کی جگہ اندر اور باھر سے صاف ستھری ھو چکی تھی۔
دادا نے کہا‘‘بیٹا جب ھم قرآن پڑھتے ھیں چاھے ھم اس کا ایک لفظ بھی سمجھ نہ پارھے ھوں یا یاد نہ کر پا رھے ھوں پھر بھی اس کی تلاوت ھمیں اندر اور باھر سے ایسے ھی پاک صاف کر دیتی ھے۔اسی طرح اللہ تعالی ھماری زندگی بدل دیتا ھے ۔‘‘

With his young grandson in the mountains lived an old man. They used to recite the Quran every day of their grandson would always try to be like them.

Said grandson one day. 'Grandfather, I'm trying to read the Qur'an just like you but I do not understand, and who understand the close hyjysy I'm sorry I have forgotten., What we learn from studying the Qur'an , I do not use, grandfather of nykamusy kuylun Wall
The coal out of the box and put kranghyty grandchild in the car and said "I japhar kynycy river water by filling a basket by La '

Next time male ran very fast but again the basket was empty until arriving home. Defined Flower Basket breath, he told his grandfather that it is impossible to get in the water and fetch a bucket of water. Resolution said, 'I will not WATER bucket of water do not try cahyyytm well be moving cart 'and sending it down again is standing in the door and try to see how he does.

The boy said, "Look Grandpa, this is bysud. Grandfather said," Look at the basket 'boy looked at the basket and it was the first time realized that the basket was different. Now place the basket in old and dirty and had been clean from outside.
Grandpa said, 'Son, when we are reading the Qur'an do not understand a word of it parhy whether we are moving or can not remember reading that we are still the same pure, clean the inside and outside is. Similarly Allah He is our life will change. '

Monday, October 1, 2012

چیٹ کا انجام Must Read, Tag And Share With Others. Thanks



چیٹ کا انجام
Must Read, Tag And Share With Others. Thanks

انٹرنیٹ کے زریعے جیون ساتھی چننے والوں کے لئے ایک سبق آموزقصہ

میری زندگی کی یہ داستان ان لوگوں کے لئے عبرت انگیز بھی ہے اور اپنے اندر لمحہء فکریہ بھی رکھتی ہے جو اپنی خمار آلود جوانی کی سر مستیوں میں گم ہو کر معصیت کے بحرِ ظلمات میں بہتے ہوئے اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ بجز گناہ کے مکروہ تصور کے انہیں کچھ نظر نہیں آتا.
جہاں آج سائنس نے بے پناہ ترقی کرلی ہے وہاں اخلاق کو پامال کرنے والے زرائع اس کثرت سے سامنے آئے ہیں کہ ماضی میں انکا تصور تک محال تھا.آج انٹرنیٹ،سٹلایٹ ٹیلیویزن،موبائل فون کا استعمال عام ہے اور ان سب اشیاء تک نوجوان نسل کی پہونچ بہت آسان ہو گئی ہے. 
ماں باپ نے اپنی اولاد تک ان سب آسائشوں کی فراہمی کو بے حد آسان کر دیا ہے اور پھر مستزاد یہ کہ کسی قسم کی نگرانی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ انکی اولاد ان زرائع کا کیسا استعمال کر رہی ہے. 
نتیجہ یہ نکلتا ہے جب بات بگڑ جاتی ہے اور سر پر ہاتھ رکھ کر رونے کا وقت آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ خوابِ غفلت سے آنکھ تو کھلی مگر بہت تاخیر سے. سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آنے سے کیا فائدہ. سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے سے سانپ تو واپس آنے سے رہا.
میں نے انٹرنیٹ کے زریعے اخلاقی زوال کے بہت سے قصے پڑھے ہیں جن کا شکار ہونے والی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جنکی بربادی کی داستانیں چیٹنگ، پال ٹاکس وغیرہ جیسی ویب سائٹس سے شروع ہوکرنہ جانے پستی کی کن گھاٹیوں میں اختتام پذیر ہوتی ہیں. عموما ان چیٹنگ سائٹس پر معصوم بھیڑ کے روپ میں اپنا تعارف کرانے والے جنس پرست نوجوان سادہ اور بھولی بھالی لڑکیوں کو آہستہ آہستہ اپنے مکروفریب کے جال میں پھانس کر یکایک بھڑیے بن جاتے ہیں اور انہیں موقع ملتے ہی بیدردی سے نوچ کھسوٹ کر تباہی اوربربادی کے تاریک گڑہوں میں دھکیل دیتے ہیں جہاں اکثر اوقات ان کے لئے خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا.
میں نے ہر گز یہ نہ سوچا تھا کہ کبھی میں بھی ان قصوں کا حصہ بن جاؤنگا اور میری داستان بھی پڑھنے والوں کے لئے عبرت کا باعث بنے گی.میں ۳۵ سال کا نوجوان ہوں.دینی رجحان کا حامل ہوں اور پانچ وقت مسجد میں نماز ادا کرتا ہوں. اللہ کا خوف رکھتا ہوں اوراسکی اطاعت اور فرمانبرداری کا خواہاں رہتا ہوں. 
میں نہ ہی گانے سنتا ہوں نہ ہی ٹیوی چینلز پرفلمیں اور ڈرامے وغیرہ دیکھتا ہوں بلکہ اقراء اور مجد جیسے دینی چینلز سے دینی پروگرام دیکھتا رہتا ہوں. میں عمرِ عزیز کے پینتیسویں سال میں قدم رکھ چکا ہوں مگر تا حال کنوارہ ہوں جسکی وجہ شادی کے ہوشرباہ اخراجات اور مہرکی تگڑی رقم ہے جسکے باعث کثیر تعداد میں نوجوان شادی نہیں کر پارہے ہیں.
گزشتہ سال اللہ کے فضل و کرم سے مجھے خلیج کے ایک ملک میں ملازمت کا موقع ملا.میں ہمیشہ انٹرنیٹ پر اسلامی،ثقافتی اور اخباری ویب سائٹس دیکھا کرتا تھا اور مخرب الاخلاق اور گندی سائٹس دیکھنے سے قصدا اجتناب برتتا تھا تاکہ میرے 
اخلاق آلودہ نہ ہوجائیں.

اچانک ایک روز میری پاس ایک ایمیل آئی جو کہ اون لائن شادی کرانے والی ایک ویب سائٹ کی جانب سے تھی.میں اس کی ویب سائٹ پر گیا او ر اپنا نام رجسٹرڈ کرالیا تاکہ اپنی شادی کے لئے کوئی لڑکی تلاش کر سکوں.میرے دل میں کوئی شیطانی جذبہ نہ تھا . مقصد صادق تھا اور یہی خواہش تھی کہ اپنے لئے ایک نیک اور صالح شریکِ حیات ڈھونڈھ سکوں.
میں نے کبھی بھی مسنجر پر کسی لڑکی سے چیٹنگ نہیں کی تھی سوائے اپنے اہلِ خانہ کے اور اسکول کے دوستوں کے. کیونکہ میں جانتا تھا کہ لڑکیوں سے چیٹنگ کرنے سے اخلاق کا دیوالیہ ہو جاتا ہے اور معصیت کا راستہ کھل جاتا ہے.
اس ویب سائٹ پر خود کو رجسٹر ڈ کرنے کے ایک ماہ کے بعدمیرا تعارف ایک لڑکی سے ہوا جو میرے اقامتی شہر سے دور کسی اور عرب ملک کی باشندہ تھی. میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ وہ ایک اعلی اخلاق کی حامل اور اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والی ۲۳ سالہ دوشیزہ تھی.
ابتداء میں ہمارے درمیان ایمیل کا تبادلہ ہوا اور پھر ہم مسنجر پر چیٹ کرنے لگے اور یہیں سے شیطان نے اپنا عمل دخل بڑھا لیا وہ ہم دونوں کے درمیان تیسرا فریق بن گیا خصوصا جب ہمارے درمیان تصاویر کا تبادلہ ہو گیا.
ابتداًمیرا رویہ اسکے ساتھ نہایت محتاط تھا اور میں انتہائی سنجیدگی سے اسکے ساتھ اپنے مستقبل کے بارے میں بات چیت کرتا رہا. مجھے وہ لڑکی شادی کے لئے بے حد پسند آئی، 
اسکی عادات، اطوار کا میں قائل ہو گیا اور بالاخر ہم ایک دوسرے کے ساتھ شادی کے لئے ذہنی طور پر تیا ر ہو گئے اور ہم نے باہمی رضامندی سے ایک تاریخ طے کرلی جس دن میں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ اسکے ملک میں جاکر اسے بیاہنا تھا.
شادی کی تاریخ کا تعیین ہونے کے بعد میں ہماری مسنجر اور فون پر بات چیت کا دورانیہ کافی بڑھ گیا اور اسکے ساتھ ہیں ہماری گفتگو کے موضوعات میں بھی تبدیلی آتی گئی اور ہم رفتہ رفتہ اخلاقیات کی قیود سے باہر ہوتے گئے.
ہماری بات چیت نے معصیت کا لبادہ اوڑھ لیا اور یہ سوچ کر کہ دو ماہ بعد ہم شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے ہم نے اخلاق باختہ گفتگو کو اپنا شعار بنا لیا۔رات کے آخری پہر اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے کی بجائے میں اس لڑکی کے ساتھ غیر شائستہ اور شہوت انگیز گفتگو کرتا رہتا.
اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ میں طویل ترین مکالمات پر خرچ کرنے لگا تھا کیونکہ اس سے فو ن پرلمبی بات چیت کا اچھا خاصہ بل آتا تھا.
نہ جانے میری عقل کو کیا ہو گیا تھا. میں جو اپنے گھر ، اپنے اہل خانہ سے اتنی دور اس لئے آیا تھا کہ انکے اور اپنے معاشی حالات سنوار سکوں مگر میں بدقسمتی سے شدید غفلت کا شکار ہو گیا تھا۔ اپنے اہلِ خانہ سے مہینے میں دو بار با ت کرتا تھا مگر اس لڑکی سے روزانہ بات کئے بنا ء نہ رہ سکتا تھا. میں یہ ضرور سوچا کر تھا تھا کہ یہ میں کیا کر رہا ہوں ۔ 
میں اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ تو فضولیات پر صرف کر رہا ہوں، شادی کے لئے بچت کیسے کر پاؤں گا. دل کے کسی گوشے میں موجود جذبہء خیرروزانہ سونے سے پہلے میرا احتسا ب کرتا تھا اورمجھ سے ضرور سوال کرتا تھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو ، کس غفلت میں گرفتار ہو گئے ہو. 
اور میں اپنے ضمیر سے روزانہ یہ وعدہ کرتا تھا کہ آج کے بعد میں اس لڑکی سے معصیت بھری گفتگو سے احتراز کروں گا اور اس سے کسی بھی قسم کی غیر شائستہ اور عشقیہ مکالمات کا تبادلہ نہیں کرونگا اور اپنی گفتگو کے دوران اپنی تمام تر توجہ مستقبل کے لائحہ عمل پر مرکوز رکھونگا.
مگر رات کو اپنے آپ سے کئے ہووعدے صبح ہوتے ہوتے ذہن سے یکسر محو ہو جاتے اور میں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اخلاق کی تمام حدوں کو پار کرنے کی جستجو میں منہمک ہو جاتا، یہاں تک کہ میں اس لڑکی کے عشق کے جنون میں گردن گردن تک دھنس گیا.اسکے بغیر رہنے کے تصورسے بھی وہشت ہونے لگی.کبھی وہ ناراض ہو جاتی تو میں اسکی ناراضگی کے سبب رونے لگ جاتا. زندگی میں ہر چیز سے دلچسپی ختم ہوگئی تھی سوائے اسکی ذات کے.
اسکی شہوت انگیز چاہت میں مبتلہ ہوکر میں اپنی نمازوں سے غافل ہو گیا. کثرتِ شہوت کے سبب حالتِ جنابت میں رہنے کی وجہ سے اکثر نماز میں تاخیر ہو جاتی، یہاں تک کہ بعض اوقات نماز انتہائی سرعت کے ساتھ بغیر کسی خشوع و خضوع کے ادا کرتا کیونکہ دل اس لڑکی میں ہی اٹکا ہو ا ہوتا تھاکہ جلدی سے نماز ادا کروں او رکمپیوٹر پر جاکردوبارہ اس سے چیٹنگ شروع کروں جس نے میری روح وقلب پر قبضہ کر لیا تھا۔


وقت اپنی مخصوص رفتار کے ساتھ آگے سرکتا رھا. مجھے اس لڑکی سے متعارف ہوئے پانچ ماہ ہوچکے تھے.مجھے اس سے جنون کی حد تک عشق ہوگیا تھا اور میں اسکے ساتھ شادی کے لئے انتہائی مخلص اور اپنے ارادہ میں مصمم تھااور اسکے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا.. 
ایک روز میں نے اسکے بھائی کو فون کیا اورتمام صورتحال اسے بتاکر اس کی بہن سے شادی کاعندیہ ظاہر کیاجسے اس نے سراہا اور اپنی موافقت کا اظہار کیا جسے میں نے اپنے لئے نیک فال قرار دیا.
مگر ایک روز سارے خواب ریزہ ریز ہ ہوگئے، شیشۂ دل کرچی کرچی ہو کر چار سو بکھر گیا، امیدوں کا تاج محل یکلخت زمین بوس ہو گیاجب اچانک اسکے اہلِ خانہ نے شادی سے صرف اس لئے انکار کر دیا کہ میں انکا ہم وطن نہیں تھا اورانکی خوبصورت اور حسین بیٹی کے مقابلے میں میرا رنگ سانولہ تھا.
میرے دل کی دنیا آباد ہونے سے پہلے ہی اجڑگئی. 
ہم دونوں کے لئے یہ ایک عظیم صدمہ تھا.مگر ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بے بس اورلاچار تھے کہ ہمارے درمیان فاصلوں کی بے کراں خلیج حائل تھی جسے عبور کرنا ہمارے بس میں نہیں تھا، لہذا ہم نے حالات کے آگے سرنگوں کرنے کا فیصلہ کر لیا.
مگریہ میری زندگی کا سخت ترین اور انتہائی تکلیف دہ فیصلہ تھا. مجھے یقین نہیں آرھا تھا کہ میرے خواب یوں چکناچور ہو جائیں گے.لیکن میں نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دے دی کہ اس میں بھی اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی اور یہ کہ اللہ کا ہر حال میں شکر واجب ہے.
میں خود کو دلاسے دیتا رہا مگر شیطان اپنی خباثت کے جال میرے ارد گرد بنتا رہا اور میرے دل میں وسوسوں کے انبار لگاتا رہاکہ تم اتنی آسانی کے ساتھ کیوں ہار مان رہے ہو، وہ لڑکی بھی تم سے شدید محبت کرتی ہے اور تمہارے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے جبکہ میں شدت کے ساتھ شیطانی خیالات کی نفی کرتا رہا کہ اس میں بھی میرے رب کی جانب سے میرے لئے کوئی بہتری اور مصلحت پوشیدہ ہے. 
ایمان اور وسوسو کی اس جنگ میں بالاخر شیطان کی جیت ہو گئی اور تین دن تک شیطان سے جھگڑنے کے بعد میں نے اس لڑکی سے دوبارہ فون پر رابطہ قائم کر لیا. وہ بھی میرے طرح حزن وملال کی کیفیت سے دوچار تھی. 
ہم نے اس امید پر اپنے تعلقات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاکہ ہم اسکے اہل خانہ کو اس رشتے پر راضی کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے کیونکہ ہم دونوں ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ ایک دوسرے کے بناہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے.
اللہ کی مصلحت کہ ہمارے تعلقات میں ایک تلخ موڑ اس وقت آیا جب میں نے اس سے ہر قسم کی چیٹنگ سے اجتناب برتنے کو کہا مگر میرے سختی اور نرمی سے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اس موقف پر قائم رہی کہ اسے چیٹنگ میں لطف آتا ہے.میں اسکے رویہ کی بناہ پر سخت کبیدہ خاطر تھا، 
مگر جانتا تھا کہ وہ بھی شیطان کے پنجے میں جکڑی ہوئی ہے جبکہ میںیہ چاہتا تھا کہ ہم شادی کے بعد زندگی اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری میں گزاریں.یہاں مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ میں اسے اچھے اور مناسب انداز میں سمجھاتا اور چیٹنگ سے باز رکھنے کے لئے مناسب حکمت عملی کی مظاہرہ کرتا مگر مجھ سے بہت بڑی حماقت سرزد ہوگئی کہ میں نے اس کے ساتھ انتہائی سخت اور اہانت امیزرویہ اختیار کیا
اورلفظوں کے نشتروں سے اسکی روح کو چھلنی کر دیا.میں ہر حال میں اسے چیٹنگ سے باز رکھنا چاہتا تھا اور اسکی ضد نے مجھ سے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صلب کرلی تھی اور نادانستگی میں مجھ سے ایسا رویہ سرزد ہوگیا کہ وہ مجھ سے اس طرح روٹھی کہ سارے تعلقات بیک جنبش ختم کر دئے اور شادی سے کلیتاً انکار کر دیا. میری زندگی رنج والم کا عنوان بن گئی اور میں اس اذیت ناک زندگی پر موت کو فوقیت دینے لگا.میں نے اس لڑکی کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کرلی، 
اس سے اپنے نامناسب رویہ کی معافی بھی طلب کرلی اور ہر وہ طریقہ اختیار کیا جس سے روٹھے محبوب کو منا یا جاسکتا تھا مگر اس پتھر میں دراڑ نہ پڑسکی اور میرے سارے کوششیں بے سود ثابت ہوئیں.
میری تمام ترکوششوں کے باوجود جب لڑکی کے رویہ میں رتی برابر بھی لچک پیدا نہ ہوئی اور میری زندگی میں آہوں اورآنسوؤں کے سوا جب کچھ نہ بچا تو مجھے خیال آیا کہ میری یہ حالت میرے گناہوں کا نتیجہ ہے کہ میں نے راہ حق چھوڑ کر شیطان کا معصیت بھرا راستہ چنا. 
اور یہ بات بھی واضح ہوئی کہ انسان اللہ کا بتایا ہوا سیدھا راستہ چھوڑ کر شیطان کی پرپیچ اور پرخار راہ اپناتا ہے تو وہ ایسا کر کے خود کو ہلاکتوں میں ڈالتا ہے اور میں نے بھی خود کو اپنے ہاتھوں برباد کیا. میں نے گمراہی اور ضلالت سے تائب ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور اسکا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے توبہ کی مہلت دی اور حالتِ گمراہی میں میری روح قبض نہ کی.
اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے جو کہ بندے کی سمجھ میں فوراً نہیں آتی. 

سورۃبقرۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : وعسی ان تکرھوا شیئاً وھو خیرلکم۔ وعسیٰ ان تحب شیئاً وھو شر لکم (البقرۃ ۲۱۶ ) ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو .اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو) 

میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ ہمارے درمیان اختلافات نے جنم لیااور ہمارے تعلقات کشیدہ ہوگئے. بیشک بظاہر میرے سارے خواب چکنا چور ہوگئے اوراس کے ساتھ مستقبل کے حوالے سے جو تانے بانے بنے تھے وہ سب ریت کا ڈھیر ثابت ہوئے. مگر اللہ کے راز وہی جانتا ہے. اس سلسلے میں جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا وہ مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کرنے اور، اللہ کے حضور تائب ہونے کا سبب بنا.
تائب ہو کر سب سے پہلے میں نے جو کام کیا وہ کمپوٹر سے مسنجرکو حذف کردیا، چیٹنگ سے کنارہ کشی اختیار کی اور انٹرنیٹ کے زریعے شریکِ سفر کی تلاش موقوف کردی کیونکہ یہ سلسلہ دراز ہو کر گمراہی ، 
ہلاکت اور اللہ سے دوری کا سبب بنتا ہے. میں رب کریم کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے راہ ہدایت عطا کی اور پانچ ماہ کی غفلت کے بعد ایمان کی حلاوت کا دوبارہ مزا چکھا. میں اللہ کا احسان مند ہوں کہ وہ لڑکی کسی دوسرے ملک میں مقیم تھی اگرخدانخواستہ وہ اسی ملک میں مقیم ہوتی جس میں میں رہ رہا ہوں تو نہ جانے شیطان معصیت کے کتنے گہرے گڑھے میں مجھے دھکیل دیتا.
یہ انٹرنیٹ اور چیٹنگ کے حوالے سے میری عبرت انگیز داستان ہے جس نے مجھے اللہ سے دور کردیا تھا اور تباہی اور بربادی کے دہانے پر لا چھوڑا تھا.اگر اللہ کا خاص کرم اور احسان نہ ہوتا اور اگر یہ سلسلہ دراز ہوتا جاتا تو نہ جانے میرا کیا انجام ہوتا. 
جو لوگ انٹرنیت چیٹنگ کی بھول بھلیوں میں گم ہوکر وقتی لذت اور سرور حاصل کرنے کی خاطر گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں اور اپناقیمتی وقت اور توانائیاں ضائع کرتے ہیں میری ان بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ ان سبق آموز قصوں سے نصیحت حاصل کریں جو انٹرنیٹ چیٹنگ کے
باعث اخلاقی بگاڑ کا شکار ہو کر اپنی دنیا اور آخرت کو بر باد کر دینے والوں کے تعلق سے پڑھنے کو ملتے ہیں . اگر آپ کے پاس فارغ وقت ہے اور آپ انٹرنیٹ سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں آپ کو بیشمار اسلامی اور مفید سائٹس ملیں گی جہان سے وہ آپ اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دین کا علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مفید معلومات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
اسکے علاوہ اس داستان میں ان لوگوں کے لئے بھی ایک سبق موجود ہے جو انٹرنیٹ کے زریعے شادی کرنا چاہتے ہیں.اس میں بہت دھوکے ہوتے ہیں. دوسرے کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا شخص یا خاتون جھوٹ کا سہارا لیکر اپنے متعلق غلط بیانی سے کام لیکر اور حقائق کو چھپا کر شادی کرلیتے ہیں اور جب حقیقت آشکار ہوتی ہے تو پچھتاوے اور عمر بھر آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا . 
اس کا زیادہ تر شکار لڑکیاں ہوتی ہیں.اگر آپ ایک ہی شہر میں رہتے ہیں تو سامنے والے فریق کے متعلق معلومات مہیا کر سکتے ہیں مگر سرحدوں کے پار بسنے والے کسی بھی ایسے شخص سے متعلق جس سے آپکی جان پہچان صرف انٹرنیٹ پر ہوئی ہے ، درست معلومات کا حصول مشکل ہوتا ہے اور اسی لئے اس چینل کے زریعے ہونے والی شادیاں عموما جلد ہی اپنے منطقی انجام یعنی طلاق پر منتج ہوتی ہیں ، الا ماشاء اللہ.
لہذا اس بات سے بھی بچنا چاہیے اور شادی بیاہ کے لئے مروجہ اصولوں کو بروئے کار لانا چاہئے، خصوصا لڑکیوں کو اس قسم کے جال سے بچنا چاہئے اور اپنے ماں باپ کی مرضی اور رضا کے مطابق شادی کرنی چاہئے. 
دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں .بظاہر جو چیز دور سے خوشنما لگتی ہے ، قریب سے اسکا بھداپن اور بدنمائی واضح ہوجاتی ہے. وقتی خوشی اور مسرت کے بجائے انسان کو دائمی خوشیوں اور مسرتوں کی تمنا اور دعا کرنی چاہئے اور اسکے لئے کوششیں بھی کرنی چاہئے.سراب کے پیچھے بھاگ کر اپنا وقت، توانائیاں اور دین و ایمان تباہ کرنے کی بجائے حقیقتوں کے سامنے رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کے شر اور دھوکوں سے بچنا چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہمرکاب بنیں اور پرسکون زندگی میسر آئے.
اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھ سمیت سارے بہن بھائیوں کو دین کا صحیح علم اور فہم عطا کرے اور وہ اپنے فارغ اوقات کو مثبت انداز میں صرف کریں اور انٹر نیٹ کے منفی استعمال سے بچیں اور دوسروں کو بچنے کی تلقین کریں اور انکی اسلامی سائٹس کی جانب راہنمائی کریں۔ آمین

Monday, September 24, 2012

Scarf and women -realty of truth

Scarf and women -realty of truth

"تم نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا تھا حیا ! کہ میں ہر وقت اسکارف کیوں پیہنتی ہوں؟"

عائشے سر جھکائے لکڑی کے ٹکڑے کا کنارہ تراشتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ "
میں تمہیں بتاؤں ‘ میرا بھی دل کرتا ہے کے میں وہ خوبصورت لباس پہنوں
جو بیوک ادا میں استنبول یا اٹلی اور اسپین کی لڑکیاں پہن کر آتی ہیں۔


بلکل جیسے ماڈلز پہنتی ہیں اور جب وہ اونچی ہیل کے ساتھ ریمپ پہ چلتی آ رہی ہوتی ہیں
تو ایک دنیا ان کو محسور ہو کر دیکھ رہی ہوتی ہے۔
میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں بھی ایسے اسمارٹ اور ٹرینڈی ڈیزائنر لباس پہن کر جب سڑک پہ چلوں تو لوگ محسور و متاثر ہو کر مجھے دیکھیں۔۔۔۔۔
لیکن---
وہ سانس لینے کو رکی، حیا بنا پلک جھپکے ، سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔
"لیکن...
پھر مجھے خیال آتا ہے۔ یہ خیال کہ ایک دن میں مر جاؤں گی،
جیسے تمہاری دوست مر گئی تھی اور میں اس مٹی میں چلی جاؤں گی،
جس کے اوپر میں چلتی ہوں۔
پھر ایک دن سورج مغرب سے نکلے گا اور زمین کا جانور زمین سے نکل کر لوگوں سے باتیں کریگا اور لال آندھی ہر سو چلے گی-
اس دن مجھے بھی سب کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔
تم نے کبھی اسٹیڈیمز دیکھے ہیں جن میں
بڑی بڑی اسکرینز نصب ہوتی ہیں؟
میں خود کو ایسے ہی اسٹیڈیم میں دیکھتی ہوں۔
میدان کے عین وسط میں کھڑے۔ اسکرین پہ میرا چہرا ہوتا ہے اور پورا میدان لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔
سب مجھے ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور میں اکیلی وہاں کھڑی ہوتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں حیا،
اگر اس وقت میرے رب نے مجھ سے پوچھ لیا کہ انا طولیہ کی عائشے گل،
اب بتاؤ تم نے کیا‘ کیا؟ یہ بال‘ یہ چہرا‘ یہ جسم‘ یہ سب تو میں نے تمہیں دیا تھا-
یہ نہ تم نے مجھ سے مانگ کر حاصل کیا تھا
اور نہ ہی اس کی قیمت ادا کی تھی۔
یہ تو میری امانت تھی۔ پھر تم نے اسے میری مرضی کے مطابق استعمال کیوں نہیں کیا؟
تم نے اس وہ کام کیوں کیئے جن کو میں نا پسند کرتا ہوں؟
تم نے ان عورتوں کا رستہ کیوں چن لیا جن سے میں ناراض تھا؟"
میں نے ان سوالوں کے بہت جواب سوچے ہیں،
مگر مجھے کوئی جواب مطمئن نہیں کرتا۔
روز صبح اسکارف لینے سے پہلے میری آنکھوں کے سامنے ان تمام حسین عورتوں کے دلکش سراپے گردش کرتے ہیں
جو ٹی وی پہ میں نے کبھی دیکھی ہوتی ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ میں بھی ان کا راستہ چن لوں،
مگر پھر مجھے وہ آخری عدالت یاد آ جاتی ہے،
تب میں سوچتی ہوں کہ اس دن میں الله کو کیا جواب دوں گی؟
میں ترازو کے ایک پلڑے اپنا وہ سراپا ڈالتی ہوں جس میں،
میں خود کو اچھی لگتی ہوں اور دوسرے میں وہ جس میں،
میں الله تعٰالی کو اچھی لگتی ہوں۔
میری پسند کا پلڑا کبھی نہیں جھکتا۔
الله کی پسند کا پلڑا کبھی نہیں اٹھتا۔
تم نے پوچھا تھا کہ میں اسکارف کیوں لیتی ہوں؟
سو میں یہ اس لیئے کرتی ہوں
کیونکہ میں الله کو ایسے اچھی لگتی ہوں۔

Wednesday, September 19, 2012

True Story Of Muhammad Ali's Life Lessons Through His Daughter's Eyes

Muhammad Ali's advice to his daughters...

The following incident took place when Muhammad Ali's daughters arrived at his home wearing clothes that were not modest. Here is the story as told by one of his daughters:

When we finally arrived, the chauffeur escorted my younger sister, Laila, and me up to my father's suite. As usual, he was hiding behind the door waiting to scare us. We exchanged man
y hugs and kisses as we could possibly give in one day.

My father took a good look at us. Then he sat me down on his lap and said something that I will never forget. He looked me straight in the eyes and said, "Hana, everything that God made valuable in the world is covered and hard to get to. Where do you find diamonds? Deep down in the ground, covered and protected. Where do you find pearls? Deep down at the bottom of the ocean, covered up and protected in a beautiful shell. Where do you find gold? Way down in the mine, covered over with layers and layers of rock. You've got to work hard to get to them."

He looked at me with serious eyes. "Your body is sacred. You're far more precious than diamonds and pearls, and you should be covered too." Source: Taken from the book: More Than A Hero: Muhammad Ali's Life Lessons Through His Daughter's Eyes

Friday, August 10, 2012

Love Story

When I was little girl,
I use to look up into the sky and make a wish,
My wish was to find someone so kind and gentle in everyway,
The kind that you wish that would always stay


Without a doubt I found the one that I have always dreamed abo
ut,
I remember our first kiss which felt like bliss,
I never thought love felt like this

It's so strange in a way,
I always want you to stay
You make me feel like I could almost fly,
This love I’m feeling for you is so strong i can not lie,

You have touched my heart in so many different ways,

You make me feel like I'm in a haze,

All I have now is this kiss to you,

I’m madly deeply in love with you
[♥] Like [♥] Share [♥] Tag [♥] Comment [♥]

Thursday, August 9, 2012

CUTE STORY



'CUTE STORY'
'There was a girl.who was playing
in the park,when she saw a
picture in the bush.since that
day ,she kept it,find it,but seen

nothing until she married, his
husban asked her who is the little
boy in her wallet.The girl
answered.''MY FIRST LOVE.'' then
the boy smiled,''I LOST THIS
PICTURE WHEN I WAS 5 YEAR'S
OLD...

Wednesday, August 1, 2012

Blind Girl


There was a blind girl who was filled with animosity and despised the world. She didn't have many friends, just a boyfriend who loved her deeply, like no one else. She always used to say that she'd marry him if she could see him. Suddenly, one day someone donated her a pair of eyes.

And that's when she finally saw her boyfriend. She was astonished to see that her boyfriend was blind. He told her,
"You can see me now, can we get married?" She replied, "And do what? We'd never be happy. I have my eye sight now, but you're still blind. It won't work out, I'm sorry."

With a tear in his eye and a smile on his face, he meekly said, "I understand. I just want you to always be happy. Take care of yourself, and my eyes."

Monday, July 30, 2012

LIFE MIGHT NOT GIVE U A SECOND CHANCE. SO NEVER WASTE A MOMENT WHEN YOU CAN MAKE UP FOR YOUR DEEDS


It was their anniversary,
and Maryam was waiting for her husband Bilal to show up. Things had changed since their marriage, the once cute, Couldn’t-live without-each-other couple had turned bitter...
Fighting over every little thing, both didn't like the way things had changed. Maryam was waiting to see if Bilal remembered it was their anniversary! Just as the door bell rang she ran to find her husband, wet and smiling with a bunch of flowers in his hand. The two started reliving the old days. Making up for fights, there was then plans for dinner, a walk on the beach and much more. And rain outside! It was just perfect.

But the magical moment was paused when the phone in the bedroom rang. Maryam went to pick it up and it was a man. "Hello ma'am, I'm calling from the police station. Is this Mr Bilal Mahomed' number?" "Yes it is!" "Im sorry mam; but there was an accident and a man died. We got this number from his wallet; we need u to come and identify his body." Maryam's heart sank... WHAT ON EARTH!!!! "But my husband is here with me?" "Sorry mam, but the incident took place at 2, when he was boarding the subway. Maryam was about to lose her senses. How could this happen!? She knew these type of things she has heard about the soul of the person coming to meet a loved one before it leaves!

She ran into the other room. He was not there. It was true! He had left her for good! Oh God, she would have died for another chance to make amends for every little silly fight before now! She rolled on the floor in pain. She lost her chance! Forever!

Suddenly there was a noise from the bathroom, the door opened and Bilal came out again and said, "Hun, I forgot to tell you my wallet was stolen today"

LIFE MIGHT NOT GIVE U A SECOND CHANCE. SO NEVER WASTE A MOMENT WHEN YOU CAN MAKE UP FOR YOUR DEEDS!!! Let's start making amends with spouses, With parents, With in-laws, With siblings, With friends, With children, With everyone in short. Share love not hate, you don't know how long you've got to live really.

Monday, July 9, 2012

2nd Khalifa Hazrat Umar Farooq (RA) justices - True Story Of History


Holy Prophet's uncle Abbas (RA) was found in the Mosque of Prophet's house and the house collapses into the channel was the Prophet's Mosque. Some time to drain the water would hurt worshipers. Away the caliphate of Hazrat Umar (RA) For convenience of the worshipers were akhrua water spout. the time of Hazrat Abbas (RA) were not present in the house. Hazrat Abbas (RA) was very angry when he came home. judge, he immediately approached by e Abi Ibn Ka'b (RA) Hazrat Umar (RA) that Allah's name frman issued upon your uncle has filed suit against RA to her due date for the trial court and follow. traveling Umar b Prophet Hazrat Abi bin Ka'b to the date of RA were present at home.

Hazrat Ibn ibn Ka'b (RA) within the house were involved in resolving the problems that Hazrat Umar Farooq (RA) for a very long standing and waiting outside had not. Case was presented to some of the Hazrat Umar RA Abi bin Ka'b wanted but were stopped by and said that the first plaintiff is entitled to claim.
Hazrat Abbas (RA) began the process of case stated that Mr. superb! Channel of my house from the beginning was the Prophet's Mosque, Allah's blessings after alh information traveling in the caliphate of Abu Bakr (RA) was there. But Hazrat Umar (RA) channel in my absence I have akhrua justice is provided as my loss.
Hazrat Abi bin Ka'b (RA) said: Surely you must be fair, rich Believers! You want to say in his defense? Qazi said. Hazrat Umar RA replied: Qazi Saheb, sometimes spattered with his nose to the worshipers were flying. Worshipers of the water spout in order to rest and I think it akhrua is not permitted. Ka'b Ibn Abi (RA), Hazrat Abbas (RA) that he wishes to draw attention?
Hazrat Abbas (RA) replied: Qazi Sahib is the fact that the Messenger of Allah rejected his stick that I marked on the map, I just had open house. Water spout was himself brought before the install here. Holy He ordered me to stand on your shoulders and keep water spout here because I refuse to respect you. but many insist that the Holy Prophet and I was standing on the shoulders and put it where rich water spout Believers have the akhrua.
Qazi said that the event could produce any witnesses? Hazrat Abbas (RA) immediately went out and brought to the Ansar who testified that indeed the water spout traveling Abbas ra tu hukrnsb was standing on the shoulders of the Prophet. Trial testimony eyes bent at the end of the Caliphate He was humble way. It was awesome and they fear Caesar and vernier rulers were afraid too. Hazrat Imam Abbas ahead amrfaruq RA RA said:
Hazrat Ibn Abbas (RA) said: Yes, that justice requires such a vast empire and then saw that the power to rule on the side wall to provide justice and Hazrat Abbas (RA) channel installedApologies for bad manners.

حضور اکرمؐ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا مکان نبی کریمؐ کی مسجد سے ملا ہوا تھا اور گھر کا پر نالہ مسجد نبوی میں گِرتا تھا۔ بعض دفعہ پر نالے کے پانی سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پرنالہ اکھڑوا دیا۔ اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو انہیں بہت غصہ آیا۔ انہوں نے فوراَ قاضی سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام فرماں جاری کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا نے آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اس لیے مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ہوں اور مقدمے کی پیروی کریں۔حضر ت عمر رضی اللہ عنہ مقررہ تاریخ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ہوگئے۔

حضرت ابن بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کے اندر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف تھے اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کافی دیر باہر کھڑے ہو کر انتظار کر نا پڑا۔ مقدمہ پیش ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کچھ کہنا چاہا لیکن ابی بن کعب نے انہیں روک دیا اور کہا کہ مدعی کا حق ہے کہ وہ پہلے دعوی پیش کرے۔
مقدمے کی کاروائی شروع ہوئی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بیان دیا کہ جناب عالی! میرے مکان کا نالہ شروع سے ہی مسجد نبویؐ کی طرف تھا، رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کے بعد حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی یہیں تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری عدم موجودگی میں نالہ اکھڑوا دیا مجھے انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ میرا نقصان ہوا ہے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک تمہارے ساتھ انصاف ہوگا، امیر المومنین! آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟ قاضی نے پوچھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دیا: قاضی صاحب، اس پرنالے سے بعض اوقات چھینٹیں اڑ کر نمازیوں پر پڑتی تھیں۔ نمازیوں کے آرام کی خاطر میں نے پرنالہ اکھڑوا دیا اور میرا خیال ہے یہ ناجائز نہیں ہے۔ ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: قاضی صاحب اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کردئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں میں نے ایسے ہی کیا ۔پرنالہ خود حضورؐ نے یہاں نصب کروایا تھا۔ حضورؐ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپؐ کے کندھوں پر کھڑا ہو کر یہاں پرنالہ لگاؤں میں نے آپؐ کے احترام کی وجہ سے انکار کیا۔ لیکن حضورؐ نے بہت اصرار کیا اور میں نبی کریمؐ کے کندھوں پر کھڑا ہوگیا اور یہ پرنالہ یہاں لگایا جہاں سے امیر المومنین نے 
اکھڑوا دیا۔
قاضی نے پوچھا آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے ہیں ؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باہر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواہی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضورؐ کے کندھوں پر کھڑے ہوکرنصب کیا تھا۔ مقدمے کی گواہی کے ختم ہونے بعد خلیفہ وقت نگاہیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑا تھا۔ یہ وہ حکمران تھا جس رعب اور خوف سے قیصر و کسری بھی ڈرتے تھے۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرمایا:
"اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ نالہ خود نبی کریمؐ نے یہاں لگوایا ہے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا۔ جو غلطی مجھ سے ہوئی وہ لاعلمی میں ہوئی آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کریہ نالہ وہاں لگادیں"۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والے حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے۔ پر نالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا امیر المومنین میں نے جو کچھ کیا اپنے حق کے لیے، جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا اب میں آپ سے بے ادبی کی معافی مانگتا ہوں۔

اس کے ساتھ ہی حضر عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور امیر المومنین کو اختیار دیا کہ وہ مکان گِرا کر مسجد میں شامل کر لیں تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی سے جو تکلیف ہوئی وہ بھی کم ہوجائے ۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہماری عدالتوں کو بھی حق کا فیصلہ دینے کی توفیق دے اور ایسے حکمران بھی دئے جو خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھیں۔آمین

Monday, July 2, 2012

American Girl model booker Sara's story,In his Own language - Story of my life امریکی ماڈل گرل سارہ بوکر کی کہانی اپنی زبان

American Girl model booker Sara's story,In his Own language - Story of my life
امریکی ماڈل گرل سارہ بوکر کی کہانی اپنی زبان
Pydahuyy in New York in the heart of America. His early youth passed like an American girl. This an artifact of the great city of the U.S. Interests thakh engagingly full of life and attractiveness of participating in the race to be ahead of guidance. But which seemed to him as he appeared tall and achievements rbrhty floors are agreed, it was the confidence I had risen. in their inner space, a strange feeling ... it was a strange lack. this kamayar life was apparently higher, as confidence in her was broken. kahl he wanted, was not sjhayy mgrasy solution.
C occurred after he tired of life. Arrived buzzing msdaq tight arrival he handed over the drugs themselves, but inside the fort that had been increasing instead of diminishing. Someone advised him to keep himself busy dyakh chraskty from thinking that they know, so that women's rights spokeswoman, social worker had worked as a welfare and public welfare, in a very short period gardyy flag victory in the field, and his name started to ring kahrtrf dnka , but ... as long as the disease got worse ... the pace of drug development in the glow of his career was coming, so quickly in her self-esteem was becoming an idol Particle Particle. end of which he is kyacyz acquisition by the demands of conscience, despite thinking he had failed to understand, fail altogether.
The Nine Zero suddenly came into his life ... the destruction of the World Trade Center and Pentagon after the attacks on Islam are everywhere dykhakh. Hindus, Jews and Christians the world if their energies doing something that is against Islam and Islamic values. Islam was not interested in him, not positive or negative, that Islam is a fiction of the past, a forgotten story'' and'' a monument of stones was considered. when his ears hrtrf resonant voices erupts from the exploitation of women and Islam aursuhr foot foot house maid does more than any place, he decided that his voice should be included in the'' anti'' suruguga , but with his reputation and status in society due to begin its regular offerings. He thought at first that she be swayed by the noise, the freedom of women and bzam almbrdarhy kuys Islam is the biggest barrier to women's rights cause.
Then why ... he decided that the research should krlyny. He was sure that this research will be his Islamic opposition kabaas more intense, I did not think his paranoia and his own opinion of this research about Muslims will be radically changed, or perhaps kruaghunt'' It does not like to drink, perhaps even bother.
The research started with a senior social worker by the state and religion without any discrimination and justice for all human welfare was the appellant. After that meeting he realized that justice, humanity and universal values ​​of freedom aurahtram which are greater than other religions, Islam does utrgyb invitation. It was a great discovery, was the fact that they do not easily accept.
An Islamic research center obtained by contacting the translation of the Qur'an began to study it. First of the style and manner attracted her, then this book's ynat, about human life Abdullah also described undeniable facts and highlights the relationship of God, a comprehensive description of a book before it, a philosophy and a thinker and writer, was not in theory. he started to think that this option It can not speak of any person ... within this revolutionary recipe book as the one caused by a bhuncal. She saw that the person directly addressed to his teachings and his soul is made. described in the Quranand the mirror showed Jamil, the other major religions and faiths,'' see'' only'' Ghazi gftarky ... and finally the moment came when he decided that he wants to relax, only Islam can be achieved by accepting. its internal bay tabyun and anxiety can be cured only by faith and not practical solutions adventures have become a Muslim.
Longer than the life he could not stay away, he had converted to Islam and marry a Muslim mrdsy. A burqa, a head and neck covering askarf bought one, who is a Muslim woman's Islamic dress. All One thing that changed was some sort thabs uskun aurkud confidence and inner satisfaction that they feel safe ... freedom from the floor are now hmknar. depict his impressions in these words:
'' I was very happy that his eyes were now signs of surprise and distance, who watched me like a hawk nnhy bird hunters and their prey. Screen a large burden of my shoulders and I had a mild special kind of learned from slavery and humiliation. now lbhany hearts of others never make up for hours. was now free from this slavery. aprdh Mir was still just my whole body except hands and face is covered, I told my husband that I want to cover face, because I think it will be to convince more of my Lord, he encouraged me, they took me to a shop where I bought a full Islamic veil began to Arabic burqa. Today I took off my sexy clothes aurmgrb dlrba lifestyle of its creator, except through a decent life and to serve the notice is pleasure in uatmynanI was wrong, Praise! and appellant now I am also a supporter of women's rights, which allows Muslim women to their responsibilities adakryn faith, a good Muslim to help their husbands, their children they like to train hard and follow the religion of humanity in darkness stray light into the lighthouse.


امریکی ماڈل گرل سارہ بوکر کی کہانی اپنی زبان

میں امریکہ کے قلب نیویارک میں پیداہوئی۔ اس کی ابتدائی جوانی ایک امریکی لڑکی ہی کی طرح گزری۔اس کاایک ہی شوق تھاکہ امریکا کے عظیم شہر کی تفریح بھری زندگی کی جاذبیت اور دلکشی کی دوڑ میں حصہ لے اورسب سے آگے نکل جائے۔لیکن اسے لگتا تھا کہ اس کی کوشش جس قد ربڑھتی اور وہ جتنا بظاہر کامیابیوں کی منزلیں طے کرتی جاتی ،اس کی بے اعتمادی میں اسی قدراضافہ ہوتا جاتا تھا۔وہ اپنے باطن میں ایک انجانا سا خلا…ایک عجیب سی کمی محسوس کر رہی تھی۔اس کامعیار زندگی بظاہر جتنا اونچا ہو رہا تھا،اس کا اندر کا اعتماد اتنا ہی ٹوٹتا جا رہا تھا۔وہ اس کاحل چاہتی تھی ،مگراسے کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
آخر وہ اس زندگی سے تنگ سی آگئی ۔تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اس نے خود کو نشے کے حوالے کردیا،مگر اندر کی بے کلی تھی کہ بجائے کم ہونے کے بڑھتی ہی جارہی تھی۔کسی نے اسے مشورہ دیاکہ خود کو مصروف رکھ کر وہ ان سوچوں سے جان چھڑاسکتی ہے،چنانچہ وہ حقوق نسواں کی ترجمان سماجی کارکن کے طور پر فلاحی اور رفاہ عامہ کے کام کرنے لگی،اس نے بہت کم عرصے میں اس میدان میں بھی فتح کے جھنڈے گاڑدیے، اوراس کے نام کاہرطرف ڈنکا بجنے لگا،مگر …مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی … جس رفتار سے اس کی ترقی میں اضافہ اوراس کے کیریئر میں نکھار آرہا تھا،اسی سرعت سے اس کے اندر کی خود اعتمادی کا بت ریزہ ریزہ ہوتا جارہا تھا۔آخر وہ کیاچیز ہے جس کے حصول کا اس کے ضمیر کی طرف سے مطالبہ ہے،وہ بہت سوچنے کے باوجود سمجھنے میں ناکام تھی،یکسر ناکام۔
اچانک س کی زندگی میں نائن زیرو آگیا…ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کی تباہی کے بعد اس نے دیکھاکہ ہر طرف سے اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔ہندو،یہودی اورعیسائی دنیا اگر اپنی توانائیاں کسی چیز کے خلاف صرف کررہی ہے تو وہ اسلام اور اسلامی اقدار ہیں۔اسلام سے اسے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی،نہ مثبت نہ منفی،وہ اسلام کو ماضی کا ایک افسانہ،ایک بھولی بسری کہانی اور''پتھروں کے دور''کی ایک یادگار سمجھتی تھی۔جب اس کے کانوں میں ہرطرف سے یہ آوازیں گونجنے لگیں کہ اسلام عورتوں کا استحصال کرتا اور اسے گھر کی نوکرانی اورشوہر کے پاؤں کی جوتی سے زیادہ کوئی مقام نہیں دیتا،تواس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اپنی آواز بھی اس اسلام مخالف ''شوروغوغا''میں شامل کرلے،بلکہ اسے اس کی شہرت اور معاشرے میں ایک اسٹیٹس کا حامل ہونے کی وجہ سے اس بات کی باقاعدہ پیشکشیں ہونے لگیں۔اس نے پہلے تو سوچا کہ وہ بھی اس رو میں بہہ جائے ،کیوں کہ وہ عورتوں کی آزادی کی علمبردارہے اور بزعم خویش اسلام حقوق نسواں کی راہ کی سب سے بڑی دیوار ہے۔
پھر جانے کیوں …اس نے فیصلہ کیا کہ پہلے تحقیق کرلینی چاہیے۔اسے یقین تھا کہ اس کی تحقیق اس کی اسلام مخالفت میں مزید شدت کاباعث بنے گی،اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس تحقیق سے اس کی اپنی رائے اسلام اورمسلمانوں کے بارے میں یکسر بدل جائے گی،ورنہ شاید وہ ''یہ کڑواگھونٹ ''پینے کی شاید زحمت بھی گوارا نہ کرتی۔
تحقیق کی ابتدا اس نے ایک ایسے سینئر سماجی کارکن سے ملاقات کے ذریعے کی،جو بلا تفریق ملک و مذہب سارے انسانوں کے لیے انصاف اور فلاح و بہبود کا داعی تھا۔اس ملاقات کے بعد اسے احساس ہوا کہ انصاف،آزادی اوراحترام انسانیت آفاقی اقدار ہیں،جن کی دوسرے مذاہب سے بڑھ کر اسلام دعوت وترغیب دیتا ہے۔ یہ اس کے لیے ایک بڑا انکشاف تھا،جسے وہ آسانی سے قبول نہیں کرسکتی تھی۔
اس نے ایک اسلامک ریسرچ سینٹر سے رابطہ کر کے قرآن مجید کا ترجمہ حاصل کیا اور اس کا مطالعہ کرنے لگی۔پہلے تو قرآن کے اسلوب و انداز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا، پھر اس کتاب میں کا ئنات، انسان اور زندگی کے بارے میں بیان کردہ ناقابل تردید حقائق نیز عبد و معبود کے رشتے پر جو روشنی ڈالی گئی ہے،ایسی جامع تفصیل اسے اس سے قبل کسی کتاب،کسی فلسفے اور کسی مفکر و مصنف کی تھیوری میں نظر نہیں آئی تھی۔وہ بے اختیار یہ سوچنے لگی کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا…اس انقلابی کتاب ہدایت نے اس کے اندر گویا ایک بھونچال سا برپا کردیا۔اس نے دیکھا کہ قرآن نے اپنی تعلیمات کا مخاطب براہ راست انسان اور اس کی روح کو بنایا ہے۔اس نے قرآن میں بیان کردہ عورت کے حقوق کا مقابلہ دوسرے ادیان و مذاہب سے کیا،تو اس میں بھی اسلام کو سب سے بڑھ کر پایا،پھر اس نے حضوراکرم ۖ کے فرامین ،آپ ۖ کے صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں کو دیکھا تو قرآنی ہدایات کا کامل و مکمل نمونہ اور عکس جمیل نظر آیا،جب کہ دوسرے ادیان و مذاہب کے ''بڑے''اسے صرف ''گفتارکے غازی''نظر آئے… اور آخرکار وہ لمحہ آگیا جب اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ جس سکون کیلئے بیتاب ہے، وہ صرف اسلام قبول کرکے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔اس کی داخلی بے تابیوں اور اضطراب کا علاج صرف ایمان سے ہوسکتا ہے اور اس کے مسائل کا حل مہم جوئی میں نہیں عملی مسلمان بننے میں ہے۔
وہ اب اسلامی زندگی سے زیادہ دیر دور بھی نہیں رہ سکتی تھی،اس نے اسلام قبول کرکے ایک مسلمان مردسے نکاح کرلیا۔ اس نے ایک برقعہ اور سر اور گردن کو ڈھکنے والا اسکارف خرید لیا ،جو ایک مسلم عورت کا شرعی لباس ہے۔سب کچھ ویسا ہی تھابس ایک چیز بدلی ہوئی تھی یعنی اس کا اندرونی اطمینان وسکون اورخود اعتمادی اور تحفظ کا احساس…گویا وہ حقیقی آزادی کی منزل سے اب ہمکنار ہوئی ہو۔ وہ اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کرتی ہے:
''میں بڑی خوش تھی کہ ان آنکھوں میں اب تعجب اور دوری کے آثار تھے ،جو پہلے مجھ کو ایسے دیکھتے تھے جیسے شکاری اپنے شکار کو اور باز ننھی چڑیا کو۔ حجاب نے میرے کندھوں کے ایک بڑے بوجھ کو ہلکا کردیا اور مجھے ایک خاص طرح کی غلامی اور ذلت سے نکال دیاتھا۔اب دوسروں کے دلوں کو لبھانے کیلئے میں گھنٹوں میک اپ نہیں کرتی تھی۔ اب میں اس غلامی سے آزاد تھی۔ابھی تک میر اپردہ یہ تھا کہ صرف ہاتھ اور چہرے کو چھوڑ کر میرا پورا جسم ڈھکا ہوتا،میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں چہرہ بھی ڈھکنا چاہتی ہوں ، اس لیے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے رب کو زیادہ راضی کرنے والا عمل ہوگا،انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی،وہ مجھے ایک دکان پر لے گئے جہاں میں نے ایک عربی برقعہ خریدا اور مکمل شرعی پردہ کرنے لگی۔آج مجھے اپنے فحش لباس کو اتار کر اورمغرب کی دلربا طرز زندگی کو چھوڑ کر اپنے خالق کی معرفت و بندگی والی ایک باوقار زندگی کو اختیار کرنے سے جو مسرت واطمینان کااحساس ہوا ہے میں اس کی کوئی مثال نہیں دے سکتی …میری وہ سہیلیاں جو میرے ساتھ حقوق نسواں کے محاظ پر مصروف کار تھیں،مجھے ڈراتی تھیں کہ اسلام قبول کرکے تم ایک عضو معطل بن کر رہ جاؤ گی،مگر یہ ان کی کم فہمی یا اسلام کے بارے میں غلط سوچ تھی،الحمدللہ!اب میں بھی عورتوں کے حقوق کی حامی و داعی ہوں،جو مسلم عورتوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی ایمانی ذمہ داریوں کو اداکریں، اپنے شوہروں کی ایک اچھا مسلمان بننے میں مدد کریں،اپنے بچوں کو اس طرح تربیت دیں کہ وہ استقامت کے ساتھ دین پر جم کر اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کیلئے مینارہ نور بن جائیں''۔

Friday, June 29, 2012

My Ideology is Islam and My Life Identity is Become Pure Muslim - Story of my life

which seemed to him as he appeared tall and achievements rbrhty floors are agreed, it was the confidence I had risen. in their inner space, a strange feeling ... it was a strange lack. this kamayar life was apparently higher, as confidence in her was broken. kahl he wanted, was not sjhayy mgrasy solution.
acquisition by the demands of conscience, despite thinking he had failed to understand, fail altogether.

Islamic values. Islam was not interested in him, not positive or negative, that Islam is a fiction of the past, a forgotten story'' and'' a monument of stones was considered. when his earsIslam is the biggest barrier to women's rights cause.

about Muslims will be radically changed, or perhaps kruaghunt'' It does not like to drink, perhaps even bother.

The research started with a senior social worker by the state and religion without any discrimination and justice for all human welfare was the appellant. After that meeting he realized that justice, humanity and universal values ​​of freedom aurahtram which are greater than other religions, Islam does utrgyb invitation. It was a great discovery, was the fact that they do not easily accept.

Abdullah also described undeniable facts and highlights the relationship of God, a comprehensive description of a book before it, a philosophy and a thinker and writer, was not in theory. he started to think that this optioncompetition from other religions and religious rights of women, so it was above all to Islam, then he's hzurakrm framyn, blessed the lives of your companions looked perfect and complete example of the Quranic instructions and the mirror showed Jamil, the other major religions and faiths,'' see'' only'' Ghazi gftarky ... and finally the moment came when he decided that he wants to relax, only Islam can be achieved by accepting. its internal bay tabyun and anxiety can be cured only by faith and not practical solutions adventures have become a Muslim.

special kind of learned from slavery and humiliation. now lbhany hearts of others never make up for hours. was now free from this slavery. aprdh Mir was still just my whole body except hands and faceI was wrong, Praise! and appellant now I am also a supporter of women's rights, which allows Muslim women to their responsibilities adakryn faith, a good Muslim to help their husbands, their children they like to train hard and follow the religion of humanity in darkness stray light into the lighthouse.

وہ امریکہ کے قلب نیویارک میں پیداہوئی۔ اس کی ابتدائی جوانی ایک امریکی لڑکی ہی کی طرح گزری۔اس کاایک ہی شوق تھاکہ امریکا کے عظیم شہر کی تفریح بھری زندگی کی جاذبیت اور دلکشی کی دوڑ میں حصہ لے اورسب سے آگے نکل جائے۔لیکن اسے لگتا تھا کہ اس کی کوشش جس قد ربڑھتی اور وہ جتنا بظاہر کامیابیوں کی منزلیں طے کرتی جاتی ،اس کی بے اعتمادی میں اسی قدراضافہ ہوتا جاتا تھا۔وہ اپنے باطن میں ایک انجانا سا خلا…ایک عجیب سی کمی محسوس کر رہی تھی۔اس کامعیار زندگی بظاہر جتنا اونچا ہو رہا تھا،اس کا اندر کا اعتماد اتنا ہی ٹوٹتا جا رہا تھا۔وہ اس کاحل چاہتی تھی ،مگراسے کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
آخر وہ اس زندگی سے تنگ سی آگئی ۔تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اس نے خود کو نشے کے حوالے کردیا،مگر اندر کی بے کلی تھی کہ بجائے کم ہونے کے بڑھتی ہی جارہی تھی۔کسی نے اسے مشورہ دیاکہ خود کو مصروف رکھ کر وہ ان سوچوں سے جان چھڑاسکتی ہے،چنانچہ وہ حقوق نسواں کی ترجمان سماجی کارکن کے طور پر فلاحی اور رفاہ عامہ کے کام کرنے لگی،اس نے بہت کم عرصے میں اس میدان میں بھی فتح کے جھنڈے گاڑدیے، اوراس کے نام کاہرطرف ڈنکا بجنے لگا،مگر …مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی … جس رفتار سے اس کی ترقی میں اضافہ اوراس کے کیریئر میں نکھار آرہا تھا،اسی سرعت سے اس کے اندر کی خود اعتمادی کا بت ریزہ ریزہ ہوتا جارہا تھا۔آخر وہ کیاچیز ہے جس کے حصول کا اس کے ضمیر کی طرف سے مطالبہ ہے،وہ بہت سوچنے کے باوجود سمجھنے میں ناکام تھی،یکسر ناکام۔

اچانک س کی زندگی میں نائن زیرو آگیا…ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کی تباہی کے بعد اس نے دیکھاکہ ہر طرف سے اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔ہندو،یہودی اورعیسائی دنیا اگر اپنی توانائیاں کسی چیز کے خلاف صرف کررہی ہے تو وہ اسلام اور اسلامی اقدار ہیں۔اسلام سے اسے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی،نہ مثبت نہ منفی،وہ اسلام کو ماضی کا ایک افسانہ،ایک بھولی بسری کہانی اور''پتھروں کے دور''کی ایک یادگار سمجھتی تھی۔جب اس کے کانوں میں ہرطرف سے یہ آوازیں گونجنے لگیں کہ اسلام عورتوں کا استحصال کرتا اور اسے گھر کی نوکرانی اورشوہر کے پاؤں کی جوتی سے زیادہ کوئی مقام نہیں دیتا،تواس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اپنی آواز بھی اس اسلام مخالف ''شوروغوغا''میں شامل کرلے،بلکہ اسے اس کی شہرت اور معاشرے میں ایک اسٹیٹس کا حامل ہونے کی وجہ سے اس بات کی باقاعدہ پیشکشیں ہونے لگیں۔اس نے پہلے تو سوچا کہ وہ بھی اس رو میں بہہ جائے ،کیوں کہ وہ عورتوں کی آزادی کی علمبردارہے اور بزعم خویش اسلام حقوق نسواں کی راہ کی سب سے بڑی دیوار ہے۔

پھر جانے کیوں …اس نے فیصلہ کیا کہ پہلے تحقیق کرلینی چاہیے۔اسے یقین تھا کہ اس کی تحقیق اس کی اسلام مخالفت میں مزید شدت کاباعث بنے گی،اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس تحقیق سے اس کی اپنی رائے اسلام اورمسلمانوں کے بارے میں یکسر بدل جائے گی،ورنہ شاید وہ ''یہ کڑواگھونٹ ''پینے کی شاید زحمت بھی گوارا نہ کرتی۔

تحقیق کی ابتدا اس نے ایک ایسے سینئر سماجی کارکن سے ملاقات کے ذریعے کی،جو بلا تفریق ملک و مذہب سارے انسانوں کے لیے انصاف اور فلاح و بہبود کا داعی تھا۔اس ملاقات کے بعد اسے احساس ہوا کہ انصاف،آزادی اوراحترام انسانیت آفاقی اقدار ہیں،جن کی دوسرے مذاہب سے بڑھ کر اسلام دعوت وترغیب دیتا ہے۔ یہ اس کے لیے ایک بڑا انکشاف تھا،جسے وہ آسانی سے قبول نہیں کرسکتی تھی۔

اس نے ایک اسلامک ریسرچ سینٹر سے رابطہ کر کے قرآن مجید کا ترجمہ حاصل کیا اور اس کا مطالعہ کرنے لگی۔پہلے تو قرآن کے اسلوب و انداز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا، پھر اس کتاب میں کا ئنات، انسان اور زندگی کے بارے میں بیان کردہ ناقابل تردید حقائق نیز عبد و معبود کے رشتے پر جو روشنی ڈالی گئی ہے،ایسی جامع تفصیل اسے اس سے قبل کسی کتاب،کسی فلسفے اور کسی مفکر و مصنف کی تھیوری میں نظر نہیں آئی تھی۔وہ بے اختیار یہ سوچنے لگی کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا…اس انقلابی کتاب ہدایت نے اس کے اندر گویا ایک بھونچال سا برپا کردیا۔اس نے دیکھا کہ قرآن نے اپنی تعلیمات کا مخاطب براہ راست انسان اور اس کی روح کو بنایا ہے۔اس نے قرآن میں بیان کردہ عورت کے حقوق کا مقابلہ دوسرے ادیان و مذاہب سے کیا،تو اس میں بھی اسلام کو سب سے بڑھ کر پایا،پھر اس نے حضوراکرم ۖ کے فرامین ،آپ ۖ کے صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں کو دیکھا تو قرآنی ہدایات کا کامل و مکمل نمونہ اور عکس جمیل نظر آیا،جب کہ دوسرے ادیان و مذاہب کے ''بڑے''اسے صرف ''گفتارکے غازی''نظر آئے… اور آخرکار وہ لمحہ آگیا جب اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ جس سکون کیلئے بیتاب ہے، وہ صرف اسلام قبول کرکے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔اس کی داخلی بے تابیوں اور اضطراب کا علاج صرف ایمان سے ہوسکتا ہے اور اس کے مسائل کا حل مہم جوئی میں نہیں عملی مسلمان بننے میں ہے۔

وہ اب اسلامی زندگی سے زیادہ دیر دور بھی نہیں رہ سکتی تھی،اس نے اسلام قبول کرکے ایک مسلمان مردسے نکاح کرلیا۔ اس نے ایک برقعہ اور سر اور گردن کو ڈھکنے والا اسکارف خرید لیا ،جو ایک مسلم عورت کا شرعی لباس ہے۔سب کچھ ویسا ہی تھابس ایک چیز بدلی ہوئی تھی یعنی اس کا اندرونی اطمینان وسکون اورخود اعتمادی اور تحفظ کا احساس…گویا وہ حقیقی آزادی کی منزل سے اب ہمکنار ہوئی ہو۔ وہ اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کرتی ہے:

''میں بڑی خوش تھی کہ ان آنکھوں میں اب تعجب اور دوری کے آثار تھے ،جو پہلے مجھ کو ایسے دیکھتے تھے جیسے شکاری اپنے شکار کو اور باز ننھی چڑیا کو۔ حجاب نے میرے کندھوں کے ایک بڑے بوجھ کو ہلکا کردیا اور مجھے ایک خاص طرح کی غلامی اور ذلت سے نکال دیاتھا۔اب دوسروں کے دلوں کو لبھانے کیلئے میں گھنٹوں میک اپ نہیں کرتی تھی۔ اب میں اس غلامی سے آزاد تھی۔ابھی تک میر اپردہ یہ تھا کہ صرف ہاتھ اور چہرے کو چھوڑ کر میرا پورا جسم ڈھکا ہوتا،میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں چہرہ بھی ڈھکنا چاہتی ہوں ، اس لیے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے رب کو زیادہ راضی کرنے والا عمل ہوگا،انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی،وہ مجھے ایک دکان پر لے گئے جہاں میں نے ایک عربی برقعہ خریدا اور مکمل شرعی پردہ کرنے لگی۔آج مجھے اپنے فحش لباس کو اتار کر اورمغرب کی دلربا طرز زندگی کو چھوڑ کر اپنے خالق کی معرفت و بندگی والی ایک باوقار زندگی کو اختیار کرنے سے جو مسرت واطمینان کااحساس ہوا ہے میں اس کی کوئی مثال نہیں دے سکتی …میری وہ سہیلیاں جو میرے ساتھ حقوق نسواں کے محاظ پر مصروف کار تھیں،مجھے ڈراتی تھیں کہ اسلام قبول کرکے تم ایک عضو معطل بن کر رہ جاؤ گی،مگر یہ ان کی کم فہمی یا اسلام کے بارے میں غلط سوچ تھی،الحمدللہ!اب میں بھی عورتوں کے حقوق کی حامی و داعی ہوں،جو مسلم عورتوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی ایمانی ذمہ داریوں کو اداکریں، اپنے شوہروں کی ایک اچھا مسلمان بننے میں مدد کریں،اپنے بچوں کو اس طرح تربیت دیں کہ وہ استقامت کے ساتھ دین پر جم کر اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کیلئے مینارہ نور بن جائیں''۔




Thursday, June 21, 2012

Stories of Karachi Girls


کراچی میں اوباش لڑکوں کے کئی پڑھی لکھی اور امیر خاندانوں کی لڑکیوں سے دوستی کر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کو متعدد لڑکیوں کی جانب سے ایس درخواستین بھی موصول ہوئی ہیں ج میں متایا گیا ہے کہ ان کی فحش وڈیوز بنا کر مارکیٹ میں فروخت کی گئی ہیں۔ سٹیزن پولیس لیاسن کمیٹی اور کراچی پولیس کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں ملیر، سعودآباد ، ڈیفنس ، کلفٹن ، گلستان جوہر ، گلشن اقبال اور ناظم آباد سمیت دیگر علاقوں میں لڑکوں کے ایسے گروہ موجود ہیں جو لڑکیوں سے پلاننگ کے تحت دوستی کرنے کے بعد انہین من پسند مقامات پر بلاتے ہیں جہاں ان کو دوستی کے نام پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے
 جب کہ لڑکیوں کی ویڈیو بنا کر انہین بلیک میل کیا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکیوں کی ویڈیوز مارکیٹ میں عام کرنے کیلئے لڑکوں کے ساتھ ڈی وی ڈیزز کا کاروبار کرنے والے دکاندار ملوث ہوتے ہیں جواں عمر ، کم عمر ، بڑھی لکھی اور شریف گھرانوں کی لڑکیوں کی فحش وڈیوز کو چند ہزار روپوں کےعیوض مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ جنہیں دکاندار موبائل کلپس کی صورت میں پھیلا دیتے ہیں۔جب کہ کئی لڑکوں کے گھر والوں کو ان ہی دڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر کے بھاری رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہےکراچی پولیس کے مطابق دوستی کے نام پر لڑکیوں کی عزت اور زندگی سے کھیلنے والے ایک گروہ کو گرفتار کیا جا چکا ہے جس نے لڑکیوںکو بلیک میل اور ان کی فحش وڈیوز بنانے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوستی کے نام پر لڑکوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے والی لٹرکیاں خوف کی وجہ سے گھر والوں اور پولیس کو کچھ بھی نہیں بتاتیں جس کی وجہ سے ملزمان تک پہچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دیگر شہروں ملتاں گوجرانوالہ راولپنڈی اسلام آباد بھی ایسے ہی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن لڑکیاں رسوائی کی 
وجہ سے خاموش رہتی ہیں





زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

Monday, June 18, 2012

ماڈل گرل بننے کے شوق میں آبرو گنوا کر قاتلہ بن جانے والی لڑکی کی کہانی




ماڈل گرل بننے کے شوق میں آبرو گنوا کر قاتلہ بن جانے 

والی لڑکی کی کہانی
 




’’تزئین! تم بہت خوبصورت ہو اور ماڈلنگ کیلئے بھی آئیڈیل ہو۔ تم ماڈلنگ کیوں نہیں کرتیں؟ میں نے جب اپنے بارے میں یہ الفاظ میک اپ آرٹسٹ عینی کے منہ سے سنے تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں واقعی اتنی خوبصورت ہوں کہ ماڈل بھی بن سکتی ہوں۔ میں نے عینی سے پوچھاکہ کہیں تم میرا مذاق تو نہیں اڑارہی۔ تو عینی نے قسم کھائی کہ میں واقعی بہت خوبصورت ہوں اور مجھے ماڈل بننے کی پیشکش کی۔ ہر لڑکی کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ میں ماڈل بن کر مشہور ہوجائوں، لہذا میں نے رضامندی ظاہرکردی اور یہیں سے میرے برے دنوں کا آغاز ہوا اور اب میں ماڈل کے بجائے ایک قاتلہ بن گئی ہوں، جس نے3 افراد کا قتل کیا ہے۔ میں نے ان تین افراد کی جان لی ہے جو ماڈل بننے کی خواہش مند لڑکیوں اور لڑکوں کو نشہ آور ادویات پلاکر ان کے ساتھ زیادتی کرتے تھے اور پھر اس کی ویڈیو بناکر انہیں بلیک میل کرتے تھے۔ میں نے ان لوگوں کو مار کر مزید لڑکیوں کو بے آبرو ہونے سے بچالیا ہے اور اب چاہے مجھے سزا ہوجائے، لیکن میں نے جو کیا ہے، اس کا مجھے کوئی پچتھاوا نہیں ہے‘‘۔ تزئین عرف جیسمین ’’احوال‘‘ کو یہ سب بتانے کے بعدکچھ دیرکیلئے خاموش ہوگئی اور توقف کے بعد سر جھٹک کر کہنے لگی کہ آپ جو کچھ پوچھیں گے، اس کا میں سچا جواب دوں گی، تاکہ ماڈل بننے کی خواہشمند لڑکیاں میری کہانی سے سبق حاصل کریں اور ان درندوں کی بھینٹ نہ چڑھیں۔ تزئین عرف جیسمین نے اپنی کہانی کا آغاز کچھ اس طرح کیا: ’’ یہ 7 سے 8 ماہ پہلے کی بات ہے کہ میرا ایک سہیلی کی شادی میں ناظم آباد کے شادی ہال میں جانا ہوا۔ ہال میں میری ایک جاننے والی لڑکی نے مجھے قراۃالعین عرف عینی سے ملوایا۔ عینی نے مجھے دیکھتے ہی میری خوبصورتی کے قصیدے پڑھنا شروع کردیئے۔ اپنے حسن کی تعریف سن کر میں عینی سے دوستی کر بیٹھی۔ پھر جب عینی نے مجھے ماڈلنگ کی دنیا کے حسین خواب دکھائے اور لاکھوں روپے ملنے کی امید دلائی تو میں اس کے جال میں پھنس گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارتی ڈراموں کا گلیمر اور فلمی ہیروئنزکی پرتعیش زندگی دیکھ کر کبھی کبھار میرا بھی جی چاہتا تھا کہ کاش میں بھی کوئی مشہور ہیروئن یا ماڈل گرل ہوتی۔ لوگ میرے حسن کے دیوانے ہوتے اور میں لاکھوں میں کھیلتی اور خوب عیش والی زندگی گزارتی۔ اس کے بعد میری اور عینی کی فون پر بات چیت ہونے لگی اور ایک دن اس نے مجھے ایک اچھے ریسٹورنٹ میں اپنی کچھ خوبصورت تصویروں کے ساتھ آنے کیلئے کہا۔ میں تو جیسے اسی انتظار میں تھی۔ اس رات میں بار بار گھڑی دیکھتی رہی کہ جلدی سے صبح ہو اور میں عینی سے جاکر ملوں۔ صبح ہوئی تو میں تیار ہوکر مقررہ وقت کا شدت سے انتظار کرنے لگی۔ اس وقت میں بے حد خوش تھی، کیونکہ عینی نے مجھ سے ایک ماڈل گرل پروموٹر سے ملوانے کا وعدہ کیا تھا۔

جب میں ریسٹورنٹ میں پہنچی تو عینی کے ساتھ ایک 30 سالہ نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ عینی نے میرا اس شخص سے تعارف واجد مغل کے نام سے کرایا اور کہا کہ واجد مغل ایک بہت بڑا پروموٹر اور ڈائریکٹر ہے جو مجھے بہت جلد ایک مشہور ماڈل گرل بنادے گا۔ اس دوران واجد مغل نے مصافحہ کیلئے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں نے بھی جھجھکتے ہوئے ہاتھ آگے کردیا۔ میری ہچکچاہٹ کو دیکھ کر عینی نے مجھ سے کہا کہ شوبز کی دنیا میں ایسے ہی ملا جاتا ہے۔ ابھی عینی نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ واجد مغل بول پڑا کہ تزئین! آپ کو تو خدا نے خوب فرصت سے بنایا ہے۔ آپ تو پیدا ہی ماڈلنگ کیلئے ہوئی ہیں۔ یہ سن کر میں خوشی سے پھولی نہیں سمارہی تھی۔ اپنی خوبصورتی اور خوش نصیبی پر میں دل ہی دل میں نازکر رہی تھی۔ واجد مغل نے مجھ سے کہا کہ تم جو تصویریں لائی ہیں یہ ہیں تو اچھی، پر ان میں پروفیشنل ازم نہیں ہے۔ تم ایسا کرو کہ کسی وقت عینی کے ساتھ میرے آفس آجانا، میں تمہارا زبردست قسم کا فوٹو شوٹ کرا دوں گا۔ میں اگلے ہی دن عینی کے ہمراہ حاجی کمرشل کے ایک فلیٹ میں چلی گئی۔ وہاں واجد مغل نے ایک فوٹو گرافر اور میک اپ آرٹسٹ کو بلوا کر مجھے تیارکرایا اور میری مختلف پوز میں تصویریں بنوائیں۔ یوں میرا واجد مغل سے ملنا جلنا اور اس کے آفس ’’9T ڈگری پروڈکشن ہائوس‘‘ میں آنا جانا شروع ہوگیا۔ واجد مغل مجھے اور عینی کو اکثر آئس کریم برگر اور ڈنرکھلانے لے کر جاتا رہتا تھا۔ آہستہ آہستہ عینی نے مجھے سگریٹ اور وہسکی پلانا شروع کردی۔ میرے منع کرنے پر وہ کہتی تھی کہ اگر تم بولڈ اور گلیمرس نہیں بنو گی تو اس فلیڈ میں نہیں چل پائو گی۔ جب اسی طرح ایک دو ماہ گزرگئے تو میں نے واجد کو ماڈلنگ کا کام دلوانے کا کہنا شروع کردیا، جس پر وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا کہ ابھی ابھی تو آئی ہو۔ پہلے شوبزنس کے طور طریقے تو سیکھ لو۔ واجد مغل آگرہ تاج کا رہائشی تھا اور ایک دو بار اس نے مجھے اپنے گھر چلنے کا کہا تو میں نے کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر اسے ٹال دیا۔9T ڈگری پروڈکشن ہائوس میں اور بھی کئی ماڈلنگ اور ڈراموں میں کام کرنے کے شوقین لڑکیاں اور لڑکے آتے جاتے رہتے تھے، جن میں سے چند ایک کو واجد مغل نے ماڈلنگ اور ڈراموں میں کام بھی دلوایا تھا۔9T ڈگری میں ہی میری ملاقات ریحان نیازی سے ہوئی۔ ریحان نیازی کھاتے پیتے گھرانے کا ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ وہ مجھ میں کافی زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر میری ریحان سے گہری دوستی ہوگئی اور ایک دوسرے سے تنہائی میں بھی ملنے لگے۔ اس دوران میری ملاقات واجد مغل کے دوست ایڈووکیٹ فہیم الکریم سے ہوئی۔ اکثر دفتر میں ہماری ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ بھی ہوتی رہتی تھی۔ فہیم الکریم کی 9T ڈگری میں بڑی عزت تھی،کیونکہ ایک تو وہ واجد مغل کا دوست تھا اور دوسری جانب واجد کے ساتھ مل کر مختلف پروجیکٹس پر سرمایہ کاری بھی کرتا تھا۔ یوں ہی دن گزرتے گئے اور آخر کار میرے باربار اصرار پر واجد مغل نے مجھے ایک مقامی میگزین کے فیشن پیج کیلئے کام بھی دلوادیا۔ میرا پہلاکام سب کو پسند آیا، لہذا مجھے اوپر تلے دو تین اور کام بھی مل گئے، مگر میرا معاوضہ واجد مغل نے مجھے نہ دیا جو تقریباً 36 ہزار روپے بنتا تھا۔ میں جب بھی واجد مغل سے اپنے معاوضے کا تقاضہ کرتی تو وہ اور فہیم الکریم مجھے کہتے کہ ابھی کمپنی سے پے منٹ نہیں آئی ہے، جب آئے گی تو تمہیں دے دیں گے۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ واجد مغل مجھ میں دلچسپی لے رہا ہے،کیونکہ وہ مجھ سے اپنے ساتھ باہرکھانا کھانے کی ضد کرنے لگا تھا۔ ایک دو مرتبہ واجد مغل نے میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی تو میں نے اسے ڈانٹ دیا اور کہا کہ میں صرف ماڈلنگ کرنے آئی ہوں اور اس بات کا تذکرہ میں نے عینی سے بھی کیا۔ جس پر عینی نے کہا کہ یہ گلیمر کی دنیا ہے، یہاں سب چلتا ہے۔ واجد مغل نے تمہیں کام دلایا ہے تو اب ’’کمپرومائز‘‘ بھی کرو۔ جس پر میں نے عینی سے کہا کہ وہ واجد مغل کو سمجھائے، لیکن عینی نے میری بات ہنس کر ٹال دی۔

اس کے بعد میں جب بھی واجد مغل کے پاس جاتی تو وہ مجھ پر طنز کرتا کہ میڈم تو بڑی ماڈل بن گئی ہیں، شکایتیں کرتی ہیں۔ میری اور ریحان نیازی کی دوستی پر بھی واجد مغل کو اعتراض تھا۔ وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ تم ریحان سے دور رہا کرو۔ تمہیں اپنا کیرئیر بنانا ہے، جبکہ ریحان نیازی تمہیں اپنی ترقی کیلئے سیڑھی کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ یہ سن کر میں خاموش ہوجاتی تھی۔ اس کے بعد ایک دن عینی کا فون آیا کہ تم پروڈکشن ہائوس آجائو۔ میں وہاں گئی تو اس وقت آفس میں واجد مغل اور عینی موجود تھے۔ عینی میرے اور واجد مغل کیلئے شربت بناکر لائی اور خود یہ کہہ کر باہر چلی گئی کہ مجھے ایک کلائنٹ کو راستہ سمجھانا ہے۔ جب میں نے شربت پیا تو میرا سر بھاری ہونے لگا۔ اسی دوران واجد مغل نے میرا ہاتھ پکڑکر مجھے اپنی طرف کھینچا تو میں نے مزاحمت کی۔ اس کے بعد مجھے چکر سا آیا اورمیں بے ہوش ہوگئی۔ جب مجھے ہوش آیا تو کمرے میں میرے علاوہ واجد مغل اور عینی موجود تھے۔ میں نے فوراً واجد مغل سے پوچھا کہ اس نے مجھے کیا پلایا ہے تو اس نے مجھے جواب دینے کے بجائے اپنا موبائل فون میرے آگے کردیا، جس پر میرے ساتھ واجد مغل کی جانب سے کی جانے والی زیادتی کی ویڈیو چل رہی تھی۔ واجد مغل نے کہا کہ ماڈل صاحبہ، ویڈیو پسند آئی۔ جس پر میں رونے لگی اور میں نے واجد مغل کا موبائل اس کے سر پر دے مارا اور اس کا گریبان پکڑ لیا۔ میں نے واجد مغل اور عینی کو گالیاں دیں اورکہا کہ میں پولیس کو بتائوں گی تم لوگوں نے سازش کرکے میری عزت لوٹی ہے۔ یہ سن کر واجد مغل نے مجھ سے کہا کہ ہم یہ ویڈیو انٹرنیٹ اور ایم ایم ایس کے ذریعے پھیلادیں گے اور ایک ایم ایم ایس ریحان نیازی کو بھی کردیں گے۔ یہ سن کر میں خوفزدہ ہوگئی۔ واجد مغل اور عینی یہ بات جانتے تھے کہ میں ریحان نیازی میں دلچسپی لے رہی ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مالدار اور خوبصورت بھی تھا۔ میں نے واجد مغل کے سامنے ہاتھ جوڑے اورکہا کہ خدا کیلئے اس ویڈیوکو ڈیلیٹ کردو، لیکن وہ مجھے بلیک میل کرتا رہا کہ میں ابھی اسے ریحان نیازی کے موبائل میں بھیج رہا ہوں۔ پھر عینی نے مجھ سے کہا کہ تزئین! بڑی کامیابی کیلئے چھوٹی موٹی قربانیاں تو دینا پڑتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد میں پریشان رہنے لگی تو ریحان نیازی نے مجھ سے میری پریشانی کا سبب پوچھا۔ وہ میرا دوست بھی تھا اور میں اس سے پیار بھی کرتی تھی، لیکن اس کے باوجود میں نے اسے کچھ نہیں بتایا۔ اس دوران واجد مغل مجھے اپنے دفتر میں آنے والے مختلف لوگوں سے ملواتا رہا۔کسی کو وہ فنانسر ظاہر کرتا اورکسی کو ڈائریکٹر اور مجھے انہیں خوش کرنے کا کہتا اور پھر ویڈیو بنا کر مجھے بلیک میل کرتا۔ یہ سلسلہ جاری تھا اور میں تیزی سے برائی کی دلدل میں دھنستی جارہی تھی، جس کا مجھے بے حد ملال تھا۔ دوسری جانب ریحان نیازی میرے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مجھ سے مختلف سوالات کرنے لگا تھا۔ میں اس کو سب بتادینا چاہتی تھی کہ واجد مغل نے میرے ساتھ کیا کیا اور اب مجھے کس طرح استعمال کررہا ہے۔ آخر کار میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں ریحان نیازی کو ساری حقیقیت بتادوں گی اور پھر میں نے ریحان نیازی کو ساری حقیقت بتادی، جس پر ریحان غصے میں بے قابو ہوگیا۔ میں نے بڑی مشکلوں سے اسے سنبھالا اور کہا ہم مناسب موقع دیکھ کر اس سے بدلہ لے لیں گے۔ لیکن ریحان نیازی نے کہا کہ صرف بدلہ نہیں لینا، بلکہ میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا۔

میں سمجھی کہ اس کا غصہ اس وجہ سے ہے کہ واجد مغل نے میری عزت تار تار کردی ہے، لیکن اس نے جو انکشاف کیا، وہ میرے لئے بھی چونکا دینے والا تھا۔ ریحان نیازی نے بتایا کہ وہ بھی واجد مغل اور عینی کے ہاتھوں بلیک میل ہورہا ہے اور اب تک ان کو لاکھوں روپے دے چکا ہے۔ ریحان نیازی نے بتایا کہ اس کو واجد مغل نے عینی کے ذریعے پھنسایا ہے۔ عینی، ریحان کو اپنے گھر لے گئی تھی اور وہاں اسے شراب پلائی، جس کے نتیجے میں ریحان بہک گیا اور واجد مغل نے دونوں کی قابل اعتراض حالت میں ویڈیو بنالی۔ بعدازاں وہ ریحان نیازی کو بلیک میل کرنے لگا کہ میں یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال دوں گا اور تمہارے والد کو بھی دے دوں گا۔ اسی وقت سے ریحان نیازی واجد مغل کو رقم ادا کررہا تھا۔ میں اور ریحان نیازی دونوں واجد مغل کے ڈسے ہوئے تھے، جس پر ہم نے واجد مغل اور عینی سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ واجد مغل ہمیں فہیم الکریم سے ڈراتا تھا کہ وہ وکیل ہے اور اس کے اعلیٰ افسران سے تعلقات ہیں۔ ہم نے واجد مغل، عینی اور فہیم الکریم کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا اور مناسب موقع کی تاک میں رہنے لگے۔ پھر اچانک واجد مغل نے حاجی اسٹریٹ والا دفتر چھوڑ دیا۔ وہ میرا اور ریحان کا فون بھی اٹینڈ نہیں کرتا تھا۔ میں نے عینی سے ایک دوسری ماڈل لڑکی کے ذریعے فون پر رابطہ کرکے ان کے نئے آفس کا ایڈریس حاصل کرلیا اور ایک دن اچانک میں اور ریحان نیازی، واجد مغل کے نئے دفتر جو ڈیفنس فیز 2 ایکسٹینشن میں واقع تھا، پہنچ گئے۔ ہم نے واجد مغل سے فون ریسیو نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میں شفٹنگ میں مصروفت تھا، لہذا فون اٹینڈ نہ کرسکا۔ میں نے اور ریحان نے منصوبے کے تحت ناراضگی کے بجائے دوستی کا رویہ اختیارکر کے واجد مغل اور عینی کا اعتماد حاصل کرلیا۔ واجد مغل نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ دفتر میرا اور فہیم الکریم کا مشترکہ دفتر ہے۔ میں اس میں شوبزنس کا کام کروں گا اور فہیم اپنی وکالت کا کام کیا کرے گا۔ تمہارا جب جی چاہے، یہاں آتے جاتے رہا کرو۔ واجد مغل نے مجھ سے کہا کہ تمہاری پے منٹ بھی ملنے والی ہے، لیکن میں نے اس روز پے منٹ لینے میں کوئی خاصی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اسی طرح اگلے روز بھی شام کے وقت واجد مغل کے دفتر میں جاکر گپ شپ لگا کر ہم دونوں واپس نکلے اور ایک ریسٹورینٹ میں بیٹھ کر قتل اور پیسوں کی وصولی کی پلاننگ کرنے لگے۔ میرا خیال تھا کہ واجد مغل سے ہمیں کوئی خاص رقم ملنے کی توقع نہیں ہے اور عینی تو ہے ہی ایک معمولی سی میک اپ آرٹسٹ، ہاں البتہ فہیم الکریم مالدار پارٹی ہے۔ اگر اس کو قابو کرلیا جائے تو اچھا خاصا پیسہ وصول کیا جاسکتا ہے۔ میں نے اور ریحان نیازی نے مل کر واردات کیلئے درست وقت اور طریقہ طے کیا اور ریحان نے اگلے دن پستول لانے کا کہہ کر مجھے میرے گھرکورنگی سوکواٹر پر ڈراپ کردیا۔ مجھے اپنی ذہانت اور ریحان پر پورا بھروسہ تھا کہ ہم بدلہ لینے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور پیسہ بھی مل جائے گا اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوگی۔وہ5 ستمبرکا دن تھا۔ ریحان شام 8 بجے مجھے میرے گھر سے پک کرنے آیا۔ ہم رکشہ میں بیٹھ کرڈیفنس فیز2 میں واقع واجد کے دفتر پہنچے تو عینی اور واجد کے علاوہ ایک دو اور لوگ بھی دفتر میں موجود تھے، لیکن فہیم الکریم موجود نہیں تھا۔ میں نے عینی اور واجد سے باتوں ہی باتوں میں فہیم کے آنے کی تصدیق کروالی اور مطمئن ہوکر گپ شپ کرنے لگے۔کچھ دیر بعد غالباً ساڑھے دس بجے دیگر لوگ چلے گئے اور تقریباً ساڑھے گیارہ بجے فہیم دفتر میں آگیا۔ فہیم نے آتے ہی کہا کہ مجھے اپنے کے ای ایس سی والے کیس پر بہت کام کرنا ہے اور سر میں بھی شدید درد ہے۔کوئی خدا کا بندہ اچھی سی چائے بناکر پلا دے۔ میرے لیے یہ بہترین موقع تھا، اسی لیے میں نے فوراً کہا کہ آپ سب تھکے ہوئے ہیں، میں وی آئی پی چائے بناکر آپ سب کو پلاتی ہوں۔ یہ کہہ کر میں کچن میں چائے بنانے چلی گئی، جبکہ واجد اور ریحان لیپ ٹاپ پر ماڈلز کی تصویریں دیکھنے لگے۔ فہیم اپنے کاغذات میں گم ہوگیا اور عینی صوفے پر نیم دراز ہوکر موبائل پر باتیں کرنے لگی۔ میں نے چائے میں25سے 30 نیند کی گولیاں ڈالیں، جبکہ اپنی چائے میں نے پہلے ہی الگ کرلی تھی اور ریحان چائے نہیں پیتا تھا۔ عینی، فہیم اور واجد کو چائے کے کپ پیش کرنے کے بعد میں کچن سے اپنا کپ اٹھا لائی اور عینی کے برابر میں بیٹھ کر چائے پینے لگی۔ چائے پیتے ہی عینی پر فوراً غنودگی چھا گئی، جس کا کسی نے نوٹس نہیں لیا، جبکہ فہیم نے ایک ہی گھونٹ میں پورا چائے کا کپ پی ڈالا اور صوفے پر ہی بے ہوش ہوگیا۔ لیکن جب واجد نے چائے کا گھونٹ بھرا تو کہنے لگا کہ تزئین! تم نے اتنی کڑوی چائے بنائی ہے۔

واجد کا اتنا ہی کہنا تھا کہ ریحان اور میں نے ایک ساتھ واجد پر حملہ کردیا۔ ریحان بری طرح واجد کو پیٹنے لگا۔ اسی دوران ایک کال واجد کے موبائل فون پر آئی، جسے واجد نے ریسیوکرلیا اور ریحان سے کہا کہ خدا کیلئے مجھے مت مارو۔ ریحان نے واجد سے موبائل فون چھین کر کال کاٹ دی اور ہم دونوں اس کے ہاتھ پیر باندھ کر اسے باتھ روم میں لے گئے اور اسے لاتیں اور گھونسے مارنے لگے۔ اتنے میں واجد نے اٹھنے کی کوشش کی تو میں نے اپنے پرس سے پستول نکال کر اس پر تان لی۔ ریحان نے واجد کے بال پکڑ کر اس کا منہ کموڈ پر مارا تو اس کے ناک سے خون بہنے لگا اور پھر جنون کی حالت میں ریحان نے واجد پرگولی چلادی، جبکہ ریحان کے ہاتھ سے پستول لے کر میں نے بھی ایک گولی واجد کو ماری۔ پھر ہم باتھ روم سے باہر آئے تو میں نے عینی کو مارنا شروع کردیا اور اس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ اس دوران عینی اچانک ہوش میں آگئی اور ہاتھ پائوں چلانے لگی۔ یہ دیکھ کر ریحان نے مجھے ہٹایا اور عینی کے گلے میں رسی کا پھندا ڈال کر اسے بھی اگلے جہاں پہنچا دیا۔ اس کے فہیم الکریم کی باری تھی۔ اس پر مجھے بے حد غصہ تھا، کیونکہ پیسے ہونے کے باوجود وہ مجھے میرا معاوضہ نہیں دیتا تھا۔ میں نے اور ریحان نے پہلے فہیم کے پیر باندھے اور پھر ہاتھ، کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ اگر لمبا چوڑا فہیم الکریم ہوش میں آگیا اور قابو میں نہ آیا تو گڑ بڑ ہوجائے گی۔ جب ہم فہیم کے ہاتھ پیر باندھ کر مطمئن ہوگئے تو ہم نے اس کی جامہ تلاشی لی۔ فہیم کا پرس نکال کر اس میں موجود رقم ریحان نے اپنی جیب میں ڈالی اور اس کے دونوں موبائل فون آف کردیئے۔ ہم دونوں نے فہیم کو کسی حد تک ہوش میں لانے کی کوشش کی اور اتنے میں ریحان اپنے موبائل فون میں واجد مغل اورعینی کی لاشوں کی تصویریں بناکر لے آیا۔ جب فہیم کو کچھ ہوش آیا تو ریحان نے اس سے کہا ہم نے واجد اور عینی کا کام تمام کردیا ہے۔ فہیم نے جب دونوں کی لاشوں کی تصویریں دیکھیں تو ایک دم ہوش میں آگیا اور ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگا، جس پر ریحان نے فہیم کو مارنا شروع کردیا اور کہا کہ شرافت سے تعاون کرو، ورنہ تمہاری حالت بھی ان دونوں کی طرح کردوں گا۔ فہیم نے کہا، مجھے چھوڑ دو اور جولینا ہے، لے لو۔ تو ریحان نے فہیم سے کہا کہ ہمیں 5 لاکھ کا چیک کاٹ کردو۔ فہیم نے کہا میرے اکائونٹ میں اتنی رقم نہیں ہے، لیکن تھوڑی دیر کی بحث اور مارپیٹ کے بعد فہیم نے ہمیں سرخ قلم سے 50 ہزار کا چیک بھر کر دے دیا اور ریحان کے پوچھنے پر اپنے اے ٹی ایم کا پاس ورڈ بھی بتادیا جو ریحان نے ایک کاغذ پر لکھ لیا۔ اس کے بعد ریحان نے دوبارہ فہیم کے ہاتھ پیٹھ پر باندھ دیئے اور میں نے کہا ریحان چلو نکلو، ہمارا کام ہوگیا ہے۔ تو ریحان نے کہا، تم پاگل ہو، لیکن میں نہیں۔ یہ وکیل ہے اور اس کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ ہمیں پھانسی پر لٹکادے گا۔ فہیم نے کہا میں کسی کے سامنے تمہارا نام نہیں لونگا، لیکن ریحان نہیں مانا اور اس نے ٹیبل کی دراز میں رکھی ٹیپ سے فہیم کا منہ باندھنے کی کوشش کی۔ اس دوران فہیم ہلنے جلنے کی کوشش کرتا رہا اور اسی میں وہ صوفے سمیت اوندھے منہ گرا اور صوفہ اس پر الٹ گیا۔ ریحان، فہیم پر گولی چلانے لگا تو میں نے کہا کہ یہ کھلی جگہ ہے، فائر کی آواز دور تک جائے گی تو ریحان نے میرے کہنے پر پستول کو کمبل میں لپیٹا اور فہیم کے سر پر رکھ کر گولی چلادی جس کے نتیجے میں فہیم موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس کے بعد ریحان نے واجد کی موٹرسائیکل کی چابی اٹھائی اور ہم فلیٹ کو باہر سے کنڈی لگا کر واجد کی موٹر سائیکل پر صدرآگئے۔ آتے ہوئے ہم عینی کا پرس، اس کے کپڑے، برقعہ اور فہیم کے موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ صدر پہنچ کر ہم نے فیلکن ہوٹل میں کرائے پر ایک کمرہ لیا اور دو دن تک وہاں رہے۔ ان دو دنوں میں ہم نے صدر کی مارکیٹ میں فہیم کے دونوں موبائل عینی کے شناختی کارڈ کی کاپی دے کر بیچے اور حبیب میٹروپولیٹن بینک کی صدر زیب النسا اسٹریٹ برانچ کی اے ٹی ایم اور پاکستان چوک پر واقع ایم سی بی بینک کی برانچ سے رقم نکالی اور استعمال کرتے رہے۔ جب دو دن تک ہم نے دیکھا کہیں بھی کسی بھی طرح ہمارا نام نہیں آرہا تو میں نے اپنے بھائی کو فون کر کے صدر بلوایا اور ریحان نے واجد کی موٹر سائیکل میرے بھائی کے حوالے کردی کہ اسے اپنے گھر پرکھڑی کردو اور میں اپنے بھائی کے ساتھ ہی واجد کی بائیک پر اپنے گھر آگئی۔ میرا اور ریحان کا حسب معمول فون پر رابطہ رہتا تھا اور ہم ایک دو مرتبہ کورنگی میں ملے بھی تھے۔

پھر ایک دن مجھے پولیس والوں کا فون آیا کہ آپ کے تعلقات عینی اور واجد مغل سے تھے، جن کا قتل ہوگیا ہے تو میں نے لاعلمی ظاہرکردی، لیکن جب ایسا ہی ایک فون ریحان کے پاس بھی آیا تو ہم پریشان ہوگئے اور ہم نے فورا آپس میں رابطہ کیا۔ ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمارے فون آبزرویشن پر لگے ہوئے ہیں۔ ریحان نے مجھے کہا کہ تم پریشان مت ہو، میں پولیس والوں کو سنبھال لوں گا اور بات ادھر ادھر گھمادوں گا، لیکن اچانک ایک دن پولیس میرے گھر پر آگئی اور مجھے گرفتار کرکے ڈیفنس تھانے لے جایا گیا۔ میں بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئی تھی۔ پولیس والوں نے میرا موبائل مجھے دیا اور میرا ریحان سے رابطہ کروایا، لیکن ریحان نے اپنا نمبر بند کردیا تھا۔ وہ اپنی لوکیشن صبح وشام تبدیل کررہا تھا، تاکہ ٹریس نہ ہوسکے۔ رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے میں بہت پریشان تھی۔ مجھے ڈی ایس پی ضمیر عباسی نے کہاکہ تم ریحان کو بلوا لو، ورنہ ہمارا شک تم دونوں پر پکا ہوجائے گا اور ہم تم دونوں کو دہرے قتل کی واردات میں باقاعدہ گرفتار کرلیں گے۔ تم ریحان کوکہیں ملنے کا کہہ کر بلوالو۔ ہم معمولی تفتیش کرکے تم دونوں کو چھوڑ دیں گے۔ میں اسی چکر میں آگئی اور جب ریحان کا ایک نامعلوم نمبر سے مجھے فون آیا تو میں نے اسے ملاقات کیلئے کلفٹن بلالیا۔ ریحان مجھے ملنے کیلئے آگیا اور میری ہی نشاندہی پر اسے پولیس نے گرفتار کرلیا اور یوں ریحان اور میرے الگ الگ بیانات نے ہمیں مجرم ثابت کردیا اور ہماری نشاندہی پر ہی آلہ قتل اور دیگر چیزیں برآمد کرلی گئیں‘‘۔ اپنی روداد ’’احوال‘‘ کو سنانے کے بعد تزئین کچھ دیر کیلئے خاموش ہوئی اور پھر بولی: ’’ ماڈل بننے کی شوقین لڑکیاں پرموٹرز کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ میری کہانی ان لڑکیوں کیلئے نصیحت ہے، جو ماڈل بننے کیلئے مختلف پرموٹرز کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہیں اور میری کہانی سے ان لڑکیوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے‘‘۔’’ احوال‘‘ نے ڈیفنس میں تہرے قتل کے حوالے سے کے ای ایس سی کے وکیل فہیم الکریم کے چچازاد بھائی اور مقدمہ کے مدعی جاوید حلیم ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ 6 ستمبر 2011ء کو کے ای ایس کے ایک ذمہ دار اسامہ کو فہیم الکریم ایڈووکیٹ سے کام تھا اور وہ ان کا موبائل فون نمبر بار بار ملارہے تھے، لیکن فون بند جارہا تھا۔ انہیں اس بات پر تشویش ہوئی کہ فہیم الکریم ایڈووکیٹ کبھی اپنا موبائل فون بند نہیں کرتا تھا اور آج اس کا نمبر کیوں بند ہے۔ جب انہوں نے فہیم ایڈووکیٹ کے گھر والوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی فہیم الکریم کے موبائل فون پر فون کیا، لیکن موبائل فون مسلسل بند تھا، جس پر اسامہ نے ٹریکر کمپنی سے سے فہیم الکریم کی گاڑی نمبر کی لوکیشن معلوم کی تو پتہ چلا کہ مذکورہ گاڑی ڈیفنس فیز 2 کی اسٹریٹ پر کھڑی ہے، جس پر اسامہ نے ڈیفنس پولیس سے رابطہ کیا اور انہیں تمام صورتحال بتائی۔ ’’احوال‘‘ کو ایس ایچ او ڈیفنس راجہ مشتاق نے بتایا کہ کار نمبر بتائی گئی جگہ پر کھڑی تھی، لیکن گاڑی میں یا اس کے اردگرد کوئی اور موجود نہیں تھا۔کچھ دیر ہم گاڑی کی چھان بین کرتے رہے، مگر گاڑی پرکسی حملے یا حادثے کا کوئی نشان نہیں تھا۔ گاڑی کو ہاتھ لگاتے ہی سیکورٹی الارم بھی بجنے لگا، لیکن پھر بھی کوئی گاڑی کے قریب نہیں آیا۔ میں نے قریب ہی موجود مکینک سے گاڑی کے بارے میں پوچھا تو مکینک کہنے لگا، صاحب! گاڑی کے مالک کا تو میں کچھ نہیں بتاسکتا۔ ہاں البتہ اوپر فلیٹ میں ایک نئی فیملی آئی ہے۔ بس میاں بیوی ہیں۔ ان کو اس گاڑی میں ایک آدھ بار آتے جاتے دیکھا ہے۔ یہ سنتے ہی ہم اوپر کی جانب دوڑے۔ یہ تین منزلہ بلڈنگ پلاٹ نمبر7 پر بنائی گئی ہے، جس کے عقب میں کاروں کی ریپئرنگ کی دکانیں ہیں۔ پہلے فلور پر ہم پہنچے تو دروازے پر دستک دینے پر ایک خاتون باہر آئیں اور گاڑی کے بارے میں استفسار کرنے پر انہوں نے لاعلمی کا اظہارکیا۔ جب ہم فلیٹ نمبر2 پر پہنچے تو اس کے دروازے کو باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔ اسی اثنا میں ایڈووکیٹ جاوید حلیم بھی پہنچ گئے جو وکیل فہیم الکریم کے کزن ہیں۔ ہم نے کئی بار دروازے پر دستک دی پرکوئی جواب نہ ملا تو ہم نے دروازے کو کھولا اور اندر داخل ہوگئے۔ یہ شام ساڑھے 4 بجے کا وقت تھا اور کچھ دیر پہلے شدید بارش ہوئی تھی۔ ہم فلیٹ میں داخل ہوئے تو اندر گھپ اندھیرا تھا۔ بڑی مشکل سے لائٹ جلائی تو فلیٹ کے سامنے والے کمرے میں ایک ہولناک منظر دیکھنے میں آیا۔ صوفے پر ایک لڑکی کی تشدد زدہ لاش پڑی تھی، جبکہ صوفے کے نیچے دائیں طرف ایک مردکی لاش پڑی تھی اور ملحقہ باتھ روم میں ایک اور مرد کی لاش موجود تھی۔ مقتولین خون میں لت پت تھے۔ صوفے کے ساتھ پڑی لاش کو ایڈووکیٹ جاوید حلیم نے اپنے کزن فہیم الکریم کی حیثیت سے شناخت کیا، جبکہ دوسرا مقتول مرد واجد مغل اور مقتولہ کا نام قرۃالعین عرف عینی تھا۔ یہ واقعہ چونکہ کافی سنگین نوعیت کا تھا، لہذا میں نے فوری طور پر اپنے ڈی ایس پی ضمیر عباسی، ایس پی طارق رزاق دھاریجو اور ڈی آئی جی کمانڈر شوکت کو واقعے کی اطلاع دی اور یوں اعلیٰ افسران بھی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ لاشوں کی حالت سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ گذشتہ شب یا قریباً 12 سے 14گھنٹے قبل کی کارروائی ہے اور اس قتل کے واقعے میں ایک سے زائد لوگ ملوث ہیں۔ باتھ روم میں پڑی واجد مغل نامی نوجوان کی لاش کو دیکھ کر پتہ چلتا تھا کہ مارنے سے قبل اس پر شدید قسم کا تشدد کیا گیا ہے۔ اس کے سرکو بہت قوت کے ساتھ کموڈ کے ساتھ ٹکرایا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کی دائیں آنکھ تقریباً باہر نکل چکی تھی۔ اس کی آنکھ کے قریب اور پیٹ میں 30 بور پستول کی گولیاں بھی ماری گئی تھی۔ صوفے پر پڑی عینی کی لاش پر تشدد کے آثار واضح تھے، جبکہ عینی کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا اور اس کے سینے پر ایک گولی ماری گئی تھی، جبکہ سب سے زیادہ تشدد فہیم الکریم پر کیا گیا تھا۔ فہیم الکریم کے منہ کو سرخ رنگ کے ٹیپ سے لپیٹ بندکیا گیا تھا۔ اس کے ہاتھ پشت پر بندھے تھے اور ٹانگیں رسی سے باندھی گئی تھیں۔ مقتول وکیل کے سر پر تہہ کیا ہوا کمبل رکھ کر اس کے تالو میں گولی ماری گئی تھی، جو تھوڑی کے نیچے سے آر پار ہوگئی تھی۔ مذکورہ تہرے قتل کی واردات کے بعد ہم نے مقتولین کے موبائل فون نمبروں کی مدد سے تحقیقات شروع کیں، جن میں ریحان نیازی اور تزئین کے نمبرز بھی شامل تھے۔ ملزمان نے مقتول واجد مغل سے بھی رابطہ کیا تھا، جس پر ہم نے پہلے تزئین کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیا اور اسے شک کی بنیاد پر کورنگی سے حراست میں لیا تو اس نے دوران تفتیش قتل کا اعتراف کرلیا اور پھر اس کے ذریعے ریحان نیازی کو بلا کر اسے بھی گرفتار کرکے مقتولین کے موبائل فون اور مقتولہ عینی کا پرس، برقعہ اور دیگر سامان برآمد کرلیا۔ ’’احوال‘‘ کو مقتول فہیم الکریم ایڈووکیٹ کے کزن اور مقدمے کے مدعی جاوید حلیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ فہیم الکریم کے والد عبدالکریم اور ان کے دادا بھی وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ مقتول وکیل کو لڑکین سے ہی میوزک کمپوزنگ کا شوق تھا اور اس نے اپنے کمرے میں ایک پیانو بھی خریدکر رکھا ہوا تھا، جس پر فارغ اوقات میں فہیم مختلف دھنیں بناکر اپنا شوق پورا کرلیا کرتا تھا۔ ’’احوال‘‘ کو جاوید حلیم نے بتایا کہ فیصل نامی میوزک انسٹرکٹر فہیم کا دوست تھا اور واجد مغل اسی فیصل کا کزن تھا۔2006 ء میں فہیم نے گاناتیار کیا اور واجد نے اس گانے کی ویڈیو تیار کی جو ٹی وی چینل پر بھی چلی، لیکن مقبول نہیں ہوسکی۔ جس پر فہیم نے واجد مغل کو کہا کہ تم نے میرے پیسے برباد کردیئے اور یوں دونوں الگ ہوگئے تھے، جس کے بعد واجد مغل کافی عرصہ تک غائب رہا اور دو برس قبل ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہوگیا۔ اس نے دوبارہ فہیم سے رابطہ کیا اور فہیم نے اس کی مالی مدد کی تھی۔ ایک برس قبل واجد مغل نے فہیم سے رابطہ کرکے ملاقات کی اور منت سماجت کی کہ اس کا مستقبل تباہی کے دہانے پر ہے اور اگر فہیم اس کی کچھ مدد کردے تو وہ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوسکتا ہے، جس پر فہیم نے اس کی مدد کی اور حاجی کمرشل والے دفتر میں واجد کو جگہ دے دی اور واجد نے اس میں دوبارہ اپنی شوبزنس کی سرگرمیاں شروع کردیں، چونکہ حاجی والے آفس میں بجلی کے تعطل کا بہت مسئلہ تھا تو واجد کے مشورے پر فہیم نے حاجی کمرشل والا دفتر چھوڑ کر فیز 2 ایکسٹینشن کے اور کمرشل کے دہانے پر واقع پلاٹ نمبر کے فرسٹ فلور پر فلیٹ لے کر آفس شفٹ کرلیا تھا اور پھر وہاں پر اس کا قتل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قاتل تزئین اور ریحان نیازی کو نہیں جانتے ہیں، ان دونوں کو تو انہوں نے گرفتاری کے بعد دیکھا ہے۔